Author Editor Hum Daise View all posts
سمیر اجمل
”یہ تحریر 31اگست 2023 ”ہم سب ” پر شائع ہوچکی ہے صاحب مضمون کی اجازت اور ہم سب کے شکریہ کے ساتھ ہم دیس کے قارئین کی دلچسپی کے لیے شائع کی جا رہی ہے “
سانحہ جڑانوالہ کے بعد بحالی کا کام جاری ہے ’ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق جلاؤ گھیراؤ سے جڑانوالہ میں 21 چرچ اور 86 گھر متاثر ہوئے ہیں جبکہ مسیحوں کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 24 چرچ اور 95 گھروں کو نقصان پہنچا ہے‘ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سانحہ کے دوسرے روز ہی چرچز کی مرمت کا کام شروع کر دیا گیا تھا ’جس سرعت سے یہ کام کیا گیا ہے اس نے بہت سے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ سانحے کے تیسرے روز ہی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں کی صفائی کا عمل شروع کر دیا گیا تھا جس کے لئے فیصل آباد شہر سے سینٹری ورکرز کی بڑی تعداد کو بلوایا گیا تھا‘ انتظامیہ کے اس اقدام پر مسیحوں کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا تھا تاہم اس بارے میں انتظامیہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعلی پنجاب نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنا ہے اس لئے صفائی کی جا رہی ہے اور اس کے لئے مذہبی رہنماؤں (فادرز اور پادریوں ) سے اجازت لی گئی ہے۔
یہ بات آن دی ریکارڈ موجود ہے کہ کچھ چرچز کے پاسٹرز کی جانب سے فوری صفائی اور ملبہ ہٹانے پر احتجاج بھی کیا گیا تھا مگر ضلعی انتظامیہ کا موقف ہے کہ مذہبی رہنماؤں سے معاملات طے پانے اور اجازت ملنے کے بعد صفائی کی گئی ہے ’اس بات کی تصدیق کاتھولک چرچ کے فادرز کی جانب سے بھی کی جا چکی ہے کہ وزیر اعلی کے دورہ کے لئے انہوں نے صفائی کی اجازت دی تھی‘ اگر بات صفائی تک یا ملبہ ہٹانے تک ہوتی تو شاید اتنی تشویش نہ ہوتی ’مگر جس تیزی سے متاثرہ گرجا گھروں کی مرمت کی گئی ہے یہ امر تشویشناک بھی ہے اور حیران کن بھی!
سانحہ جڑانوالہ کے ٹھیک چار دن بعد وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی نے جڑانوالہ کا دورہ کیا‘ جس چرچ میں انہوں نے مسیحوں سے ملاقات کی وہ بھی جلا دیا گیا تھا مگر حیرت انگیز طور پر صرف تین روز کے اندر نہ صرف اس چرچ کو مرمت کر کے اس میں کارپٹ بچھا دیے گئے تھے بلکہ اے سی بھی لگا دیا گیا تھا۔ چرچ کو اندر باہر سے دیکھ یہ محسوس ہی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ یہ چرچ جلایا گیا ہے ’تاہم چرچ میں موجود کچھ افراد یہ شکوہ ضرور کر رہے تھے کہ چرچ میں وائٹ واش بھی نہیں کی گئی دیواروں پر وال پیپرز اور چھت پر سیلنگ لگا کر وزیر اعلی کو بالکل نیا چرچ دکھا دیا گیا ہے جبکہ سیلنگ کے نیچے جلی ہوئی چھت ویسے کی ویسے ہی ہے‘ وزیر اعلی کی آمد پر میں چرچ کے اندر موجود تھا اس لئے میں نے خود چرچ کے پاسٹر کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا کہ اس چرچ کی تزئین و آرائش کے لئے ضلعی انتظامیہ کے افسران خاص کر اسٹنٹ کمشنر دو راتوں تک چرچ میں موجود رہے ہیں اور انہوں نے یہ راتیں چرچ میں جاگ کر گزاری ہیں ’اندازہ کریں جو چرچ مکمل جلا دیا گیا ہو اس کے بنیادوں تک آگ پہنچ گئی ہو وہ صرف دو دن میں کیسے مرمت کیا جا سکتا ہے‘ ایسے کچھ مناظر مجھے کرسچن کالونی جڑانوالہ میں بھی دیکھنے کو ملے تھے ’کرسچن کالونی میں سانحہ جڑانوالہ کے بعد اتوار کی پہلی عبادت کا اہتمام گلی میں کیا گیا تھا‘ جس گلی میں عبادت ہو رہی تھی اسی گلی میں واقع ایک بڑے چرچ (کاتھولک چرچ) کی مرمت کا جاری تھا یہاں پر بھی میں نے چرچ کے فادر (خالد مختار) کو ضلعی انتظامیہ سے بحث کرتے ہوئے دیکھا ’فادر خالد مختار افسران سے گلہ کر رہے تھے کہ چرچ کی چھت پر وائٹ واش کیے بغیر سلینگ لگائی جا رہی ہے مگر ان کے احتجاج کے باوجود وائٹ واش کے بغیر ہی چرچ کی سلینگ لگا دی گئی اور جتنی دیر گلی میں عبادت جاری رہی اتنی دیر میں چرچ میں کارپٹ بھی بچھا دیے گئے تھے۔
یہ جڑانوالہ کے ایک یا دو چرچ کی مرمت کا احوال نہیں ہے‘ جڑانوالہ میں جلائے گئے تمام چرچز کی ایسی ہی مرمت کی گئی ہے ’چھتوں پر سلینگ اور دیواروں پر وال پیپرز لگا کر چرچ نئے بنا دیے گئے ہیں مگر یہ نہیں دیکھا گیا کہ جلنے اور چھتوں کے گرنے کے باعث دیواروں اور بنیادوں کو جو نقصان پہنچا ہے اس کی مرمت نہ ہونے سے مستقبل میں کیا نقصانات ہو سکتے ہیں‘ اس حوالے سے ماہرین تعمیرات کا کہنا ہے کہ جلنے کے باعث جب کسی عمارت کی چھتیں گرتی ہیں تو اس کی بنیادیں کمزور ہوجاتی ہیں اور دیواروں میں لگا مسالہ (سیمنٹ اور ریت) کی طاقت کم ہوجاتی ہے اگر ان عمارتوں کی بنیادیں پر توجہ نہ دی جائے تو یہ حادثے کا باعث بن سکتی ہیں۔
جڑانوالہ میں تمام چرچز گنجان آبادیوں میں واقع ہیں ’ہر چرچ کے ارد گرد گھر موجود ہیں‘ بنیادوں اور دیواروں کی مرمت کے بغیر چرچز کی تزئین و آرائش اردگرد کے رہائشیوں کو بارود کے ڈھیر پر بٹھانے کے مترادف ہے ’جلنے کی تپش ابھی بھی دیواروں اور بنیادوں کے اندر موجود ہے ذرا سا جھٹکے سے یہ عمارتیں زمین بوس ہو سکتی ہیں جو کہ ارد گرد واقع مکانات کے نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔
Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *