مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


2025 میں پاکستانی اقلیتوں کی امیدوں کا قتل اور ریاست کی بے حسی

2025 میں پاکستانی اقلیتوں کی امیدوں کا قتل اور ریاست کی بے حسی

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

تحریر: خالد شہزاد

پاکستان کی تاریخ میں سال 2025 ایک ایسے دور کے طور پر یاد رکھا جائے گا جہاں سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران نے جہاں پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا، وہی ملک کی مذہبی اقلیتیں (مسیحی، ہندو، سکھ اور احمدی) ایک بار پھر “غیر محفوظ پاکستان” کے کٹہرے میں کھڑی نظر آئیں۔ یہ سال جہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اقتدار کی کھینچا تانی کی نذر ہوا، وہیں اقلیتوں کے لیے یہ سال جبری تبدیلیِ مذہب، کم عمری کی شادیوں اور ریاستی ناانصافی کا ایک طویل تسلسل ثابت ہوا۔22

جبری تبدیلیِ مذہب: قانون کی بے بسی اور سندھ کا نوحہ22

سال 2025 میں سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا (کے پی) میں جبری تبدیلیِ مذہب کے واقعات تھمنے کے بجائے مزید شدت اختیار کر گئے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) اور دیگر غیر سرکاری تنظیموں کے فراہم کردہ ابتدائی شماریات کے مطابق، سال 2025 میں جبری تبدیلیِ مذہب کے 130 سے زائد مستند کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سے اکثریت سندھ کے اضلاع تھرپارکر، عمرکوٹ اور گھوٹکی سے تھی۔

ان کیسز میں سب سے زیادہ افسوسناک پہلو “کم عمری کی شادیاں” رہیں۔ 2025 کے وسط میں کشمور کی 14 سالہ ریٹا کماری کا واقعہ اس کی بدترین مثال ہے۔ ریٹا کو اغوا کیا گیا، زبردستی کلمہ پڑھایا گیا اور پھر ایک بڑی عمر کے شخص سے اس کی شادی کر دی گئی۔ عدالت میں میڈیکل رپورٹ نے اس کی عمر 14 سال ثابت کی، لیکن روایتی دباؤ اور مذہبی کارڈ کے سامنے انصاف کی راہداریاں ایک بار پھر ناکام ثابت ہوئیں۔ پنجاب حکومت نے اگرچہ کچھ انتظامی تبدیلیاں کیں، مگر زمینی سطح پر پولیس اور مقامی بااثر افراد کا گٹھ جوڑ ان قوانین کے آڑے آتا رہا۔ایوانوں کی خاموشی اور سیاسی مصلحتیں ایک بار پھر سامنے آئی کہ اقلیتوں کی آواز نہ تو ایوانِ بالا (سینیٹ) میں گونجی اور نہ ہی ایوانِ زیریں میں ان کے زخموں کا مداوا ہوا۔ سیاسی جماعتوں نے اقلیتی نشستوں کو محض ووٹ بینک اور عالمی برادری کو دکھانے کے لیے استعمال کیا۔ جب بھی جبری تبدیلیِ مذہب کے خلاف بل لانے کی کوشش کی گئی، اسے “مذہبی جذبات” کے نام پر سرد خانے کی نذر کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ 2025 میں انصاف کی راہداریاں اقلیتی برادری کے لیے ایک ایسا بھول بھلیاں بن گئیں جہاں سے واپسی کا راستہ صرف خاموشی یا ملک چھوڑنا ہی بچا تھا۔

