مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیاں اور طلباء کے لئے دشواریاں

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیاں اور طلباء کے لئے دشواریاں

  مشتاق خوشی Author Editor Hum Daise View all posts

 

مشتاق خوشی

پاکستان میں موسیماتی تبدیلی اب صرف خبروں میں خشک موضوع نہیں، بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمارے بچوں کے مستقبل یعنی تعلیمی نظام کو براے راست نگل رہی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق، پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے باعث سب سے زیادہ متاثر ممالک میں شامل ہے اور اس کا اثر تعلیمی شعبے پر انتہائی تباہ کن ثابت ہور ہا ہے۔
پچھلے کچھ سالوں سے شدیدگرمی کی لہروں نے تعلیمی کیلنڈر (Smog) سموگ اور(Heatwaves) کوتباہ کرکے رکھ دیا ہے پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں مئی کے مہینے میں ہی شدید گرمی کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند کرنے پڑتے ہیں یاسکول کے اوقات کار کم کر دئیے جاتے ہیں۔ رپوٹوں کے مطابق -25 2024ء میں کی وجہ(Disruptions) پاکستان میں طلباء نے موسیماتی تبدیلی سے تعلیمی سال کے 54% دن ضائع کئے۔ جو کہ تقربیاً97 دن بنتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نصاب وقت پر ختم نہیں ہوتا جس کا برائے راست اثر بچوں کی سیکھنے کی صلاحیت اور میدانی نتائج پر پڑتا ہے۔
تاریخی سیلابوں نے پاکستان کے تعلیمی سال کے انفراسٹر کو شدید نقصان پہنچا یا ہے۔ جب تعلیمی نظام تعطل کا شکار ہوتا ہے تو بچوں کی تعلیم مہینوں یا سالوں کے لیے رک جاتی ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں سکول پہلے ہی کمی کا شکار ہیں، سیلاب کی وجہ سے تعلیم کا سلسلہ منقطع ہونا بچوں کو اور بچیوں کو کم عمری کی (Child Laboiur) چائلڈ لیبر یا شادی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
لاہور اور دیگر شہروں میں ہر سال نومبر، دسمبر کے مہینوں میں اسموگ کی وجہ سے سکول بند کئے جاتے ہیں۔ یہ صرف چھٹیاں نہیں بلکہ بچوں کے پھیپٹر وں کے مسائل، آنکھوں میں جلن اور ذہنی تناؤ کا باعث بنتے ہیں۔ اسکول بند ہونے سے بچوں کی تعلیمی کارکردگی کمزور ہوتی ہے۔ اور اساتذہ کے لیے بھی نصاب کی تکمیل ایک چیلنج بن جاتی ہے۔
موسمیاتی تبدیلیاں عدم مساوات کو مذید بڑھا دیتی ہیں۔ جب سیلاب یا شدید گرمی کی وجہ سے اسکول بند ہوتے ہیں۔ تو لڑکیوں کی تعلیم سب سے پہلے متاثر ہوتی ہے۔ خاندانوں کی مالی مشکلات بڑھنے کے باعث بچیوں کو اکثراسکول سے ہٹا لیا جاتا ہے۔
پاکستان کو فوری طور پر ایک”مزاحمتی(Climate-Resilient Education System) کی ضرورت ہے۔
اسکولوں کو مقامی موسم کے مطابق تعطیلات اور اوقات کار مقرر کرنے کی اجازت ہونی چائیے نہ کہ تمام صوبے کے لیے ایک ہی شیڈول ہو۔ اسکولوں کی عمارت کو سیلاب اور شد ید گرمی کے مطابق تیار کیا جائے جیسے کہ بلند عمارت، سولر اور چھت کی انسولیشن اور اسطرح کے اقدامات از حد ضروری ہیں۔
ا گر ہم نے اب بھی موسمیاتی تبدیلوں کے تعلیمی نظام پر پڑنے والے اثرات پر توجہ نہ دی، توہم ایک ایسی نسل کو پروان چڑھار رہے ہوں گے جو تعلیمی طور پر پیچھے رہ جائے گی۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی فروغ ہی پاکستان کے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنا سکتا ہے۔

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author