مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


پنجاب کمیونل پروٹیکشن آرڈیننس یا اقلیتی پراپرٹی پر قبضہ!

پنجاب کمیونل پروٹیکشن آرڈیننس یا اقلیتی پراپرٹی پر قبضہ!

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

خالد شہزاد
پنجاب کمیونل پراپرٹی (پروٹیکشن) آرڈیننس یا قرارداد کے حوالے سے مسیحی برادری میں پائے جانے والے خدشات نئے نہیں ہیں۔ یہ ایک حساس معاملہ ہے جس کے دو مختلف رخ ہیں۔ ایک طرف حکومتی موقف ہے اور دوسری طرف چرچ اور اقلیتی حقوق کے تحفظ کرنے والوں کی تشویش۔ کیا یہ چرچ کنٹرول کرنے کی سازش ہے؟ مسیحی برادری کے کئی رہنماؤں اور قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس نئے قانون کے ذریعے حکومت چرچ کی خود مختاری میں مداخلت کر سکتی ہے۔ ان کے خدشات کی بنیادی وجوہات یہ ہیں ، سرکاری مداخلت۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ “تحفظ” کے نام پر ڈپٹی کمشنر یا حکومتی اداروں کو یہ اختیار مل جاتا ہے کہ وہ چرچ کی جائیدادوں کے معاملات میں دخل دیں۔ این او سی (NOC) کسی پراپرٹی کو کمیونل قرار دے دیا جائے، تو اسے بیچنے یا تبدیل کرنے کے لیے حکومت سے اجازت لینا پڑتی ہے، جسے چرچ کے داخلی معاملات میں مداخلت سمجھا جاتا ہے۔خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ مستقبل میں حکومت ان جائیدادوں کا انتظام سنبھالنے کے لیے اپنی کمیٹیاں بنا سکتی ہے، جس سے کلیسیا کا کنٹرول ختم ہو جائے گا اور حکومت مستقبل قریب میں ان پراپرٹیز پر قابض ہو جائے گی۔ تاہم، حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کا مقصد صرف پراپرٹی مافیا کو روکنا ہے جو چرچ کی قیمتی زمینوں کو غیر قانونی طور پر بیچ دیتے ہیں۔ پہلے سے موجود ایکٹ اور پنجاب میں نئی ضرورت ، سوال نہایت اہم ہے کہ جب 2002 کا فیڈرل “پروٹیکشن آف کمیونل پراپرٹیز آف مائنارٹیز آرڈیننس” موجود تھا، تو پنجاب کو الگ سے اقدام کی ضرورت کیوں پڑی؟ اٹھارویں ترمیم کے بعد کے اثرات: 18ویں ترمیم کے بعد کئی شعبے (بشمول اقلیتی امور اور زمینوں کے معاملات) صوبوں کے پاس آ گئے ہیں۔ پنجاب حکومت کا موقف رہا ہے کہ صوبائی سطح پر زیادہ سخت اور واضح قوانین کی ضرورت ہے تاکہ مقامی سطح پر لینڈ مافیا کا مقابلہ کیا جا سکے۔ وفاقی قانون کے باوجود پنجاب میں چرچ کی کئی جائیدادیں تنازعات کا شکار رہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ نیا فریم ورک ضلعی انتظامیہ کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہراتا ہے تاکہ کوئی بھی غیر قانونی فروخت نہ ہو سکے۔بعض اوقات صوبائی حکومتیں اپنے سیاسی ایجنڈے یا مخصوص انتظامی چیلنجز (جیسے کہ چرچ پراپرٹی کے اندرونی گروہی تنازعات) کو حل کرنے کے لیے نیا قانون لاتی ہیں۔ جہاں حکومت اسے “تحفظ” کہتی ہے، وہیں چرچ کی قیادت اسے اپنی “آزادی” پر حملہ تصور کرتی ہے۔ اصل مسئلہ “اعتماد کے فقدان” کا ہے، کیونکہ ماضی میں کئی بار ایسے قوانین کا غلط استعمال دیکھا گیا ہے۔پنجاب کمیونل پراپرٹی (پروٹیکشن) آرڈیننس کے حوالے سے جو بنیادی اعتراضات مسیحی برادری اور چرچ کی قیادت کی جانب سے اٹھائے جا رہے ہیں، ان میں سے چند اہم نکات درج ذیل ہیں:
ڈپٹی کمشنر (DC) کے وسیع اختیارات
سب سے بڑا اعتراض اس بات پر ہے کہ نئے قوانین کے تحت ضلعی انتظامیہ (ڈی سی) کو یہ اختیار مل جاتا ہے کہ وہ کسی بھی جائیداد کو “کمیونل پراپرٹی” قرار دے سکے۔ چرچ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ چرچ کے داخلی انتظامی امور میں براہِ راست سرکاری مداخلت ہے۔ این او سی (NOC) کا حصول ، اگر چرچ اپنی کسی زمین کو کسی تعلیمی یا فلاحی مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہے یا اسے فروخت کر کے کسی دوسری جگہ بہتر چرچ بنانا چاہے، تو اسے حکومت سے این او سی لینا پڑے گا۔ ناقدین کے مطابق یہ عمل طویل اور کرپشن کا باعث بن سکتا ہے، جس سے چرچ اپنی ہی جائیداد پر اختیار کھو دے گا۔ وفاقی قانون (2002) بمقابلہ صوبائی قانون ، مسیحی برادری کا ایک بڑا موقف یہ ہے کہ جب 2002 کا وفاقی آرڈیننس پہلے سے موجود ہے (جسے سپریم کورٹ کے کئی فیصلوں میں تحفظ دیا گیا ہے)، تو پنجاب میں نئے قانون کی کیا تک بنتی ہے؟ ان کا خدشہ ہے کہ صوبائی حکومت اس قانون کے ذریعے وفاقی تحفظات کو کمزور کر سکتی ہے۔”مافیا” کے خلاف کارروائی یا کنٹرول؟ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون “لینڈ مافیا” کو روکنے کے لیے ہے جو چرچ کے بعض عہدیداروں کے ساتھ مل کر زمینیں ہڑپ کر لیتے ہیں۔ لیکن چرچ کی قیادت کا کہنا ہے کہ مافیا کو روکنے کے لیے پہلے سے موجود قوانین (جیسے کہ جعل سازی اور فراڈ کے قوانین) کافی ہیں، اس کے لیے چرچ کی پوری جائیداد کو حکومتی نگرانی میں دینا ضروری نہیں۔
پاکستان کا آئین (آرٹیکل 20) تمام اقلیتوں کو اپنے مذہبی اداروں کے انتظام اور دیکھ بھال کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، پراپرٹی پر حکومتی قدغن لگانا اس آئینی حق کی خلاف ورزی تصور کی جا سکتی ہے۔اس معاملے میں حکومت اور مسیحی برادری کے درمیان “اعتماد کا فقدان” سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ برادری سمجھتی ہے کہ تحفظ کے نام پر ان کی جائیدادوں کو “نیشنلائز” کرنے یا سرکاری کنٹرول میں لینے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ حکومتی موقف اور مسیحی برادری کے خدشات کے درمیان تقسیم ہے۔ اگرچہ پنجاب حکومت کا باضابطہ موقف یہ ہے کہ وہ پراپرٹی کو “تحویل” (Takeover) میں نہیں لے رہی، بلکہ “تحفظ” (Protection) دے رہی ہے، لیکن اقلیتی برادری اسے شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے کیونکہ یہ معاملہ اب صرف قانونی نہیں رہا بلکہ سیاسی اور مذہبی رنگ اختیار کر گیا ہے۔ چرچ لیڈروں کا ماننا ہے کہ حکومت “چیک اینڈ بیلنس” کے نام پر ان کے اداروں کی ریڑھ کی ہڈی (یعنی مالیاتی آزادی) کو توڑنا چاہتی ہے۔

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author