کرسمس کا تنازع: انصار عباسی اور نظریاتی حملہ

دسمبر 2025 میں جہاں مسیحی برادری اپنے مذہبی تہوار کی تیاریوں میں مصروف تھی اور حکومت نے ظاہری طور پر کرسمس کی تقریبات کو سرکاری سطح پر منا کر اپنی “رواداری” دکھانے کی کوشش کی، وہیں پاکستان کے سینئر صحافی انصار عباسی کے ایک متنازع بیانیے نے پوری فضا کو مکدر کر دیا۔ انصار عباسی نے کرسمس کی مبارکباد اور تقریبات کو نظریاتی بنیادوں پر متنازع بنا کر پیش کیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ اقدام محض ایک انفرادی رائے نہیں تھی بلکہ اس کا مقصد تحریکِ لبیک (TLP) جیسے شدت پسند گروہوں کے مردہ جسم میں نئی جان ڈالنا تھا۔ اس بیانیے نے اقلیتوں کے زخموں پر نمک پاشی کی اور انتہا پسند عناصر کو یہ شہہ دی کہ وہ سرِ عام اقلیتوں کے عقائد کو نشانہ بنا سکیں۔ پادری کامران کا قتل گوجرانوالہ کا سیاہ دن تھا جب دسمبر 2025 کے اوائل میں بڑا سانحہ گوجرانوالہ میں پادری کامران کا بہیمانہ قتل تھا۔ انہیں سرِ عام فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا، جس نے ملک بھر میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔ لیکن اس واقعے کا سب سے شرمناک پہلو پنجاب پولیس کا رویہ تھا۔ پولیس نے اصل قاتلوں اور پسِ پردہ محرکات کو بے نقاب کرنے کے بجائے مقتول کی اہلیہ پر ہی قتل کا مبینہ الزام لگا دیا۔یہ ایک ایسا حربہ تھا جس نے نہ صرف مسیحی برادری کے خدشات میں اضافہ کیا بلکہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی “اقلیت دوست پالیسی” کا پول بھی کھول دیا۔ پولیس کی اس کارروائی کو اقلیتی رہنماؤں نے “کیس کو دبانے اور مذہبی جنونیوں کو بچانے کی کوشش” قرار دیا۔ اس واقعے نے یہ سوال اٹھا دیا کہ کیا پاکستان میں اقلیتی شہری کو مرنے کے بعد بھی انصاف ملنا ناممکن ہے؟شماریاتی آئینہ 2025 کی تلخیاں ٹارگٹ کلنگ 2025 میں مذہبی بنیادوں پر اقلیتوں کے کم از کم 18 افراد کو ٹارگٹ کیا گیا اور عبادت گاہیں پنجاب اور سندھ میں 12 سے زائد مندروں اور گرجا گھروں پر حملے یا توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے۔وفاقی حکومت نے اقلیتی فنڈز کا 70 فیصد صرف اشتہاری مہم اور دکھاوے کی تقریبات پر خرچ کیا، جبکہ عملی تحفظ کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھایا گیا۔اسٹیبلشمنٹ کی بدلتی پالیسی ایک سوالیہ نشا “نرم امیج” پیش کرنے کی بہت کوششیں کی گئیں، لیکن پادری کامران کے کیس میں پولیس کا رویہ اور انصار عباسی جیسے افراد کو کھلی چھوٹ دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست آج بھی مصلحت پسندی کا شکار ہے۔ ایک طرف کرسمس کے کیک کاٹے جاتے ہیں تو دوسری طرف اقلیتی برادری کی بیٹیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ریاست مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔سال 2025 پاکستانی اقلیتوں کے لیے ایک کٹھن سال رہا۔ اگر حکومت، عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ نے اپنی روش نہ بدلی اور جبری تبدیلیِ مذہب جیسے ناسور کے خلاف عملی اقدامات نہ کیے، تو عالمی سطح پر پاکستان کا وقار مزید متاثر ہوگا۔ پاکستان کے سفید رنگ کو صرف پرچم میں نہیں، بلکہ معاشرے میں بھی جگہ دینی ہوگی۔ پادری کامران کا خون اور ریٹا کماری کی سسکیاں اور آج بھی انصاف کی منتظر اور انصار عباسی جیسے صحافی انٹر فیتھ ہارمنی اور مختلف مزاہب کو قریب لانے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author