Author Editor Hum Daise View all posts
جیکب آفتاب
فہم سے مراد کسی چیز کو سمجھنے اس کی گہرائی میں جانے اور اس کے مختلف پہلوؤں کو جانچنے کی صلاحیت ہے یہ ایک ذہنی عمل ہے جس میں معلومات کو جمع کرنا اور اسکے اپنے سیاق و سباق میں سمجھنا شامل ہے فہم صرف معلومات کو یاد رکھنے سے زیادہ ہے اس معلومات کو استعمال کر کے نئے خیالات پیدا کرنے مسائل حل کرنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے فیصلے کرنے فہم کے عمل میں شامل ہے معلومات کو حاصل کرنا اور اسےمنظم کرنا معلومات کا تجزیہ کرنا اور اس کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنا معلومات کو اپنے تجربے تجربات اور علم کے ساتھ جوڑنا معلومات کی بنیاد پر نتائج اخذ کرنا اور فیصلے کرنا فہم کی صلاحیت افراد کو مختلف شعبوں میں کامیابی حاصل کرنے میں مدد دیتی ہےجیسے کہ تعلیم کاروبار سائنس اور روزمرہ زندگی میں افراد کے مسائل کو حل کرنے نئے خیالات پیدا کرنے اور اپنے ماحول کے ساتھ بہتر طور پر تامل کے قابل بناتی ہے بائبل مقدس میں فہم (سمجھ) کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا ہے یہاں کچھ اہم نکات ہیں جو بائبل مقدس میں فہم کے بارے میں بتاتے ہیں بائبل مقدس میں حکمت اور فہم کو بہت اہم قرار دیا گیا ہے امثال 4 باب 7 آ یت حکمت کی ابتدا یہ ہے کہ حکمت حاصل کر اور جو کچھ تو حاصل کرتا ہے اس کے ساتھ فہم بھی حاصل کر امثال 2باب6ایت خداوند حکمت دیتا ہے اس کے منہ سے علم اور فہم نکلتی ہے یعقوب 1 باب 5 آیت اگر تم میں سے کسی کو حکمت کی کمی ہو تو وہ خدا سے مانگے جو فیاضی سے دیتا ہے اور ملامت نہیں کرتا اور اسے دی جائے گی امثال 13باب 13′ 14 آیت مبارک ہے وہ شخص جو حکمت پاتا ہے اور وہ شخص جو فہم حاصل کرتا ہے کیونکہ اس کی تجارت چاندی کی تجارت سے بہتر ہے اور اس کا نفع خالص سونے سے بہتر ہے کلسیوں 2 باب 3 آیت حکمت اور علم کے سارے خزانے پوشیدہ ہیں بائبل میں فہم کو ایک قیمتی چیز کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو خدا کی طرف سے اتی ہے اور زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے فہم کے زریعے لوگ خدا کی مرضی کو سمجھ سکتے ہیں قرآن مجید میں فہم کو بہت اہمیت دی گئی ہے قران مجید میں فہم کو حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے اور اس کے بغیر علم کو بے فائدہ قرار دیا گیا ہے تدبر اور تفکر (سوچ) بچار کی ترغیب دی گئی ہے اللہ تعالی فرماتا ہے کیا وہ قران مجید میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں قران مجید کو سمجھنے کے لیے تدبر ضروری ہے اللہ تعالی فرماتے بے ہیں بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں قران مجید میں فہم کوایک وصف کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو انسان کو علم کے حصول اور اس پر عمل کرنے میں مدد دیتا ہے فہم کے ذریعے انسان قران مجید کو سمجھ سکتا ہے اور اس کے احکامات پر عمل کر سکتا ہےفہم کی روز مرہ زندگی میں بہت اہمیت ہے یہ ہمیں مختلف حالات میں صحیح فیصلے کرنے مسائل کو حل کرنے اور دوسروں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے میں مدد دیتی ہے یہاں کچھ اہم نکات ہیں جو فہم کی روزمرہ زندگی میں اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں 1 فیصلہ سازی فہم ہمیں مختلف اختیارات کا جائزہ لینے اور صحیح فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے جب ہم کسی صورتحال کو سمجھتے ہیں تو ہم اس کے بارے میں بہتر فیصلے کر سکتے ہیں 2 مسائل کا حل فہم ہمیں مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے میں مدد دیتی ہے جب ہم کسی مسئلے کو گہرائی سے سمجھتے ہیں تو ہم اس کا حل تلاش کر سکتے ہیں
فہم ہمیں دوسروں کے جذبات خیالات اور ضروریات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے جب ہم دوسروں کو سمجھتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کر سکتے ہیں 4 تعلیم اور سیکھنا فہم ہمیں نئی معلومات کو سمجھنے اور اسے اپنے علم میں شامل کرنے میں مدد دیتی ہے جب ہم کسی چیز کو سمجھتے ہیں تو ہم اسے بہتر طریقے سے یاد رکھ سکتے ہیں اور اس پر عمل کر سکتے ہیں تنقیدی سوچ 5 فہم ہمیں تنقیدی سوچ کو فروغ دینے میں مدد دیتی ہے جب ہم کسی چیز کو سمجھتے ہیں تو ہم اس کے بارے میں تنقیدی سوچ سکتے ہیں اور اس کے مختلف پہلوؤں کو جانچ سکتے ہیں 6 خود آ گاہی فہم ہمیں خود کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے جب ہم اپنے جذبات خیالات اور اعمال کو سمجھتے ہیں تو ہم خود کو بہتر طریقے سے جان سکتے ہیں اور اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں 7 مواصلات فہم ہمیں دوسروں کے ساتھ بہتر مواصلات کرنے میں مدد دیتی ہے جب ہم دوسروں کو سمجھتے ہیں تو ہم ان کے ساتھ بہتر طریقے سے بات چیت کر سکتے ہیں اور اپنے خیالات کو واضح طور پر پیش کر سکتے ہیں فہم کی یہ اہمیت ہمیں روز مرہ زندگی میں کامیابی حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے یہ ہمیں مختلف حالات میں صحیح فیصلے کرنے مسائل کو حل کرنے اور دوسروں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کے قابل بناتی ہ


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *