Authors Hum Daise View all posts Editor Hum Daise View all posts
تحریرو تحقیق : انیسہ کنول
پاکستان کے دیہی علاقوں میں آج بھی عورتیں غیرت اور عزت کے خود ساختہ پیمانوں کے نیچے کچلی جا رہی ہیں۔ خاندان کی نام نہاد عزت کا بوجھ عورت کے کندھوں پر ڈال کر، ذرا سی نافرمانی یا خود فیصلہ کرنے کی جرأت پر اسے بدترین سزا دینا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے اوچ شریف کی رہائشی رخسانہ بی بی اس سماجی جبر کی ایک تلخ مگر عام ہوتی مثال ہیں۔
رخسانہ بی بی چھ بچوں کی ماں ہیں۔ یہ کہانی سن 2023 میں اس وقت شروع ہوئی جب ان کی بالغ بیٹی نے اپنی مرضی سے شادی کر لی۔ دیہی معاشرے میں آج بھی پسند کی شادی کو بے عزتی اور غیرت کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ کچھ عرصے بعد لڑکی اور اس کے سسرال والوں کے درمیان رشتے داروں کے ذریعے جرگہ نما صلح ہو گئی، مگر اس کے باوجود رخسانہ بی بی کا شوہر شدید غصے اور نفرت کا شکار رہا۔رخسانہ بی بی بتاتی ہیں“میری بیٹی کی شادی کا غصہ مجھ پر نکالا گیا۔ روزانہ مارپیٹ ہوتی تھی، اور کہا جاتا تھا کہ یہ سب میری غلط تربیت کا نتیجہ ہے۔ تشدد گھر کی چار دیواری میں معمول بن چکا تھا، مگر جون 2024 میں یہ ظلم اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ میں روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھی کہ میرا شوہر آیا، اس نے اپنے بھائیوں اور والدہ کو بلایا اور بھائیوں سے کہا کہ اس کے بازو پکڑو، اور میں اس کی ناک ویسے ہی کاٹتا ہوں جیسے اس کی وجہ سے ہماری ناک کٹی ہے۔”
رخسانہ کے مطابق، جب شوہر کے کہنے پر بھی دیوروں نے ان کے ہاتھ پکڑنے سے انکار کیا تو ساس نے ان کے بازو پکڑ لیے، اور شوہر نے گالم گلوچ کرتے ہوئے بڑی بے دردی سے رخسانہ بی بی کی ناک کاٹ دی۔ یوں ایک ناکردہ جرم کی سزا عورت کے چہرے پر ثبت کر دی گئی۔ ناک کاٹنے کے بعد شدید زخمی رخسانہ بی بی کو ان کے بوڑھے والدین کے حوالے کر دیا گیا، جو انہیں روتے بلکتے سرکاری ہسپتال لے گئے۔رخسانہ کی والدہ کہتی ہیں کہ“میری دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ ایک بیٹی معذور ہے اور دوسری کے ساتھ یہ ظلم کر دیا گیا۔ جب ہم نے اپنی بیٹی کو خون میں لت پت دیکھا تو ہمارے دل درد سے پھٹنے لگے، مگر گاؤں میں کسی نے آواز نہیں اٹھائی۔ سب یہی کہتے رہے کہ صلح کر لو، بدنامی نہ پھیلاؤ۔”
واقعے کے بعد پولیس میں ایف آئی آر درج کروائی گئی۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق مقدمہ متاثرہ خاتون کے والد کی مدعیت میں درج ہوا، جس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 334 (عضو تلف کرنا) اور 34 شامل کی گئیں۔ تاہم، قانونی کارروائی زیادہ دیر نہ چل سکی۔ ملزم چونکہ رشتے میں کزن تھا، اس لیے برادری درمیان میں آ گئی۔ جرگے کے ذریعے صلح کروائی گئی، اور فیصلہ ہوا کہ ملزم رخسانہ بی بی کے علاج کے تمام اخراجات ادا کرے گا، کیونکہ ڈاکٹروں نے ناک کی تین سرجریاں ضروری قرار دی تھیں۔پہلی سرجری کے اخراجات ادا کرنے کے بعد ملزم اپنے وعدے سے مکر گیا۔ اس نے نہ صرف مزید علاج سے انکار کیا بلکہ رخسانہ بی بی اور ان کی والدہ کو دھمکیاں بھی دینا شروع کر دیں۔ کچھ عرصے بعد اس نے رخسانہ بی بی کو طلاق دے دی، یوں وہ انصاف، تحفظ اور سہارے—تینوں سے محروم ہو گئیں۔پولیس حکام، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتاتے ہیں کہ دیہی علاقوں میں جرگے اکثر قانون پر غالب آ جاتے ہیں۔ متاثرہ فریق دباؤ میں آ کر خود صلح کر لیتا ہے، جس کے بعد پولیس کے لیے مؤثر کارروائی مشکل ہو جاتی ہے۔ ان کے بقول، “جب متاثرہ فریق خود قانونی کارروائی جاری نہیں رکھنا چاہے تو ہمارے لیے آگے بڑھنا ممکن نہیں رہتا۔”اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ احمد پور شرقیہ کے گاؤں بدھو والی میں پیش آیا۔ فروری 2025 میں پروین بی بی جو کہ دو بچوں کی ماں ہے اس کی ناک بھی غیرت کے نام پر کاٹ دی گئی۔ شوہر نے الزام لگایا کہ اس کا کسی مرد سے رابطہ تھا، جسے خاندان نے اپنی عزت کے خلاف سمجھا۔ وہ ایک دن غصے میں چند افراد کے ہمراہ آیا اور ناک کاٹ کر فرار ہو گیا۔ پولیس میں مقدمہ درج ہونے کے باوجود برادری کے دباؤ اور ملزم کے با اثر ہونے کے باعث یہاں بھی صلح ہو گئی، اور یہ کیس بھی بغیر کسی سزا کے ختم ہو گیا۔ایڈووکیٹ ہائی کورٹ سہیل احمد کے مطابق، پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 334 کے تحت کسی شخص کا عضو کاٹ دینا سنگین جرم ہے، جس کی سزا دس سال تک قید ہو سکتی ہےوہ کہتے ہیں کہ مسئلہ یہ ہے کہ صلح نامے کے بعد قانونی راستہ تقریباً بند ہو جاتا ہے، اور اگر ملزم وعدہ پورا نہ کرے تو متاثرہ عورت کے پاس کوئی مؤثر راستہ نہیں رہتا۔
انسانی حقوق کے کارکن حافظ مظفر کریم کا کہنا ہے کہ ناک کاٹنے جیسے واقعات عالمی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ ان کے مطابق ICCPR کے آرٹیکل 7 اور UDHR کے بنیادی اصولوں کے تحت یہ تشدد ناقابلِ قبول ہے
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کی تازہ سالانہ رپورٹ کے مطابق 2024 میں جنوری سے نومبر تک پاکستان بھر میں غیرت کے نام پر 392 خواتین قتل ہوئیں جبکہ گھریلو تشدد کے 299 کیسز رپورٹ ہوئے—اعداد و شمار جس سے عورتوں کے خلاف تشدد کی سنجیدہ جہت واضح ہوتی ہے-وزارتِ انسانی حقوق کے ایک نمائندے کے مطابق صنفی بنیاد پر تشدد کے واقعات ریاست کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہیں۔ مسئلہ قانون کی عدم موجودگی نہیں بلکہ اس پر عمل درآمد کا ہے، خاص طور پر وہاں جہاں جرگہ نظام ریاستی اداروں پر حاوی ہو جاتا ہے۔
رخسانہ بی بی اور پروین بی بی کی کہانیاں پاکستان کے دیہی معاشرے میں موجود اس ساختی عدم مساوات کا واضح ثبوت ہیں، جہاں عورتیں آج بھی خاندان کی نام نہاد عزت کے نام پر اپنے جسم، اپنی شناخت اور اپنی زندگی کی قیمت چکا رہی ہیں۔ یہ محض چند افراد کے جرائم نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی ناکامی کی داستان ہے جو عورت کو تحفظ دینے کے بجائے اسے ظلم کے سامنے بے بس چھوڑ دیتا ہے۔آج یہ اور ان جیسی بے شمار خواتین اپنے چہروں پر زخم لیے زندہ مثال بن چکی ہیں—ایک ایسے معاشرے کے لیے جو اب اپنے رویّوں، رسموں اور انصاف کے پیمانوں پر نظرِ ثانی کا متقاضی ہے

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *