مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


دوسری یاترا………!

دوسری یاترا………!

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

ولیم پرویز
یہ میری دوسری گرفتاری تھی ۔۔ ۔پہلی بار میں 2002میں ایک تھئیٹر پرفارم کرتے ہوئے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ گرفتار ہو ا ۔۔۔ اور پھر آٹھ مارچ 2026کو خواتین کے عالمی دن پر عورت مارچ ریلی میں شرکت کرنے پر ۔۔۔ لہٰذا؛”نہ اانکی ہار نئی ہے ، نہ اپنی جیت نئی “
عورت مارچ میں شرکت کیلئے جب میں پریس کلب کے باہر پہنچا تو پولیس نے میرے ہاتھ میں پلے کارڈ زدیکھ کر پوچھا کہ آپ کہاں جارہے ہیں۔۔۔، میں نے انہیں بتا دیا ۔۔ ۔ انہوں نے سارے پلے کارڈز دیکھے جو اقلیتی خواتین کے حقوق کے بارے میں تھے اور انہیں یہ بھی پتہ چل گیا کہ میں کرسچن ہوں۔عورت مارچ میں اپنی کمیونٹی کی خواتین کو موبلائز کرنا میں اپنی ذمہ دار ی سمجھتارہا اور ہر سال کرسچن کمیونٹی سے ایک مناسب تعداد ریلی مییں شرکت کرتی رہی ۔ لیکن تین چار سال پہلے پولیس نے لاٹھی چارج کیا، جس میں ڈاکٹر فرزانہ پر بھی کافی تشدد کیا گیا تھا ،تو کمیونٹی کی خواتین خوفزدہ ہوگئیں اور تب سے زیادہ تر نے ریلی میں آنے سے گریز کیا ۔ اب ہر سال عام خواتین کے ساتھ اقلیتی خواتین کے حقوق کی آواز بھی ہم کچھ کرسچن کیمونٹی کے مرد و خواتین اٹھاتے ہیں ، جن میں ایک میں بھی ہوں۔لیکن اس سال یہ حق بھی ہم سے چھین لیا گیا ۔میرے پرانے ساتھی اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ میں انسانی حقوق کا علمبردار ہوں اور اس میں کوئی مذہبی تفریق یا تخصیص نہیں کرتا۔ لیکن یہ میرے لئے بہت دکھ کی بات ہے کہ ایسی ریلیوں میں جو تھوڑی بہت اقلیتی نمائندگی ہے ، وہ بھی حکومتی جبر کا شکار ہے ۔پولیس سے پوچھنے پر کہ ہمارا قصور کیا ہے ، بتایا گیا کہ دفعہ 144کی خلاف ورزی ۔۔۔ اب بڑا سوال یہ ہے کہ خواتین کے عالمی دن پر دفعہ 144 لگانے کی منطق کیا ہے ۔۔؟ ۔۔ ۔ پاکستان میں سال بھر بیشتر عالمی دن منائے جاتے ہیں ، کیا سب پردفعہ 144لگائی جائیگی ۔۔ اگر نہیں ، تو اس پر کیوں؟ آخر ہماری ریاست ، خواتین مخالف پالیسی پر کیوں گامزن ہے ؟ وہ کون ہیں جو بین الاقوامی سطح پر اس حد تک کی بدنامی مُول لینے کا مشورہ دے رہے ہیں ؟ یہاں ایک وطیرہ بن گیا ہے کہ کوئی بھی احتجاج یا ریلی کا اعلان کرے، تو دفعہ ایک سو چوالیس لگا دی جائے ، اور اس کی خلاف ورزی کے پرچے کا ٹ دئیے جائیں ۔۔۔ سامراج کا یہ وراثتی قانون ایک طرح سے عوامی آوازد بانے کا ہتھیار بن چکا ہے ، جو کسی بھی طرح سے قابل قبول نہیں ۔
عورت مارچ پر گرفتار ہونے والی چوالیس خواتین اور پینتیس مرد تھے ، جو کل ملا کر اسی نوے کے قریب بنتے ہیں ، جو ریلی میں شامل نہ ہو سکے ان کو بھی شامل کرکے کوئی ڈیڑھ دو سو کی تعداد لگالیں ۔ یقینا ً یہ سو دو سو لوگ دو تین گھنٹے نعرے لگا کر وہ امپیکٹ پید ا نہ کر پاتے ، جو منفی تاثر حکومتی غیر اخلاقی ، غیر آئینی اور غیر سیاسی اس اقدام نے پیدا کیا ہے ۔ ۔۔ پوری دنیا میں پاکستان کا کیا امیج گیا ہے ؟ ۔۔۔ لیکن شاید اس وقت اس کی کوئی پروہ نہیں۔۔عورت مارچ اور ایچ آر سی پی کی مشترکہ پریس کانفرنس میں ، خواتین نے دوران حراست پولیس کے جس طرح کے سلوک کا خلاصہ بیا ن کیا ہے، وہ نہایت شرمنا ک ہے ۔ جس ریاست میں بہن بیٹی اپنے آئینی حق کے استعمال میں آزاد اور محفوظ نہیں، اسے اپنے اخلاقی جواز کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔دوران گرفتاری مردوں کے ساتھ بھی پولیس کا رویہ متشدانہ رہا ، خاص طور سے وومن پولیس اسٹیشن کے سامنے جہاں مرد گرفتار خواتین کی اخلاقی حمایت کیلئے آئے تھے۔ یہ انتہا درجہ کی فسطائیت ہے ۔ حوالات میں دیکھا گیا کہ انکے جسم پر تشدد کے واضح نشانات تھے ۔جب مجھے پریس کلب کے سامنے سے حراست میں لیا گیا تو اس وقت میں پرنز وین میں اکیلا تھا ، بعد ازاں ایک خاتون صحافی کو بھی گرفتا رکر لیا گیا جو اپنی گاڑی پہ آئی تھی ۔۔ ۔ اس کے ڈرائیور کو کہا کہ تم جا سکتےہو، لیکن اس نے خاتون کو چھوڑ کر جانے سے انکار کر دیا ، تو اسے بھی وین میں بٹھا دیا گیا اور ہم سے ہمارے موبائل فونز اور آئی ڈی کارڈز بھی لے لئے گئے ، اور میرا فون اور شناختی کار ڈ ابھی تک مجھےنہیں ملا ہے ۔۔ہم نے پولیس والوں سے کہا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو۔۔۔،ایک عالمی دن پر اس طرح کا عمل بین الاقوامی سطح پر ملکی بدنامی کے سوا کچھ نہیں، ۔۔تو انکا جواب تھاکہ ہمیں معاف کردیں۔۔ ۔ ہم مجبور ہیں۔ ۔۔ تھوڑی دیر کے بعد ایک بڑا افسر آیا ، جس نے بہت رعب اور غصے سے پوچھا کتنے لو گ ہیں حراست میں ، بتایا گیا کہ تین ،تو انہوں نے بہت رعب سےکہا کہ، ” ٹھیک ہے، انہیں شفٹ کر و ” ۔۔۔ لہٰذا گاڑی چل پڑی اور ہمیں وومن پولیس سٹیشن لایا گیا ۔۔ ، جہاں پر کچھ اور دوستوں بھی حراست میں لیا گیا تھا، ۔۔ جو گرفتا ر خواتین کی حمایت میں وہاں آئے تھے،۔۔۔۔ یہاں سےگاڑی ،مردانہ پولیس اسٹیشن کی طرف چل پڑی۔، جب ہم پولیس اسٹٰشن پہنچے تو حوالات میں کچھ طالب علم اور سینئر ساتھی پہلے سے حراست میں لئے گئے تھے ، جن میں ایک نوجوان کے چہرے پر بہت زیادہ اور شدید تشدد کے نشان تھے۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ تلاشی کے دوران اس سے کوئی میڈیسن برآمد ہوئی ، جس پر اسے مارا پیٹا گیا ۔ اب میڈیسن پاس ہونا بھی ایک جرم ہے
ذاتی طور پر میرے ساتھ پولیس کا رویہ بہت بہتر رہا ، نہ کسی نے کوئی بد تہذیبی کی اور نہ تشدد۔ اور حراست کے دوران بھی پولیس کا رویہ بہت مناسب رہا ، بلکہ سینئر ز کو بہت احترام سے بلاتے رہے، اور نوجوانوں سے بھی کوئی بد تہذیبی نہیں کی گئی ۔ یہ دیکھا گیا کہ چھوٹے ملازمین کا رویہ ، افسران کی نسبت بہت مختلف تھا۔ حتیٰ کہ جب ہمیں چھوڑ رہے تھے تو پھر بڑے افسر کا رویہ بھی بالکل مختلف اور انتہائی مودب ہو چکا تھا۔ لیکن وومن پولیس میں خواتین سے جس طرح کا سلوک عورت مارچ کی لیڈرشپ او ر کارکنان نےبتایا ہے ، وہ انتہائی شرمنا ک اور فوری طور پر محکمانہ کاروائی کا تقاضہ کرتا ہے ۔دوران حراست ایک بات جو بہت خوش آئند سامنے آئی کہ جو بھی نوجوان ہمارے ساتھ گرفتار تھے، ان میں جذبہ اور اپنے مقصد کی کلیریٹی بہت زیادہ اور نمایاں تھی ۔ وہ خوفزدہ نہیں تھےاور نہ ہی موجودہ ملکی صورتحال سے غافل۔ ایک نوجوان جو پہلی بار گرفتا ر ہوا تھا، اسے میں نے لائٹر موڈ میں کہا کہ خوش ہو جاؤ ، تمہاری مزاحمتی جدوجہد کی ویکسی نیشن ہوگئی ہے ۔ اگلی بار گرفتاری کی بیماری کے حملہ پر تمہارا نظریاتی مزاحمتی نظام زیادہ بہتر طور سے کام کریگا۔عورت مارچ پر کریک ڈاؤن کرنے والوں کا سوچنا ہوگا کہ انہوں نے اس شرمناک عمل سے حاصل کیا کیا ہے ، ۔۔۔ یا ان کو اس سے کیا کامیابی ملی ہے؟ عورتوں کو زیر کرنے کی کو شش میں انہوں نے کونسی نام نہاد سیاسی یار یاستی مردانگی کو ثابت کیا ہے ؟ ۔۔۔ ایک بات ریاستی جبر کو اچھی طرح سے ذہن نشین کر لینا چاہیے ، جب آوازیں بند کی جائیں ، تو خاموشی زبان بن جاتی ہے ۔۔۔ ، جب ہر طرف چپ ہوتو سناٹا چیخ بن جاتا ہے ۔۔۔ ، آپ آوازوں کو جتنا دبائیں گے ، خاموشی کار دعمل اتناہی واشگاف ہو گا، ۔۔ ۔ لہٰذا شخصی او ر اظہار رائے کی آزادی کی طرف جتنا جلد ہو سکے لو ٹ آئیے ۔۔۔ ، ملک میں بڑھتی مایوسی ، عوامی سطح پر مزید نفرت کو جنم دےرہی ہے ۔ اس جبر پر خوش نہ ہوں، یہ ماتم کا متقاضی ہے ۔ ۔ ۔یہ ایسی دلدل ہے،جس میں جتنا گہر ا جائیں گے ، باہر نکلنا اتنا ہی مشکل ہو تا چلا جائیگا۔

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author