Author Editor Hum Daise View all posts
خالد شہزاد
اکستان میں کم عمر کی شادی (Child Marriage) کا معاملہ عرصہ دراز سے سماجی، قانونی اور مذہبی بحث کا مرکز رہا ہے۔ حالیہ پارلیمانی بیانات اور صوبائی قوانین کے مابین تضاد نے اس حساس موضوع کو ایک بار پھر گرما دیا ہے، جس سے نہ صرف انسانی حقوق کے علمبردار بلکہ اقلیتی برادریاں بھی شدید تشویش کا شکار ہیں۔جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانافضل الرحمان نے پارلیمنٹ کے جاری اجلاس میں اپنی تقریر میں کہا “ کہ وہ چاہتے ہیں کہ 10 سال کی عمر کی بچی سے شادی کرو۔” اسی طرح کم عمری کی شادی کے قانون پر حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ ان کا ایک اور شادی کا دل نہیں، ورنہ وہ کسی 16 سالہ لڑکی سے شادی کر کے دکھاتے اور حکومت کو کہتے کہ کر لو جو کچھ کرنا ہے۔ مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو تجویز دیتا ہوں کہ چاروں صوبوں میں اجتماعی شادیوں کا انعقاد کریں چاہے بچیاں 18 سلا کم عمر ہی کیوں نہ ہوں۔ میں سوچتا ہوں یہ لوگ شریعت وغیرہ کے نام پر خود تو کسی کم عمر بچی سے شادی کیلئے فوری تیار ہو جاتے ہیں اور یہ دیکھے بغیر کہ 12، 13 یا 14، 15 سال کی عمر ابھی کھیلنے کی عمر ہوتی ہے۔ پڑھنے کی عمر ہوتی ہے۔ اس کم عمر میں شادی بچی کیلئے کئی طبی و نفسیاتی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
دو تین بیویاں ہوں، کہ یہ اسلام کا “حکم” ہے؟ یا دیگر مذہبی و سیاسی رہنماؤں کی جانب سے جب کم عمری (جیسے 10 سال) کی شادی یا نکاح کے حق میں بیانات سامنے آتے ہیں، تو اس کے اثرات صرف قانون سازی تک محدود نہیں رہتے بلکہ اسکا براہ راست شکار اقلیت سے تعلق رکھنے والی غریب کم عمر لڑکیاں ہیں۔مذہبی حلقوں کا ایک بڑا حصہ “بلوغت” کو بنیاد بناتا ہے، جبکہ جدید طبی سائنس اور عالمی قوانین 18 سال کو ذہنی اور جسمانی پختگی کی عمر قرار دیتے ہیں، لیکن جب کسی اقلیت کی کم عمر بچی غربت کے باعث یا پھر خاندانی تعلقات کے تحت یا پھر کسی اور بہکائے کے تحت جنسی زیادتی یا جذبات کی رو میں بہہ کر گھر سے چلی جاتیں ہیں تو نکاح سے پہلے کیے گئے جرائم کو چھپانے کی خاطر پہلے مدرسہ سے قبول اسلام کا سرٹیفیکٹ لیا جاتا ہے اور بعد میں کورٹ سے بچی کی لا علمی، کم تعلیم کا فائدہ اٹھا کر سادہ سٹامپ پیپر پر بیان حلفی کے بعد نکاح کیا جاتا ہے جو نا صرف بچی کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ اسکے والدین سے ایک ہی رات میں بچی چھین لی جاتی ہے، جس کو متعلقہ تھانہ اپنا مزہبی فریضہ سمجھ کر کاروائی سے گریز کرتا ہے اور مزہبی حلقے بلوغت کو بنیاد بنا کر معاملات کو پیچیدہ اور شرعی بنا کر پیش کرکے سب کے منہ بند کر دیتے ہیں، اور ساتھ ہی قانونی پیچیدگیاں کم عمر بچی سے والدین کو دور کر دیتی ہیں۔جبکہ جدید طبی سائنس اور عالمی قوانین 18 سال کو ذہنی اور جسمانی پختگی کی عمر قرار دیتے ہیں۔پارلیمنٹ جیسے معتبر فورم پر اس طرح کے بیانات بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تشخص کو متاثر کرتے ہیں اور مقامی سطح پر قدامت پسند عناصر کو تقویت ملتی ہے جسکی وجہ سے جبری تبدیلی مزہب اور کم عمر شادی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، ایسے بیانات سے نا صرف پاکستانی اقلیتوں میں سراسیمگی کی وجوہات بڑھ رہی ہیں بلکہ وہ نفسیاتی اور سما جی عدم تحفظ کا شکار بھی ہیں۔
پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے حالیہ برسوں میں کم عمری کی شادیوں اور اقلیتی بچیوں کے تحفظ کے حوالے سے چند انتہائی اہم فیصلے دیے ہیں، جو قانون کی بالادستی کی مثال بن چکے ہیں۔
یہاں کچھ اہم عدالتی نظائر (Precedents) پیش ہیں:
۱. سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی فیصلہ (عارفہ بنام ریاست)
اس کیس میں سندھ ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ چونکہ سندھ میں شادی کی قانونی عمر 18 سال ہے، اس لیے اگر کوئی لڑکی اپنی مرضی سے بھی نکاح کرتی ہے لیکن اس کی عمر 18 سال سے کم ہے، تو وہ نکاح غیر قانونی تصور ہوگا۔ عدالت نے قرار دیا کہ “بلوغت” کی جسمانی علامتوں سے زیادہ ریاست کا بنایا ہوا “عمر کا قانون” مقدم ہے۔ اس فیصلے نے جبری تبدیلیِ مذہب کے بعد ہونے والے نکاحوں کو روکنے میں بڑی مدد دی۔
۲. نایاب بمقابلہ ریاست (پنجاب ہائیکورٹ)
لاہور ہائیکورٹ نے ایک فیصلے میں قرار دیا کہ بچی کے والدین یا سرپرست کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس کی کم عمری میں شادی کروا دیں۔ عدالت نے پولیس کو پابند کیا کہ وہ نکاح خواں کے خلاف فوری کارروائی کرے جس نے شناختی دستاویزات (B-Form) دیکھے بغیر نکاح پڑھایا۔
۳. میشا والٹر کیس (مسیحی بچی کا تحفظ)
یہ کیس عالمی سطح پر بھی زیرِ بحث رہا۔ ایک کم عمر مسیحی لڑکی کو اغوا کر کے زبردستی نکاح کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ عدالت نے بچی کے میڈیکل ٹیسٹ اور اسکول سرٹیفکیٹ کو بنیاد بنا کر اسے اس کے والدین کے حوالے کیا اور قرار دیا کہ کم عمری میں کیے گئے کسی بھی قسم کے معاہدے یا بیانات کی قانونی حیثیت مشکوک ہوتی ہے۔
عدالتی فیصلوں نے معاشرے اور انتظامیہ پر درج ذیل اثرات مرتب کیے ہیں، جسکی وجہ سے پولیس محض “لڑکی کے بیان” پر کیس بند نہیں کر سکتی، بلکہ اسے عمر کے ثبوت فراہم کرنا لازمی ہوتے ہیں۔
نکاح خوانوں کا ڈر: سخت سزاؤں اور لائسنس کی منسوخی کے خوف سے اب اکثر نکاح خواں کم عمر بچیوں کا نکاح پڑھانے سے کتراتے ہیں۔جب عدالتیں مذہب سے بالاتر ہو کر قانون کی بنیاد پر فیصلہ دیتی ہیں، تو اقلیتی برادریوں میں تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
عدالتی فیصلوں کے باوجود، معاشرے میں موجود کچھ عناصر “مذہبی تشریح” کو ڈھال بنا کر ان قوانین کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں ہونے والی حالیہ بحث اسی لیے تشویشناک ہے کہ اگر مقننہ (Lawmakers) ہی قانون کی روح کے خلاف بات کریں گے، تو عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد مشکل ہو جائے گا۔
کلیدی نکات اور قانونی تحفظ
۱. سندھ کا ماڈل (زیادہ سخت)
سندھ میں یہ قانون زیادہ جامع ہے کیونکہ وہاں شادی کی عمر کو صنف کے فرق کے بغیر 18 سال مقرر کیا گیا ہے۔ یہ خاص طور پر اقلیتی بچیوں کے تحفظ کے لیے اہم ہے، کیونکہ عدالتیں اب 18 سال سے کم عمر کی تبدیلیِ مذہب اور نکاح کو اس قانون کے تحت چیلنج کر سکتی ہیں۔
۲. پنجاب میں حالیہ پیش رفت:
پنجاب میں حال ہی میں سزاؤں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مقامی حکومتوں اور یونین کونسل کے نظام کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ نکاح نامہ کی رجسٹریشن کے وقت کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ (CNIC) یا ‘ب فارم’ کی موجودگی کو یقینی بنائیں۔
۳. عدالتی مداخلت کا اختیار:
دونوں صوبوں میں مجسٹریٹ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر اسے اطلاع ملے کہ کسی کم عمر بچی کی شادی ہو رہی ہے، تو وہ شادی کو روکنے کا حکم امتناعی (Stay Order) جاری کر سکتا ہے، حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو فوری گرفتار کروا سکتا ہے۔
اقلیتوں کے لیے ان قوانین کی اہمیت:
ان سخت قوانین کی موجودگی میں جب کوئی سیاسی یا مذہبی رہنما کم عمری کی شادی کی حمایت کرتا ہے، تو قانونی طور پر وہ ایک جرم کی ترغیب دے رہا ہوتا ہے۔ اقلیتی برادریوں کے لیے یہ قوانین ایک “ڈھال” کی مانند ہیں جنہیں استعمال کر کے وہ جبری نکاح جیسی سماجی برائیوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
ذیل میں اس صورتحال کا ایک جامع جائزہ پیش ہے:
۱. صوبائی قوانین اور وفاق کا تضاد
پاکستان میں اٹھارویں ترمیم کے بعد صحت اور سماجی بہبود کے معاملات صوبوں کے پاس ہیں، جس کی وجہ سے کم عمری کی شادی سے متعلق قوانین میں فرق پایا جاتا ہے:
سندھ پہلا صوبہ تھا جس نے Child Marriage Restraint Act 2013 کے تحت شادی کی قانونی عمر لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے 18 سال مقرر کی اور اسے ایک قابلِ دست اندازی پولیس جرم قرار دیا۔ پنجاب میں حال ہی میں قوانین کو مزید سخت کیا گیا ہے۔ اگرچہ وہاں شادی کی عمر پر بحث جاری رہتی ہے، مگر رجسٹریشن اور سزاؤں کے حوالے سے ضوابط کو سخت بنایا گیا ہے تاکہ چھوٹی عمر کی شادیوں کی حوصلہ شکنی ہو سکے اور وفاقی دارالحکومت اور دیگر علاقوں میں اب بھی کئی جگہوں پر 1929 کے پرانے قانون کے تحت لڑکی کی عمر 16 سال تصور کی جاتی ہے، جس پر انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل تنقید کر رہی ہیں۔
پاکستان کو ایک جدید ریاست کے طور پر اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں اور انسانی حقوق کے چارٹر پر عمل کرنا ہوگا۔ قوانین میں موجود ابہام کو ختم کرنا اور تمام شہریوں (بشمول اقلیتوں) کو یہ یقین دلانا ضروری ہے کہ قانون ان کی بیٹیوں کا محافظ ہے
















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *