مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


قصہ قائد کی ایک تقریر کا—–!

قصہ قائد کی ایک تقریر کا—–!

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

سمیر اجمل

”آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندرو ں میں جانے کے لئے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لئے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادتگاہ میں جانے کے لئے۔ آپ کاتعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہوریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں“یہ وہ الفاظ ہیں جو پاکستان میں امتیازی سلوک اور رویہ جات کا سامنا کرنے والے مذہبی اقلیتوں کے لئے آکسیجن کا درجہ رکھتے ہیں اور یہ الفاظ ہیں بانی پاکستان محمد علی جناح کی 11اگست 1947کی تقریر کے جو انہوں نے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی افتتاحی تقریب میں کی تھی۔ یہ تقریر پاکستان بھر کی اقلیتوں کے لئے ایک سلوگن کا درجہ اختیار کر چکی ہے اقلیتوں کی چاہے کوئی سیاسی سرگرمی ہو سماجی‘قانونی حتی کا مذہبی تقریبا ت میں بھی اس تقریر کا ضرور ذکر ملتا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اقلیتوں کی کچھ سیاسی اور سماجی تنظیموں کا سلسلہ روزگار بھی اس سے وابستہ ہے تو غلط نہ ہوگا‘ اسی تقریر کو بنیاد بنا کر ایک اقلیتی رہنماء نے سیاسی جماعت سے 11اگست کے دن کو بطور یوم اقلیت منظور کروا لیا تھا اور اب ہر 11اگست کو پاکستان کے بھر میں یوم اقلیت کے حوالے سے تقریبات کا انعقاد کیا جاتاہے اقلیتوں کی سیاسی اور سماجی تنظیموں کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے بھی یوم اقلیت کی مناسبت سے سرکاری سطح پر تقریبا ت منعقد ہوتی ہیں امسال پنجاب حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر ہفتہ اقلیت منانے کا بھی اعلا ن کیا گیاہے جس کا 7اگست کو افتتاح کیا گیاہے۔ یہ افتتاحی تقریب کیتھڈرل چرچ لاہور میں منعقد ہوئی تھی جس میں صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑا‘سمیت غیر ملکی سفارتکاروں اور اقلیتوں کے مذہبی‘ سیاسی و سماجی رہنماؤ ں نے شرکت کی ہفتہ اقلیت کی افتتاحی تقریب کے بعد صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور زیر قیادت ایک قافلہ دیگر اقلیتوں (ہندؤں اور سکھوں) کی عبادتگاہوں اور بادشاہی مسجد میں گیا جس سے یہ تاثر بھی ختم ہوگیا ہے کہ قائد اعظم کی 11اگست کی تقریر سے صرف ایک کیمونٹی (مسیحی برادری) زیادہ متاثر ہے اور انہیں کے ایک وزیر (شہباز بھٹی) نے اپنے دور حکومت میں 11اگست کو بطور یوم اقلیت منانے کی منظوری لی تھی۔ یہ ایک حقیت ہے کہ 11اگست کو بطور یوم اقلیت منانے میں مسیحی برادری ہی پیش پیش ہوتی ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسی تقریر کو ایجنڈے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ان کی کچھ سماجی تنظمیں اپنے معاملات چلا رہی ہیں اگرچہ وہ حوالہ سال 2014کے عدالتی فیصلہ کے دیتی ہے مگر بیانہ قائد اعظم کی 11اگست کی اس تقریر کو ہی بناتی ہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے قائد اعظم کی 11اگست کی اس تقریر کو جو پذیرائی ملی ہے اور جس طرح سے اقلیتوں کی جانب سے اس پر بیانہ استوار کیا گیاہے کسی اور تقریر پر ایسا نہیں ہواہے حالانکہ ان کی باقی کئی تقریروں میں بھی شہریوں اور اقلیتوں کے حقوق پر بات کی گئی ہے قائد اعظم کی اس تقریر کو بنیاد بنا کر 11اگست کو سرکاری سطح پر یوم اقلیت تو قرار دے دیا گیاہے مگر بعض حلقے ابھی بھی اس تقریر کے مندرجات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔یہ مندرجات شاید کبھی تسلیم کئے بھی نہ جاتے اگر مرتضی سولنگی (ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان) کا تاریخ اور سیاست سے دلچسپی کا ذوق اور تجسس ان کو اس تقریر کی حقیقت اور مندرجات تلاش کرنے پر مجبور نہ کرتا‘ سال 2012میں مرتضی سولنگی جب ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان تھے تو ان کے علم میں آیا کہ ریڈیو پاکستان کے آڈیو آرکائیوز میں قائد اعظم کی 11اگست 1947کی تقریر موجود نہیں ہے جس پر انہوں نے اس کی تلاش شروع کردی اورآل انڈیا ریڈیو سمیت غیر ملکی نشریاتی اداروں سے رابطہ کیا اور مگر کامیابی نہ ہوئی۔مرتضی سولنگی کی زبانی بیان کردہ روداد کے مطابق (جو کہ مختلف جرائد میں شائع ہوچکی ہے)انہوں نے کئی مہنیوں تک محنت کی جس کے بعد اس تقریر کے مندرجات کے حصول میں کامیاب ہوئے ان کے مطابق خیال کیا جاتاہے کہ مارشل لاء دور میں اس تقریر کے مندرجات کو ریڈیو پاکستان کے آڈیو آرکائیوز میں غائب کروایا گیاہے کیونکہ بعض حلقوں کو یہ مندرجات پسند نہیں تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے ملکی کو کلی طور پر سیکولرازم کی طرف دھکیلنے کے لئے بنا بنا بیانہ ہے اور تاریخی حقائق بھی یہی بتاتے ہیں کہ 11اگست 1947میں دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں جو کہ غیر مسلم رکن جوگند ناتھ مینڈل کی زیر صدارت منعقد ہوا تھا میں قائد اعظم محمد علی جناح نے جب یہ تقریر کی تو اس کے بعد ہی اس تقریر کے مندرجات کو حذف یا غائب کرنے کے لئے تگ و دو شروع کردی گئی تھی اگلے روز شائع ہونے والے اخبارات میں تقریر کے کچھ مندرجات حذف شدہ تھے اور بتایا جاتاہے کہ اس حوالے سے اخبارات کے دفاتر میں فون کرکے ان مندرجات کو حذف کروانے کے لئے کہا گیا تھا۔ مگر یہ تقریر اب تاریخی طور پر قائد اعظم کے حوالے سے مرتب کردہ کئی مستند کتب میں موجود ہے۔جناح پیپرز اور Quaid e Azam Muhammad Ali Jinnah:speches and satements(1947-1948) سرفہرست ہے۔ حکومت نے قائد اعظم کی اس تقریر کو بنیاد پر 11 اگست کو یوم اقلیت تو قرار دے دیا ہے مگر افسوس یہ ہے کہ اس تقریر کے مندرجات کے مطابق اقلیتوں کو جو حقوق ملنے چاہئے وہ آج بھی نہیں مل رہے کیونکہ آ ج بھی کچھ حلقے11اگست کی اس تقریر کے مندرجات کو قومی مفاد اور دو قومی نظریہ کے منافی سمجھتے ہیں۔

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author