Author Editor Hum Daise View all posts
تحریر و تحقیق : سمیر اجمل
شہری آبادیوں میں شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں پر کہ گھر میں کام کرنے والا ملازم نہ ہو, صفائی کرنے والے ماسی ,کھانا بنانے والے باورچی یا چھوٹے بچوں کی سنبھالنے والی آیا یا آپی کی صورت میں ہر گھر میں کوئی نہ کوئی گھریلو ملازم ضرور موجود ہوتا ہے. بدقسمتی سے پنجاب میں گھریلو ملازمین کے حوالے سے اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں جس کی وجہ سے ان کی مشکلات اور مسائل کا ادراک کرنا اور ان کے حل کے لئے حکمت عملی تشکیل دینا ممکن نہیں ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے دعوے تو کئے جاتے ہیں کہ گھریلو ملازمین کے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کے جارہے ہیں مگر صورتحال اس کے برعکس ہے۔ پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ تو بنا دیا گیا ہے مگر اس پر عملدرآمد نادار ہیں جس کی وجہ سے گھریلو ملازمین پسماندگی کا شکا ر مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں-
گھریلو ملازمین کی حالت زار اور مسائل
شازیہ بی بی کا تعلق فیصل آباد سے ہے – وہ پانچ بچوں کی ماں ہے جن کا خاوند پانچ سال قبل گردوں کے مرض کے باعث فوت ہو چکاہے جس کی وجہ سے بچوں کی کفالت کے لئے وہ اور اس کی دو بیٹیاں لوگوں کے گھروں پر کام کرنے پرمجبور ہیں۔ شازیہ بی بی کی کہنا ہے شروع میں اس کی بیٹی جب چھوٹی تھی تو اس کے ساتھ گھروں میں کام کرنے جاتی تھی جن کے گھر وں میں وہ کام کرتی تھی اس کے ذمہ ان کے چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال اور ان کو کھلانا تھا اس کے عوض اسے پرانے کپڑے‘ بچا ہو ا کھانا اور عید تہوار کے موقع پر عیدی کے طور پر کچھ پیسے مل جاتے تھے اور اب جب وہ بڑی ہوگئی ہے تو وہ بھی انکی طرح گھروں میں پورا ٹائم کام کرتی ہے۔ گھر کی صفائی‘برتن دھونا‘ کھانا پکانا اور بعض اوقات بی بی جی (مالکن) کو دبانا بھی ان کی ذمہ داری میں شامل ہے مگر اس کے عوض انہیں جو معاوضہ یا مزدوری ملتی ہے وہ اتنی نہیں ہے کہ اس سے گھر کے اخراجات ہی پورے ہوسکیں۔اس وجہ سے وہ اپنے بچوں کو پڑھانے سی بھی قاصر ہے-
گھریلو ملازمین پر تشدد اور جنسی ہراسانی
گھریلو ملازمین کو جہاں پرتشدد رویہ جات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہاں پر انہیں جسمانی تشدد اور جنسی ہراسانی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جن میں سے کچھ واقعات جن میں کسی ملازم کی جان گئی ہو یا شدید زخمی ہوا ہو تو میڈیا میں رپورٹ ہوجاتے ہیں جبکہ معمولی نوعیت کے واقعات منظر عام پر ہی نہیں آتے اور ان گھریلو ملازمین کو یہ ظلم ستم یونہی خاموشی کے ساتھ سہنا پڑتا ہے‘رضوانہ قتل کیس بھی اس طرح کا ایک واقعہ تھا جس میں کم سن گھریلو ملازمہ 12سالہ رضوانہ تشدد کے باعث جان بحق ہوگئی تھی رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے تھا اور یہ روالپنڈی میں ایک جوڈیشل افسر کے گھر ملازم تھی جسے فروری 2025میں پنڈی کے ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا مگر جب اس کے والدین ہسپتال پہنچے تو رضوانہ جان کی بازی ہا ر چکی تھی پولیس تحقیقات کے مطابق رضوانہ پر بے پناہ تشدد ہوا تھا جس کے باعث وہ جاں بحق ہو گئی تھی‘ایڈوکیٹ رضوانہ تبسم جو کہ بچوں کے حقوق کے حوالے سے کام کرتی ہیں کا کہنا ہے کہ تشدد اور ہراسانی کا سامنا زیادہ تر کم عمر گھریلو ملازمین کو کرنا پڑتا ہے‘پنجاب میں چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی جانب سے اس حوالے سے متاثرین کو تحفظ اور قانونی معاونت تو فراہم کی جاتی ہے مگر جب تک ایسے واقعات میں ملوت افراد کو سخت سزائیں نہیں ملتی یہ سلسلہ نہیں رک سکتا
گھریلو ملازمین کے اوقات کار اور اجرت
شازیہ بی بی کا کہنا ہے کہ اسے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے روزانہ د و سے تین گھروں میں کام کرنا پڑتا ہے- ہر گھر سے تین ہزار ملتا ہے اور کوئی بہت زیادہ معاوضہ بھی دے تو وہ پانچ ہزار ہوتا ہے اس طرح مجموعی طور پر وہ مہینے کا گیارہ ہزار روپے کماتی ہے جبکہ بیٹی کو بھی کا معاوضہ ملتا ہے- انہیں ہفتے میں چھ دن تو لازما کام کرنا پڑتا ہے اور اگر کسی کے گھر کوئی فنکشن ہو یا مہمان آئے ہوں تو چھٹی والے دن بھی بلا لیا جاتاہے ان سے کام زیادہ لیا جاتاہے اور اجرت کم دی جاتی ہے جبکہ اوقات کار بھی زیادہے ہیں اور چھٹیوں کا تو تصور بھی نہیں ہے‘ بیماری کی صورت میں بھی کام پر آنا پڑتا ہے-
گھریلو ملازمین کے حوالے سے مالکان کی رائے /موقف
اجرت اور اوقات کار کے حوالے سے گھریلو ملازمین کی جو رائے ہے مالکان(جن گھروں میں گھریلو ملازمین کام کرتے ہیں) کا موقف اس سے مختلف ہے۔ کرن مختار ایک سکول ٹیچر ہیں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے گھر ماسی کو کام کاج کے لئے معاونت کے لئے رکھا ہے ناشتہ وہ خود بناتی ہیں جبکہ گھر کے زیادہ کام کاج بھی خود ہی کرتی ہیں اس کے باوجود گھریلو ملازمہ کو وہی معاوضہ دیا جاتا ہے جو دوسرے لوگ دیتے ہیں۔سونیا صفدر ہاؤس وائف ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ درست ہے کہ گھریلو ملازمین کا معاوضہ کم ہے مگر جتنا وقت وہ دیتی ہیں اور جتنا کام وہ کرتی ہیں اس کے مطابق ان کو معاوضہ دیا جاتا ہے- ان کا کہنا ہے ان کے گھر جو کام کرنے آتی ہے وہ دو سے تین گھنٹے میں کام مکمل کر کے چلے جاتی ہے جس کے عوض اسے پانچ ہزار روپے دئیے جاتے ہیں, اگر چھٹی والے دن اسے بلایا جاتا ہے تو اس دن اس کو کھانا یا الگ سے پیسے دئیے جاتے ہیں مگر یہ بات درست ہے کہ گھروں میں کام کرنے والی خواتین یا افراد کو وہ سہولیات نہیں ملتی جو دوسرے کام کرنے والوں کو ملتی ہیں۔
پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ کی منظوری اور ترمیم
پنجاب میں ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ پہلی بار 2019میں منظور کیا گیا تھا جس کے مطابق 15سے کم عمر کے بچوں سے گھروں میں کام کاج نہیں کروایا جا سکتا ہے جبکہ اس ایکٹ کے مطابق گھریلو ملازمین پر کم ازکم اجرت(پنجاب میں جو کہ ا س وقت چالیس ہزار روپے)کا اطلاق بھی ہوتا ہے تاہم مالکان اور ورکرز کی آسانی کے لئے اسے گھنٹوں کے حساب سے مقرر کیا جا سکتا ہے۔اس ایکٹ کے مطابق ڈومیسٹک ورکرز کے لئے فنڈ بھی قائم کیا جانا ہے۔ پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ کو مزید موثر بنانے کے لئے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر رواں سال ترمیم کی گئی ہے جس کے مطابق ڈومیسٹک ورکرز کو صنعتی ورکرز کی طرح کم از کم اجرت,چھٹیاں اور سوشل سیکورٹی سے متعلق سہولیات دینے کا کہا گیا ہے-
پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ پر عملدرآمد کی صورتحال
پنجاب میں پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ نافذ تو کردیا گیا ہے مگر تاحال اس ایکٹ پر مکمل عملد رآمد نہیں ہوسکا ہے – اس حوالے سے اسٹنٹ ڈائریکٹر لیبرڈیپارٹمنٹ قمر عباس کا کہنا ہے کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ نے سماجی تنظیمو ں کے ساتھ مل کر ڈومیسٹک ورکرز کے متعلق ڈیٹا اکھٹا کیا تھا جو کہ سوشل سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کو بھجوایا گیا ہے مگر ایکٹ کا نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے تاحال اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے-
گھریلو ملازمین کے حقوق کے حوالے سے کام کرنے والے اتحاد لیبر اینڈ سٹٓاف یونین کے صدر ابرار سہوترہ اور ورکنگ وویمن یونین کی چیرپرسن عمرانہ سجاد کا کہنا ہے کہ پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ کا بنایا جانا اور اس میں ترمیم خوش آئند ہے مگرجب تک اس کا کلی طور پر نفاذ نہیں ہوتا گھریلو ملازمین کے حالات بہتر نہیں ہوسکتے کیونکہ پنجاب میں تاحال نہ تو گھریلو ملازمین کو سوشل سیکورٹی سے متعلقہ سہولیات حاصل ہیں اور نہ ہی مقررہ کم از کم اجرت مل رہی ہے جبکہ عمر کے حوالے سے گھریلو ملازمین کے لئے جو حد مقرر کی گئی ہے اس پر بھی عملد رآمد نہیں ہورہا ہے –
گھریلو ملازمین کے حوالے سے سماجی تنظیموں کا موقف
عدنان یوسف ایک سماجی کارکن اور کئیر فاؤنڈیشن کے صدر ہیں ان کا کہنا ہے گھریلو ملازمین کو بے پناہ مسائل کا سامناہے سماجی تنظیموں کی جانب سے آواز اٹھانے پر پنجاب حکومت کی جانب سے پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ منظور کر لیا گیا ہے, مگر نفا ذ کا طریقہ کار (رولز آف بزنس) طے نہ ہونے کی وجہ سے یہ غیر موثر ہے اس ایکٹ کی منظوری کے بعد پیس اینڈ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن (پی ڈی ایف) کے پلیٹ فارم سے لیبر ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے انہوں نے ڈومیسٹک ورکرز کی رجسٹریشن کے لئے سال 2024 میں ایک کمپئن چلائی گیی تھی جس کے تحت مختلف آبادیوں میں کیمپ لگائے گئے اورگھروں میں کام کرنے والے افراد کو اس ایکٹ کی افادیت بارے بتایا گیا- اس کمپئین کے نتیجے میں 12سو سے زائد گھریلو ملازمین کے فارم (جوکہ لیبر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ہی جاری کئے گئے تھے) مکمل کرکے لیبر ڈیپارٹمنٹ کو جمع کروائے گئے مگر اس کے بعد تاحال اس حوالے سے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی کیونکہ لیبر افسران کا کہنا ہے کہ ایکٹ کے نفاذ کا طریقہ کار طے نہ ہونے کی وجہ سے مزید پیش رفت کرنا مشکل ہے۔
















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *