مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


اسلاموفوبیا اور اقلیتیں!

اسلاموفوبیا اور اقلیتیں!

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

خالد شہزاد
جہاں دنیا بھر میں 15 مارچ کو “اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن” کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب کا مقابلہ کیا جا سکے، وہیں اپنے ملک (پاکستان) میں غیر مسلموں کے ساتھ ہونے والے رویوں پر بھی سنجیدہ گفتگو کی ضرورت ہے۔
مذہبی عدم رواداری (Religious Intolerance)
پاکستان میں غیر مسلموں (مثلاً مسیحی، ہندو، سکھ، احمدی وغیرہ) کے ساتھ ریاست یا مخصوص گروہوں کا جو رویہ ہوتا ہے، اسے بین الاقوامی سطح پر مذہبی عدم رواداری کہا جاتا ہے۔ یہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی معاشرہ یا ریاست اپنے غالب مذہب کے علاوہ دیگر عقائد کو برداشت کرنے یا انہیں برابر کے حقوق دینے سے کتراتی ہے۔مینارٹی فوبیا (Minority-phobia) جس طرح مغرب میں مسلمانوں کو “اقلیت” ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا جاتا ہے، اسی طرح یہاں بھی اقلیتوں کے خلاف ایک خاص قسم کا خوف یا نفرت پائی جاتی ہے، جسے منارٹی فوبیا کہا جا سکتا ہے۔ اس میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اقلیتیں ملک کی نظریاتی بنیادوں کے لیے خطرہ ہیں یا وہ بیرونی ایجنٹ ہیں۔
ساختہ امتیاز (Institutionalized Discrimination)
جب ریاست کے قوانین یا سماجی ڈھانچے میں کسی خاص گروہ کے خلاف تفریق موجود ہو، تو اسے ساختہ امتیاز کہا جاتا ہے۔ اس کی مثالوں میں شامل ہیں: ملازمتوں میں مخصوص کوٹے یا صفائی جیسے کاموں کو مخصوص طبقوں سے منسوب کرنا۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں متعصبانہ رویہ، سرکاری کالجوں، یونیورسٹیوں ، میڈیکل کالجوں اور ٹیکنیکل یونیورسٹیوں میں اقلیتی طلبا و طالبات کے لیے داخلہ کے لیے انتہائی محدود مگر مشکل طریقہ کار ، توہینِ مذہب کے قوانین کا غلط استعمال، جس کا شکار اکثر اقلیتیں ہوتی ہیں۔ سماجی سطح پر ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے یا کھانے پینے میں پرہیز کرنا۔اسلاموفوبیا اور پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک میں ایک بنیادی فرق ہے۔ اسلاموفوبیا ، یہ اکثر مغرب میں اسلام کی “اجنبیت” یا دہشت گردی کے غلط تصورات سے جڑا ہوا ہے۔
مقامی تعصب، یہ اکثر “برتری کے احساس” (Superiority Complex) اور مذہبی تشریح کے غلط استعمال پر مبنی ہوتا ہے۔پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور اس “فوبیا” یا تعصب کے خاتمے کے لیے قانونی اور انتظامی سطح پر کئی اہم اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اگر ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے تو معاشرے میں رواداری پیدا کی جا سکتی ہے۔پاکستان کے تناظر میں درج ذیل اقدامات کلیدی ثابت ہو سکتے ہیں ۔
قوانین کا غلط استعمال روکنا :پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف سب سے زیادہ تعزیری قوانین (مثلاً توہینِ مذہب کے قوانین) کا غلط استعمال دیکھا گیا ہے۔قانون میں ایسی ترمیم کی جائے کہ جھوٹا الزام لگانے والے کو بھی وہی سزا ملے جو جرم ثابت ہونے پر ملتی ہے۔ اس سے ذاتی عناد یا جائیداد کے جھگڑوں میں اقلیتوں کو نشانہ بنانا بند ہوگا۔ یکساں شہریت کا تصور ، آئینِ پاکستان میں کچھ عہدوں (مثلاً صدر اور وزیراعظم) کے لیے مسلمان ہونے کی شرط موجود ہے۔ریاست کو “مذہبی شناخت” کے بجائے “سیاسی شناخت” (پاکستانی ہونا) پر توجہ دینی چاہیے۔ تمام شہریوں کو قابلیت کی بنیاد پر ہر عہدے کے لیے اہل ہونا چاہیے۔ہمارے تعلیمی نصاب میں اکثر غیر مسلموں کو “دشمن” یا “کمتر” دکھایا جاتا ہے۔نصاب سے نفرت انگیز مواد نکال کر ایسی کہانیاں اور تاریخ شامل کی جائے جو قیامِ پاکستان میں اقلیتوں کے کردار (مثلاً ایس پی سنگھا، جسٹس کارنیلیس وغیرہ) کو اجاگر کرے۔جبری تبدیلیِ مذہب کے خلاف قانون سندھ اور دیگر علاقوں میں اقلیتی بچیوں کے جبری تبادلہ مذہب کے واقعات ایک سنگین مسئلہ ہیں جس کے لیے سخت انتظامی و قانونی اصطلاحات نافذ کی جائیں، خاص طور سے جبری تبدیلیِ مذہب کے خلاف سخت قانون سازی کی جائے اور شادی کے لیے کم از کم عمر (18 سال) کا قانون پورے ملک میں سختی سے نافذ کیا جائے۔
سماجی و اقتصادی تحفظ کے لیے صرف قانون کافی نہیں، بلکہ اقلیتوں کو معاشی طور پر بھی برابر لانا ضروری ہے۔
سرکاری ملازمتوں میں صفائی ستھرائی کے کاموں کو صرف غیر مسلموں کے لیے مخصوص کرنے کی روایت ختم کی جائے اور انہیں اعلیٰ عہدوں پر لانے کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں، کیونکہ پاکستان نے کئی ایسے بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کر رکھے ہیں جو اسے قانونی اور اخلاقی طور پر پابند بناتے ہیں کہ وہ اپنے تمام شہریوں، بشمول غیر مسلموں، کو بلا تفریقِ مذہب مکمل تحفظ فراہم کرے، ان میں سب سے اہم میثاقِ مدینہ کی جدید مثالیں موجود ہیں۔شہری و سیاسی حقوق کا عالمی عہد نامہ (ICCPR)۔پاکستان نے 2010 میں اس پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ ریاست کو پابند کرتا ہے کہ، ہر شہری کو اپنی پسند کے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہو۔ کسی بھی شہری کو اس کے عقیدے کی بنیاد پر تشدد یا امتیازی سلوک کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ قانون کی نظر میں سب برابر ہوں۔انسانی حقوق کا عالمگیر اعلامیہ (UDHR)
اس اعلامیہ کی دفعہ 18 خاص طور پر مذہبی آزادی سے متعلق ہے۔ یہ کہتی ہے کہ ہر انسان کو اپنی سوچ، ضمیر اور مذہب کی آزادی کا حق حاصل ہے، جس میں اپنا مذہب بدلنے یا اکیلے یا دوسروں کے ساتھ مل کر علانیہ اپنے مذہب کی تعلیمات پر عمل کرنے کی آزادی شامل ہے۔اقلیتوں کے حقوق کا اقوامِ متحدہ کا اعلامیہ (1992)۔یہ چارٹر ریاستوں پر زور دیتا ہے کہ وہ اقلیتوں کی مذہبی، لسانی اور ثقافتی شناخت کا تحفظ کریں۔ اس کے مطابق اقلیتوں کو ریاست کے فیصلوں میں حصہ لینے کا پورا حق ہونا چاہیے، جبکہ پاکستان میں آج تک کسی بھی حکومت نے اقلیتوں کو ہر اہم قومی معاملات میں نظر انداز کیا ہے۔سپریم کورٹ کا “جسٹس تصدق جیلانی” فیصلہ (2014)
پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اقلیتوں کے حقوق پر یہ سب سے بڑا فیصلہ ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم ہے۔
اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے خصوصی پولیس فورس بنائی جائے۔نصاب سے نفرت انگیز مواد نکالا جائے۔
حکومت اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی کے لیے ایک نیشنل کونسل بنائے۔ کسی بھی قانونی کارروائی یا چرچ کی تعمیر کے لیے اس فیصلے کا حوالہ (Jillani Judgment) دینا ایک مضبوط قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز (NCM)
یہ کمیشن خاص طور پر غیر مسلموں کے مسائل حل کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اگر کسی علاقے میں کمیونٹی کو اجتماعی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہو، تو یہ کمیشن وزارتِ مذہبی امور کے ذریعے مداخلت کر سکتا ہے۔
اسلام ہمیں اقلیتوں کے تحفظ اور ان کے حقوق کی پاسداری کا درس دیتا ہے۔ جب ہم مغرب سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں، تو اخلاقی طور پر ہم پر لازم ہوتا ہے کہ ہم اپنے ملک میں رہنے والوں کو بھی وہی حقوق فراہم کریں۔
پاکستان میں عملی صورتحال اور چیلنجز :اگرچہ ہم نے ان معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، لیکن بین الاقوامی برادری (جیسے یورپی یونین) اکثر پاکستان کی GSP Plus پوزیشن کو ان حقوق سے مشروط کرتی ہے۔ اگر ہم اقلیتوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے تو معاشی عالمی تجارت میں ملنے والی مراعات ختم ہو سکتی ہیں۔
سفارتی تنہائی: ہمیں عالمی فورمز پر بھارت یا دیگر ممالک کے سامنے اخلاقی برتری حاصل کرنے میں مشکل ہوتی ہے جسکی وجہ سے ہمیں سفارتی سبکی اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اگر یہ لوگ پاکستان کی بنیادوں میں شامل ہیں، تو آج ان کی برادریوں کو “فوبیا” یا خوف کا شکار کرنا پاکستان کی اساس کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author