Author Editor Hum Daise View all posts
ابرار حسین بخاری
بچھڑا کچھ اس طرح سے رت ہی بدل گئی
اک شخص پورے شہر کوویران کر گیا ۔
4فروری 2025 ہمارے لیے بڑے دکھ کا دن رہے گا۔ اس دن میرے با با سائیں مخدوم سید ذوالفقار حسین بخاری ہم سے بچھڑ گئے۔میرے بابا موضع جانووالہ تحصیل احمدپور شرقیہ کی ایک مذہبی ،سیاسی اور روحانی شخصیت تھے۔ایک باوقار ،بردباراور باکردار انسان تھےہر طبقہ کے لوگ رفقا ،عزیز سب ہی لوگ انکی صلاحیتوں کو تسلیم کرتے تھے۔وہ ایسی شخصیت تھے جن میں اخلاق ،محبت ،پیار اور شفقت کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے تھےاور بہت ساری خصوصیات وافر مقدار میں تھیں جنکی وجہ سے وہ اپنے علاقے کی پہچان بن گئےبحیثیت ایک انسان اور باپ کے وہ ایک زندہ دل انسان تھےہمیشہ مسکر ا کر او ر خندہ پیشانی سے مقابلہ کرتے اور مشکلات کے حل کے لیے اللہ کے حضور سجدہ ریز رہتے اور حالات کا مقابلہ کرتے۔
ویسے تو ہر باپ اپنی اولاد کے لیے ایک سایہ دار درخت کی مانند ہوتا ہے لیکن ہمارے بابا سائیں اپنی اولادسمیت اپنے رفقا ،مریدین،ہمسائے،عزیز واقارب کےلیے ایک مضبوط سہار ا تھے۔جس کا ہم سب جتنا فخرکریں اتنا کم ہے اور یقینا ان کے نام اور کام کا ہمیشہ ساری زندگی ہمیں فائدہ ملتا رہے گا۔باقی یہ فانی دنیا ہے ہرکسی نے ایک دن جانا ہی ہےاور بارگاہ رب تعالیٰ میں پیش ہونا ہے۔لیکن باپ جب جلد چلا جاتا ہے تو ایک انسان نہیں جاتا بلکہ ایک سایہ دار درخت کا سایہ زندگی سے اٹھ جاتا ہےیقینا باپ ایک چراغ ہے جو خود جلتا ہے تاکہ سارے گھر میں اجالا رہے اور انکے رخصت ہوجانے کے بعد ایسے لگتا ہے جیسے کہ عمارت کی چھت گر گئی ہو۔تناور درخت کا سایہ ختم ہو جاتا ہے بلکہ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک دعا تھی جو خاموش ہوگئی ۔میرے با با سائیں میرا عشق ،جنون اور آئیڈیل شخصیت رہےوہ ایک باوقار بردبار انسان تھےاور وہ طاقت ،ہمت،بردباری،بہادری اور اصولوں کے کھرے انسان تھےاور دعاؤں کا مرکز تھے۔لوگ ان سے ہر معاملات مذہبی،سیاسی حوالے سے ہرممکن طریقے سے فیض یاب ہوتے تھے۔خود شکر گزار انسان تھے اور لوگوں کو جتنا ہو سکتا تھالوگوں کی رہنمائی کرتے تھے۔کیونکہ کافی وسیع حلقہ احباب تھا اور نسل در نسل لوگ ان سے محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے چلے آرہے ہیں۔انتہائی نیک اور پرہیز گار انسان تھے لوگ ان کی باتیں بڑے انہماک سے سنتے تھےاور عقیدت رکھتے تھے ۔زندہ دلی کی طرح سمجھتے تھےہر وقت لوگوں کو دعائیں دیتے اور نصیحتیں کرتے رہتے تاکہ جو لوگ فیض یاب ہو رہے ہیں ان کی زندگی میں بہتری آسکے اور خاص طور پر علاقہ کی ترقی چاہتے تھے تاکہ جس طرح شہری سہولیات سے استفادہ حاصل کرتے ہیں ویسے ہی دیہات میں بھی سہولیات ہوں۔اسی وجہ سے وہ سکولوں کی تعداد میں اضافہ کروانے اور سٹرکوں کی تعمیرمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تاکہ آنے والی نسلیں تعلیم یافتہ ہو کر علاقے کی ترقی میں شامل ہوں۔جب سے بلدیاتی نظام شروع ہوا وہ کونسلر سے چیئرمین مرکز کونسل /ممبر ضلع کونسل اور ناظم رہےاور امن کے حوالے سے بھی ضلعی امن کمیٹی کے ممبر ہوتے ہوئے امن کا درس دیا کرتے اور مذہبی رواداری کا پاس رکھنے کے لیے اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے تھے۔انکی زندگی محبت پیار خلو ص سے مزین تھی ۔ جس کو وہ بانٹتے رہتے تھے لوگوں کو جانچنے اور پرکھنے کا کمال حسن زن رکھتے تھے انہیں اندازہ ہو جاتا تھا یہ بندہ کس نیت او ر افکار کا حامل ہے ۔اچھی سوچ یا منفی سوچ کا مالک ہے لیکن وہ ان سے خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے اور اللہ پاک کی بنائی ہوئی مخلوق کو خدا کی اعلیٰ تخلیق سمجھتے ہوئے اسکی قدر کرتے تھے۔امیر و غریب کا فرق نہیں رکھتے تھے ۔صفائی پسند تھے لوگوں کو ہمیشہ صفائی کی ہدایت کرتے اور صوم و صلوٰۃ کی تلقین کرتے رہتے ۔وعدے اور اصول کے پکے انسان تھے وفاداری کو نبھا کر دکھاتے تھے غریب پرور تھے ۔دعائیں اور نصیحتیں بانٹتے رہتے تھے اسی وجہ سے اپنے علاقے کی منفرد پہچان کی حامل شخصیت تھے جن کے خلا کو پر کرنا بہت مشکل ہے ۔لوگوں کے کام کر کے دلی سکون محسوس کرتے تھے اور ہم اولاد کو لوگوں سے محبت اور پیار سے پیش آنے کی تلقین کرتے رہتے ۔
کچھ یادیں جینے کا سہارا بن جاتی ہیں جن کو ہم دل کی راحت بنا کر اپنی سانسوں کو بحال کرتے ہیں اور ایسی یادیں ان رشتوں کی ہوتی ہیں جوزندگی کی ساری رونقیں چھین لیتی ہیں ۔اللہ پاک انکو صدقہ پنجتن پاک ؑ کے جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہم اولاد کو انکے نقش قدم پر چلنے کی طاقت اور ہمت دے آمین۔
اے میرے با با!
تیرے یوں بچھڑنے کا غم تو میرے وہم و گمان میں نہ تھا
کہ ساری عمر تیری دید کو ترستی رہیں گی میری آنکھیں۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *