Author Editor Hum Daise View all posts
تحریر : کامران رشید
پاکستان اس وقت موسمی تبدیلیوں کے ایک واضح دور سے گزر رہا ہے۔ بڑھتا ہوا درجۂ حرارت، طویل اور شدید گرمیاں، اور غیر متوقع و سخت سردیاں روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہیں۔ اگرچہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات زراعت، صحت اور معیشت پر نمایاں ہیں، مگر تعلیم بالخصوص بچوں کی تعلیم اس سے شدید طور پر متاثر ہو رہی ہے۔ اس تبدیلی کی سب سے واضح مثال اسکولوں کی گرمیوں اور سردیوں کی تعطیلات میں اضافہ ہے۔
پاکستان میں موسمی تبدیلی کی بڑی وجہ عالمی حدت گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی بگاڑ ہے۔ گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتے اخراج، جنگلات کی کٹائی، اور غیر منصوبہ بند شہری توسیع نے موسم کو مزید شدید بنا دیا ہے۔ اگرچہ پاکستان عالمی آلودگی میں کم حصہ ڈالتا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ دنیا کے سب سے زیادہ موسمیاتی خطرات کا شکار ممالک میں شامل ہے۔
نتیجتاً گرمیاں پہلے سے زیادہ جلد شروع ہو رہی ہیں اور طویل ہو چکی ہیں، جبکہ سردیاں، جو کبھی معتدل سمجھی جاتی تھیں، اب زیادہ سخت اور غیر یقینی ہو گئی ہیں۔ ان تبدیلیوں کا براہِ راست اثر تعلیمی نظام پر پڑ رہا ہے۔
ماضی میں پاکستان میں گرمیوں کی تعطیلات ایک منظم اور متوقع شیڈول کے تحت ہوتی تھیں۔ اگرچہ گرمی ہوتی تھی، مگر اسکول طے شدہ وقت تک کھلے رہتے تھے اور تعلیمی کیلنڈر میں کم ہی خلل آتا تھا۔
آج شدید گرمی اور ہیٹ ویوز نے گرمیوں کی تعطیلات کو ایک معمولی وقفے کے بجائے ایک ناگزیر ضرورت بنا دیا ہے۔ ریکارڈ توڑ درجۂ حرارت اور صحت کے خطرات کے باعث تعلیمی اداروں کو قبل از وقت بند کرنا پڑتا ہے یا تعطیلات میں توسیع کرنی پڑتی ہے۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان جیسے صوبوں میں یہ صورتحال زیادہ سنگین ہے، جہاں بچوں اور اساتذہ کی حفاظت کے لیے اسکول جلد بند کیے جاتے ہیں۔
اگرچہ یہ فیصلے صحت کے لیے ضروری ہیں، لیکن ان کے نتیجے میں تدریسی دن کم ہو جاتے ہیں اور نصاب مکمل کرنے کا دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
ماضی میں سردیوں کی تعطیلات محدود اور مختصر ہوتی تھیں، اور زیادہ تر شمالی علاقوں تک ہی محدود رہتی تھیں۔ ملک کے بیشتر حصوں میں سردی معتدل ہوتی تھی اور تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہتی تھیں۔
اب سردیوں کی تعطیلات بھی طویل اور زیادہ عام ہوتی جا رہی ہیں، حتیٰ کہ ان علاقوں میں بھی جہاں پہلے شدید سردی نہیں پڑتی تھی۔ شدید سرد لہر، دھند اور اسموگ، خصوصاً شہری علاقوں میں، اسکولوں کی بندش یا اوقات میں تبدیلی کا سبب بن رہی ہیں۔ جو مسائل کبھی استثنائی سمجھے جاتے تھے، وہ اب معمول بنتے جا رہے ہیں۔
گرمیوں اور سردیوں کی تعطیلات میں اضافے سے بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ تعلیمی تسلسل ٹوٹ جاتا ہے، خاص طور پر کم عمر بچوں کے لیے جو باقاعدہ کلاس روم ماحول کے محتاج ہوتے ہیں۔ طویل وقفوں کے باعث سیکھنے کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے اور نصاب کی تکمیل مشکل ہو جاتی ہے۔
کم آمدنی والے خاندانوں کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس آن لائن تعلیم، ٹیوشن یا گھر پر منظم تعلیمی سہولیات دستیاب نہیں ہوتیں۔ اس سے تعلیمی عدم مساوات مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
اساتذہ پر کم وقت میں نصاب مکمل کرنے کا دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، جس سے معیاری تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ والدین، خاص طور پر ملازمت پیشہ افراد، کو اچانک اسکول بند ہونے کی صورت میں بچوں کی دیکھ بھال میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال گھریلو سطح پر ذہنی اور مالی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔
پاکستان کے تعلیمی نظام کو موسمی حقائق کے مطابق ڈھالنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ موسمیاتی اثرات سے محفوظ اسکول عمارتیں، لچکدار تعلیمی کیلنڈر، آن لائن اور روایتی تعلیم کا امتزاج، اور ہنگامی تعلیمی منصوبہ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے قومی سطح پر سنجیدہ اقدامات بھی ضروری ہیں۔
پاکستان میں بدلتے ہوئے موسم نے اسکول کی تعطیلات کے تصور کو بدل دیا ہے۔ گرمیوں اور سردیوں کی تعطیلات جو کبھی محدود اور منظم تھیں، اب طویل اور غیر متوقع ہو چکی ہیں۔ اگرچہ بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں، مگر یہ تعلیمی تسلسل اور مساوات کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی ہیں۔ اس مسئلے کا حل صرف عارضی فیصلوں میں نہیں بلکہ طویل المدتی، موسمیاتی شعور پر مبنی تعلیمی منصوبہ بندی میں پوشیدہ ہے، تاکہ پاکستان کے بچوں کا تعلیمی مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *