مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


مجاہد کشمیر غازی محمد ایاز خان

مجاہد کشمیر غازی محمد ایاز خان

 

شیخ عزیز الرحمن
سرزمین احمدپورشرقیہ میں تاریخی قصبہ ڈیرہ نوا ب صاحب میں مقیم ایک بزرگ شخصیت جسے آج بھی یہ شوق و جذبہ ہے ہ وہ جہاد میں حصہ لیں ہر سماجی تقریب کے روح رواں غازی کشمیر محمد ایاز خان کی آج بھی یہ آرزو ہے کہ مجاہدین کشمیر کی کوئی جماعت اپنے دفتر کی صفائی کیلئے مجھے چُن لے تو میں اسے اپنی خوش قسمتی سمجھوں گا۔ نفسا نفسیکے اس عالم میں سماجی خدمت کا علَم اُٹھائے اللہ کا یہ بندہ جسے زمانہ غازی ایاز خان کے نام سے جانتا ہے۔ اج 17 مارچ ان کا یوم وصال ہے ۔غازی کشمیر لیفٹیننٹ ریٹائرڈ محمد ایاز خان 9جون 1880 کو حویلی سید باقر حسین جعفری، متصل دربار عالیہ امام ناصرالدین شہید کے فیاض خان نامی لائٹ انسپکٹر بلدیہ کے ہاں علاقہ سونی پت انڈیا میں پیدا ہوئے ان کی والدہ ماجدہ فخرالحکماء حکیم ولی محمد مجبور میر ٹھی کی صاحبزادی تھیں۔ گھرانہ دین کا شیدا اور باعمل مسلمانوں کا مسکن تھا۔ آپ نے پرائمری تعلیم مشہد شریف سے حاصل کی۔ دوران تعلیم پرائمری کے ایک استاد نے انہیں ”حبشی“ کا تخلص دیا۔ ایم۔ بی مڈل سکول سے مڈل کا امتحان پاس کرنے کے بعد شامل ہندو ہائی سکول میں داخلہ لیا اور زندگی کے ہر نشیب و فراز سے گزرے۔ تحصیل کے چپراسی کے اُمیدوار اور محرر چونگی بھی رہے۔ 1934 میں محکمہ آثار قدیمہ کے سٹور صفدر جنگ میں پہلے چوکیدار مقرر ہوئے پھر ترقی کرکے پاٹری سارٹر(Pottery Sorter) بنے۔ 1942 میں فوج میں سپاہی بھرتی ہوئے اور ترقی کر کے برطانوی انڈین آرمی میں حوالدار بنے۔ 1947 میں بطور رضا کار (بلا تنخواہ اور بغیر وردی) جہاد کشمیر میں حصہ لیا۔ ڈوگروں نے ان پر مظالم کے پہاڑ ڈھادئیے۔ ان کی بیوی ندیم خاتون دختر مجید خان ننھے بیگ اور ان کے دو معصوم بچوں کو شہید کر کے انکے گھر واقع موضع اکبر پور باروٹہ کو آگ لگادی۔ اسی آگ میں آپ کا تمام اثاثہ اور کئی ہزار کتابوں پر مشتمل قیمتی لائبریری بھی جل کر خاکستر ہوگئی۔ ایاز خان صاحب اُن دنوں پُونا (بمبئی) میں تھے۔ نومبر 1947 میں فوج سے استعفیٰ دیا اور مجاہدین کے ساتھ جہاد کشمیر میں شامل ہوگئے اور بہادری کے جوہر دکھائے اور امتیازی سند کا جنگی اعزاز حاصل کیا۔ دوسری بار انہیں ملازمت پر لیفٹیننٹ کے عہدے پر ترقی ملی۔ ڈپٹی اسسٹنٹ ایڈجوننٹ کوارٹر ماسٹر جنرل 3 سیکٹر بھی رہے۔ اس کے بعد کئی سال تک سابق ریاست بہاولپور کے کمانڈر ان چیف جنرل مارڈن کے پرسنل سیکریٹری اور نواب آف بہاولپور سرصادق عباسی کے ہاں 30 سال تک ملازم رہے اور 1959 سے پاکستان آرمی سے پنشن پر ہوگئے۔ 1965 میں عسکری خدمات پر آپ کو گورنر کی طرف سے خصوصی سند دی گئی جبکہ 1971 میں آپ جنگی قیدی بھی رہے۔ غازی ایاز خان نے 1948 میں متوفی مہتاب خان آف سونی پیشی کی دختر شمشاد بیگم سے دوسری شادی کی جس سے ان کے 9بچے پیدا ہوئے۔ جس میں 3 لڑکے اور 6 لڑکیاں پیدا ہوئیں۔ آپ خواجہ حسن نظامی ؒ کے مرید ہیں۔ دینی، سماجی اور ادبی پروگراموں میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ سیاسی طو رپر صوبہ بہاولپور کے حامی ہیں۔ جبکہ 1975 میں ملک گیر سماجی تنظیم پاکستان سوشل ایسوسی ایشن (جس کے بانی سرپرست قائد اعظم محمد علی جناح ؒ تھے) کے ساتھ منسلک ہوئے اور اپنی محنت اور لگن سے اس کے مرکزی صدر بن گے۔ سینکڑوں سماجی تقاریب منعقد کرائیں جس میں وزیر اعظم۔ صدر اور منسٹرز نے شرکتیں کیں۔ انجمن اشاعت سیرت النبی ﷺ کے بھی سیکریٹری جنرل رہے۔ 1990 میں تبلیغ جہاد کونسل پاکستان تشکیل دی اور اس کے چیئرمین بنے۔ اسکے علاوہ کئی سرکاری و غیر سرکاری کمیٹیوں کے ممبر رہے۔ آپ کی زندگی نہایت فقیرانہ ہے۔ پوری زندگی کو حضرت ابو زر غفاری ؒ کی پیروی میں گزار رہے ہیں۔ بغیر جہیز کے لڑکیوں اور لڑکوں کی شادیاں کراتے ہیں۔ غازی ایاز خان ایک مبلغ بھی ہیں اور واعظ بھی۔ سوشل ورکر بھی ہیں اور ایک مجاہد بھی۔ اللہ کے دین کی سربلندی اور مخلوق خدا کی خدمت او جہاد ان کی زندگی کا مشن ہے۔ انہوں نے اپنی ایسوسی ایشن سے ملک بھر میں ہزاروں نامور شخصیات اور اپنے اپنے ہنر میں یکتا افراد کو مختلف حوصلہ افزائی کے ایوارڈز گولڈ میڈلز عنایت فرمائے پاکستان کے موجودہ چیف اف دی ارمی سٹاف جنرل عاصم باجوا جس یونٹ میں اج ہیں اسی یونٹ میں قاضی کشمیر نے بھی ملازمت کی غازی کشمیر محمد ایاز خان کا ایک بہت بڑا کارنامہ سیف علی جنجوعہ کو نشان حیدر دلوانا ہے چونکہ سیف علی جنجوعہ بطور نائک ان کی ریجمنٹ میں تعینات تھے اور انہوں نے شہادت کا رتبہ کشمیر محاز پر حاصل کیا جب کشمیر کا سب سے بڑا نشان ہلا ل کشمیر انہیں عطا کیا گیا تو اس کے بعد مسلسل 35 سال تک لیفٹیننٹ محمد ایاز خان نے حکومت پاکستان منسٹر اف ڈیفنس اور پاک فوج کے ساتھ خط و کتابت کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنی پٹیشن پر قائم رہے کہ حلال کشمیر پاکستان کے نشان حیدر کے برابر ہے اس لیے سیف علی جنجوعہ کو قیام پاکستان کے بعد ان کے ہلال کشمیر کے متبادل نشان حیدر عطا فرمایا جائے اور اخر کار ان کی کوششیں بر امد ثابت ہوئی اور سیف علی جنجوہ کو کچھ سال قبل ہی نشان حیدر عطا کیا گیا ۔غازی محمد ایاز خان ایک پکے اور سچے مسلمان اور پاکستانی تھے ان کے ساتھ ایک بڑا عرصہ میری ملاقات رہی اور ان سے میں نے سوشل سیکٹر کے حوالے سے بہت سا کام بھی سیکھا وہ اکثر نوجوانوں کو اپنے پاس بلایا کرتے اور انڈیا کی بربادی اور پاکستان کی کامیابی کے لیے یک نکاتی ایجنڈا پیش کیا کرتے تھے کہ انڈین چیزوں کا بائیکاٹ انڈین فلموں کو دیکھنے وہ گناہ سمجھا جائے تو انڈیا کا بیڑا غرق ہو سکتا ہے غازی محمد ایاز خان کے برخوردار جاوید ایاز خان بینک سے ریٹائرمنٹ کے بعد اج کل مسلسل بہترین کالم نویس بن چکے ہیں ان کے خاندان کے متعدد افراد جن میں شاہ نواز خان ریجنل ہیڈ ایس پی او پاکستان ۔ان کے برخودار منظور ایاز خان ان کے بھائی فیاض سونی پتی ایک بزرگ صوفی سرفراز علی خان اف کوٹ ادو سمیت اہم ترین شخصیات ان کے خاندان میں جنم لی اور اج وہ پاکستان کی خدمت کے لیے اپنے جد امجد غازی محمد ایاز خان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں اللہ پاک غازی محمد ایاز خان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب عطا فرمائے

 

HumDaise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos