Author Editor Hum Daise View all posts
خالد شہزاد
ج کل پنجاب اور سندھ میں گٹروں میں گر کر جان بحق ہونے والے خواتین و حضرات مقامی و صوبائی حکومتوں کی گورننس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور دوسری جانب حکومتی ترجمان ان خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔اسی طرح ایوان بالا سے لیکر پنجاب اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر اقلیتی ا راکین اسمبلی کی جانب سے مخصوص نشستوں کی بجائے ڈائریکٹ الیکشن پر بحث و مباحثہ جاری ہے، اور یہ بہت خوش آئیند ہے “ سپیکر پنجاب اسمبلی اقلیتوں کے الیکشن مطالبہ پر پرجوش دکھائی دیتے ہیں۔اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ قومی سطح پر ہمیشہ تجربات ہی ہوئے ہیں، مگر کسی بھی حکومت نے ان کے لیے فل وقتی قانون سازی نہیں کی، جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے زریعہ اقلیتوں کو قومی دائرہ کے نام پر اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں پر بٹھا کر انکے 25 سال ضائع کیے گئے، قومی و صوبائی اسمبلیوں سمیت سینٹ میں ایسے ایسے چہرے نمودار ہوئے جنکا سیاست یا سماجی مسائل کو سمجھنے اور حل کا علم ہی نہیں، صرف تنخواہ اور ٹی اے ڈی اے والے ریڈیو ہی ان مخصوص نشستوں پر براجمان ہیں، جنکو نا تو قومی، صوبائی اور نا ہی بین الاقوامی پارلیمانی سیاست کا تجربہ ہے اور نا ہی انہیں اہم قومی سلامتی کے معاملات کے حل پر مشاورت کے لیے دعوت دی جاتی ہے۔
پاکستان میں اقلیتوں، بالخصوص مسیحی برادری اور سندھ میں نیچی زات کے ہندوؤں کے ایک بڑے حصے کو “سینیٹیشن ورکرز” (خاکروب) کے طور پر دیکھنا ایک گہری سماجی بیماری ہے۔ یہ محض ایک پیشہ نہیں رہا بلکہ ایک ذہنی ساخت بن چکا ہے۔ جب ہم “گٹر” کی بات کرتے ہیں، تو یہ صرف گندگی صاف کرنے کا عمل نہیں ہے، بلکہ یہ اس سماجی تنزلی کی علامت ہے جہاں ایک انسان کو اس کی قابلیت کے بجائے اس کے عقیدے کی بنیاد پر “درجہ چہارم ” ملازمتوں کے لیے مخصوص کر دیا جاتا ہے۔ سیاسی پارٹیاں اور حکومت اقلیتوں کو “قومی دائرے” میں شامل کرنے کا دعویٰ تو کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر انہیں برابر کا شہری تسلیم کرنے سے کتراتے ہیں۔تعلیمی نصاب سے لے کر گلی محلوں کے رویوں تک، اقلیتوں کو “غیر” (Othering) ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس سے ان کی خود اعتمادی مجروح ہوتی ہے اور تعصب کی جڑیں آنے والی نسلوں تک پھیل چکی ہیں۔سیاسی طور پر اقلیتوں کو “مخصوص نشستوں” کے شکنجے میں جکڑ دیا گیا ہے جس کی بدولت اہم قومی سلامتی کے موقع پر فیصلہ سازی اور مشاورت سے دور رکھا جاتاہے، یہی وجہ ہے کہ اقلیتیں سیاسی عدم تحفظ اور لیڈر شپ سے مرحوم ہیں، اسی وجہ سے مخصوص نشستوں پر آنے والے نمائندے اکثر اپنی سیاسی جماعتوں کے وفادار ہوتے ہیں نہ کہ اپنی برادری کی حقیقی آواز، وہ پارلیمنٹ میں بیٹھتے تو ہیں لیکن ان کے پاس پالیسی اور قانون سازی میں وہ وزن نہیں ہوتا جو براہِ راست منتخب ہو کر آنے والے مسلم نمائندوں کے پاس ہوتا ہے۔ اہم ریاستی عہدوں (صدر، وزیر اعظم) کے لیے آئینی پابندیاں ایک علامتی پیغام دیتی ہیں کہ آپ اس ملک کے “درجہ اول” کے شہری نہیں بن سکتے۔ جب اعلیٰ ترین سطح پر شمولیت بند ہو، تو نچلی سطح پر فیصلہ سازی کا خواب ادھورا ہی رہتا ہے۔ تعلیم اور ہنر سے محرومی و اقتصادی طور پر اقلیتوں کو ایک ایسے چکر (Vicious Cycle) میں پھنسا دیا گیا ہے جہاں سے نکلنا مشکل ہے۔حکومتوں نے کبھی بھی اقلیتی بستیوں (کچی آبادیوں) میں ایسے ٹیکنیکل سینٹرز قائم نہیں کیے جو انہیں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہنر سکھا سکیں۔ سرکاری ملازمتوں میں 5 فیصد کوٹہ موجود تو ہے، لیکن اسے اکثر صرف کلاس فور (خاک روب، چوکیدار) کی نوکریوں تک محدود رکھا جاتا ہے۔ اعلیٰ عہدوں پر تقرری کے وقت “سیکیورٹی کلیئرنس” یا “مذہبی رجحان” جیسے غیر مرئی عوامل رکاوٹ بن جاتے ہیں، جو اقلیتوں کو اقتصادی طور سے پسماندہ رکھے ہوئے ہیں۔
قبولیت اور قومی دائرہ کے نام پر حکومتیں اکثر بین المذاہب ہم آہنگی (Interfaith Harmony) کی تقریبات منعقد کرتی ہیں، لیکن یہ صرف مخصوص مزہبی چہروں اور چند این جی اور کے فوٹو سیشن اور فین کلب تک تک محدود ہیں۔غریب اقلیتی خاندانوں کے بچے پنجاب ، کے پی کے ، سندھ اور وفاق کے سرکاری اسکولوں میں اس لیے داخل نہیں ہو پاتے کیونکہ وہاں کا ماحول انہیں اجنبیت کا احساس دلاتا ہے اور طلباء کی اکثریت انہیں عجیب مخلوق اور کمتر جان کر نعفرت کرتے اور دوستی کرنے سے کتراتے ہیں۔جب ایک نوجوان دیکھتا ہے کہ اس کے باپ دادا محنت کے باوجود صرف گٹر صاف کرنے پر مجبور رہے، تو وہ مایوسی کا شکار ہو کر تعلیم چھوڑ دیتا ہے، کیونکہ سوسائٹی اس کام کو نعفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔معاشرے کا بااثر طبقہ چاہتا ہے کہ “گندے کاموں” کے لیے ایک ایسی افرادی قوت ہمیشہ میسر رہے جو سستی ہو اور آواز بھی نہ اٹھا سکے۔خوف کی نفسیات کی بدولت اگر اقلیتیں تعلیم یافتہ ہو کر فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہو گئیں، تو وہ ان قوانین اور سماجی ڈھانچوں کو چیلنج کریں گی جو دہائیوں سے نافذ ہیں۔ ریاست کی ترجیحات میں اقلیتوں کی ترقی کبھی شامل ہی نہیں رہی۔ بجٹ کا معمولی حصہ ان کے لیے رکھا جاتا ہے جو کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے، لیکن کرپشن کی اس ہیرا پھیری پر کوئی آواز آج تک ایوان یا وزیر اعظم ہاؤس تک نہیں پہنچ پاتی۔ قیام پاکستان سے لیکر جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف سے لیکر جنرل عاصم منیر تک نے ہمیشہ اقلیتوں کے لیے نرم گوشہ رکھا لیکن پالیسی میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔اگر اقلیتوں کو گٹر کی سیاست اور صفائی کے خوف سے باہر نکلالنا مقصود ہے، تو پھر نصاب سے ہر قسم کے نفرت انگیز اور امتیازی مواد کو نکال کر قیامِ پاکستان میں اقلیتوں (مثلاً جوگندر ناتھ منڈل، جوشوا فضل دین، جسٹس کارنیلیس وغیرہ) کے کردار کو اجاگر کیا جائے اور موجودہ قومی و بین الاقوامی حالات کے تقاضوں کو کو سامنے رکھتے ہوئے صحافت، کھیل، فنون لطیفہ، قومی سلامت کے اداروں اور سول محکموں میں اعلئ عہدوں پر فائز اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افسران کو نصاب میں شامل کیا جائے۔ اقلیتوں کو انکی مرضی کی نمائیندے یونین کونسل سے لیکر صوبائی اسمبلی تا قومی اسمبلی تک چننے کا آزادانہ اختیار دیا جائے ، تاکہ وہ اپنے منتخب نمائیندگان سے ترقیاتی فنڈ، قانون سازی اور اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے ازالہ کے لیے پوچھ گچھ کر سکیں۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *