مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


مدارس میں بچوں سے جنسی تشدد کے کیسیز لمحہ فکریہ!

مدارس میں بچوں سے جنسی تشدد کے کیسیز لمحہ فکریہ!

        Author Editor Hum Daise View all posts

 

 

انیسہ کنول
پاکستان میں مدارس کو دینی تعلیم و تربیت کے بڑے مراکز سمجھا جاتا ہے یہاں لاکھوں بچے قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور اپنے مستقبل کو اسلامی اقدار کے مطابق سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم افسوس ناک امر یہ ہے کہ کچھ مدارس میں بچوں سے زیادتی اور جنسی تشدد کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں جو نہ صرف متاثرہ بچوں کی زندگیوں پر تباہ کن اثرات ڈالتے ہیں بلکہ ان اداروں کی ساکھ اور مذہبی تعلیم کی وقعت کو بھی متاثر کرتے ہیں اس تحقیقی مضمون میں ان واقعات کی بنیادی وجوہات کو بیان کرنے کی ایک چھوٹی سی کاوش کی گئی ہے-مدارس میں عموماً مہتمم یا استاد کو مکمل اختیار حاصل ہوتا ہے جبکہ نگرانی اور احتساب کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں ہوتا یہ غیر متوازن طاقت بعض اوقات بدعنوان معاشی اور سماجی پس منظر میں کے جاتی ہے اور انسانیت سے گرے رویوں کو جنم دیتی ہے -زیادہ تر بچے غریب یا پسماندہ گھرانوں سے آتے ہیں وہ نہ صرف مالی انحصار کا شکار ہوتے ہیں بلکہ اپنی مظلومیت کو بیان کرنے کی ہمت بھی نہیں رکھتے اس خاموشی سے مجرموں کے لیے ماحول سازگار ہو جاتا ہے اور پھر ان کو بدنامی کا خوف الگ سے ہوتا ہے
پاکستانی معاشرہ میں جنسی جرائم پر بات کرنے کو معیوب سمجھتا ہے والدین اور متاثرہ بچے عزت و وقار کے ڈر سے کیس رپورٹ نہیں کرتے جس سے مسئلہ مزید گھمبیر ہو جاتا ہے دوسرا ان کو قانونی عمل درآمد کی کمزوریوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے -اگرچہ” زینب الرٹ ایکٹ” اور دیگر قوانین نافذ ہیں مگر پولیس کی سستی، عدالتی تاخیر اور شواہد کے فقدان کے باعث انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے نتیجتاً مجرم سزا سے بچ نکلتے ہیں پاکستان میں تفتیش اور عبرتناک سزاؤں کا فقدان ایک بہت بڑا مسئلہ ہے -جب زیادتی کے مرتکب افراد کو فوری اور سخت سزا نہیں ملتی تو اس جرم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں یقینی اور فوری سزا جرائم کی روک تھام میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے متاثرہ بچے عمر بھر کے لیے خوف ڈپریشن اور اعتماد کی کمی کا شکار ہو جاتے ہیں پھر خاندان بدنامی کے خوف سے سماجی تنہائی اختیار کر لیتے ہیں بچے تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں یا مدارس سے بدظن ہو جاتے ہیں- سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ اس سے مدارس کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور والدین کا اعتماد بھی کمزور ہوتا ہے تمام مدارس کی باقاعدہ رجسٹریشن اور مانیٹرنگ سسٹم لازمی بنایا جائے آزاد کمیٹیاں تشکیل دی جائیں جو وقتاً فوقتاً ان اداروں کا دورہ کریں بچوں اور والدین کی آگاہی کے لیے اقدامات کرہں مدارس کے نصاب میں بچوں کے بنیادی حقوق اور جسمانی تحفظ سے متعلق مضامین شامل کیے جائیں والدین کو بیداری مہمات کے ذریعے اپنے بچوں سے قریبی تعلق اور اعتماد قائم کرنے کی ترغیب دی جائے قائم کی جائیں تاکہ جلد فیصلہ ہو سکے مجرموں کو سخت اور عبرتناک سزا دے کر دوسرے افراد کے لیے مثال قائم کی جائے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال مدارس کے ہوسٹل اور کلاس رومز میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں اور ایک خفیہ شکایتی نظام بنایا جائے جس کے ذریعے طلبہ بلا خوف شکایت درج کرا سکیں-متاثرہ بچوں کو مفت نفسیاتی علاج اور کونسلنگ فراہم کی جائے کمیونٹی کی سطح پر ایسے مراکز قائم کیے جائیں جو متاثرہ خاندانوں کو قانونی اور معاشرتی سہولت فراہم کریں -مدارس کو بچوں کی اخلاقی اور دینی تربیت کے مراکز ہونا چاہیے، لیکن بچوں سے زیادتی کے بڑھتے ہوئے کیسز اس بنیادی مقصد کو مجروح کرتے ہیں یہ مسئلہ صرف قانونی پہلو کا نہیں بلکہ سماجی اخلاقی اور انتظامی پہلوؤں کا بھی حامل ہے اگر ریاست، والدین، معاشرہ اور مدرسہ انتظامیہ مل کر مؤثر اقدامات اٹھائیں، تو نہ صرف ایسے واقعات کو کم کیا جا سکتا ہے بلکہ بچوں کو ایک محفوظ اور باعزت تعلیمی ماحول بھی فراہم کیا جا سکتا ہے بچوں کا تحفظ ہی دراصل ایک مہذب اور اسلامی معاشرے کی اصل پہچان ہے

 

 

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author