مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


پاکستان میں بین الکلیسیائی اتحاد: ایک ضرورت، ایک امتحان

پاکستان میں بین الکلیسیائی اتحاد: ایک ضرورت، ایک امتحان

    Author Editor Hum Daise View all posts

 

فادرخالد رشید عاصی
پاکستان میں مسیحی کلیسیا عددی اعتبار سے اقلیت ہے، مگر داخلی اعتبار سے وہ خود کئی حصوں میں منقسم نظر آتی ہے۔ بین الکلیسیائی اتحاد کا ہفتہ (18 تا 25 جنوری) ہر سال ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ ہمارا اصل چیلنج صرف بیرونی دباؤ نہیں بلکہ اندرونی فاصلہ بھی ہے۔ یہ ہفتہ جشن نہیں، بلکہ خود احتسابی کا موقع ہے۔
پاکستانی سماج میں جہاں مسیحی برادری پہلے ہی شناخت، سلامتی اور مساوی حقوق کے مسائل سے دوچار ہے، وہاں کلیسیائی تقسیم ہماری اجتماعی آواز کو مزید کمزور کر دیتی ہے۔ مختلف کلیسیائیں اپنی اپنی عبادات، تنظیمی ڈھانچوں اور روایات کے ساتھ قائم ہیں، مگر اکثر اوقات ان اختلافات کو مکالمے کے بجائے حد بندی کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے۔
بین الکلیسیائی اتحاد یہاں کسی نظریاتی بحث کا نام نہیں بلکہ بقا کی حکمتِ عملی بھی ہے۔ جب سماج ہمیں ایک مذہبی شناخت کے طور پر دیکھتا ہے، تو اندرونی اختلافات کا بوجھ بھی ہمیں ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون سی کلیسیا درست ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں؟
پاکستان کے تناظر میں اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ تمام کلیسیائیں اپنی روایات ترک کر دیں۔ اتحاد کا مطلب ہے اختلاف کے ساتھ جینا، اور اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو مسیح میں شریک ماننا۔ یہاں اتحاد یکسانیت نہیں بلکہ ہم آہنگ تنوع کا تقاضا کرتا ہے۔
یہ ہفتہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کلیسیا محض عبادت گاہ کا نام نہیں، بلکہ ایک سماجی وجود بھی ہے۔ جب کسی مسیحی بستی پر حملہ ہوتا ہے، جب کسی بے گناہ کو جھوٹے الزام میں نشانہ بنایا جاتا ہے، یا جب کسی چرچ کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تو حملہ کسی ایک فرقے پر نہیں ہوتا—وہ پوری برادری پر ہوتا ہے۔ ایسے میں کلیسیائی خاموشی یا باہمی لاتعلقی خود ایک اخلاقی سوال بن جاتی ہے۔
پاکستان میں بین الکلیسیائی اتحاد کا ایک بڑا امتحان قیادت بھی ہے۔ کیا ہماری قیادت مکالمے کے لیے تیار ہے، یا وہ صرف اپنی اپنی حدود کے تحفظ میں مصروف ہے؟ کیا ہم مشترکہ مسائل—تعلیم، انسانی حقوق، نوجوانوں کا مستقبل—پر اکٹھے سوچ سکتے ہیں؟ یا ہم اتحاد کو صرف سال میں ایک ہفتے کی علامتی سرگرمی تک محدود رکھیں گے؟
یہ ہفتہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اتحاد کا آغاز نیچے سے ہوتا ہے، صرف اوپر سے نہیں۔ جب مقامی سطح پر مختلف کلیسیاؤں کے لوگ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں، مشترکہ سماجی خدمت کرتے ہیں، یا کم از کم ایک دوسرے کو سننے کی کوشش کرتے ہیں، تو اتحاد ایک نعرہ نہیں بلکہ تجربہ بن جاتا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں جہاں مذہبی ہم آہنگی خود ایک نازک مسئلہ ہے، وہاں مسیحی کلیسیا کا اندرونی اتحاد ایک مضبوط گواہی بن سکتا ہے۔ یہ گواہی تبلیغی نہیں، بلکہ عملی ہوتی ہے—ایسی گواہی جو بتاتی ہے کہ اختلاف کے باوجود ساتھ جیا جا سکتا ہے۔
بین الکلیسیائی اتحاد کا ہفتہ ہمیں کسی حتمی نتیجے تک نہیں لے جاتا، بلکہ ہمیں ایک راستے پر ڈال دیتا ہے۔ یہ راستہ آسان نہیں، کیونکہ اس میں انا کی قربانی، خوف کا سامنا، اور پرانے زخموں کو تسلیم کرنا شامل ہے۔ مگر شاید یہی راستہ پاکستان میں مسیحی کلیسیا کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے۔
آخر میں، یہ سوال باقی رہتا ہے:
کیا ہم اتحاد کو صرف ایک ہفتہ سمجھیں گے،
یا اسے ایک مسلسل ذمہ داری میں بدلنے کا حوصلہ پیدا کریں گے؟
یہ سوال کسی واعظ کا نہیں،
بلکہ ہماری اجتماعی تاریخ کا ہے۔#

 

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author