مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


سانحہ جڑانوالہ ‘ انصاف کے تقاضے اور ریاستی ذمہ داری

سانحہ جڑانوالہ ‘ انصاف کے تقاضے اور ریاستی ذمہ داری

      Author Editor Hum Daise View all posts

 

تحریر: سموئیل بشیر
پاکستان میں مذہبی اقلیتوں پر حملے کوئی نیا رجحان نہیں۔ جوزف کالونی (لاہور 2013)، گوجرہ (2009)، شانتی نگر (1997) اور سانحہ جڑانوالہ (2023)، سرگودھا کے نذیر مسیح کیس ، سب ایک ہی سوال کرتے ہیں۔
ریاستی ادارے ہجوم کے تشدد کے سامنے کب تک بے بس رہیں گے؟
16 اگست 2023 کو جڑانوالہ میں مسیحی برادری پر حملہ کیا گیا۔
26 چرچ اور 200 سے زائد گھر جلائے گئے۔
5213 افراد کو نامزد کیا گیا، مگر صرف 380 گرفتار ہوئے۔
ایک سال بعد بیشتر ملزمان رہا ہو گئے یا مقدمات خارج ہو گئے۔
سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کی پیش رفت رپورٹ کو “ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے قابل” قرار دیا۔
انسدادِ دہشت گردی عدالتوں میں مقدمات ثبوت کی کمی اور تفتیشی نقائص کی وجہ سے کمزور پڑ گئے۔
پولیس کی بے عملی نمایاں رہی، جلتے گھروں اور عبادت گاہوں کے دوران بھی خاموش تماشائی بنی رہی۔
146 متاثرہ خاندانوں میں سے صرف 85 کو معاوضہ ملا۔
کئی خاندان آج بھی بے گھر یا مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
متاثرین سوال کرتے ہیں؛
ہمارے چرچ جل گئے، ہمارے گھر برباد ہوئے، مگر مجرم آزاد گھوم رہے ہیں۔
سماجی بائیکاٹ، کاروبار کی بندش اور نقل مکانی نے متاثرہ برادری کو مزید کمزور کیا۔
انسانی حقوق کے اداروں کا مؤقف ہے کہ؛
جڑانوالہ واقعہ ریاستی اداروں کی ناکامی کا عکاس ہے۔
دو سال بعد بھی انصاف نہیں ملا،
پاکستان کو اپنی عدالتی اور سکیورٹی پالیسیوں میں بنیادی اصلاح کرنی ہوگی تاکہ اقلیتیں محفوظ رہ سکیں۔
توہینِ مذہب قوانین میں سیاسی و سماجی تحفظ کا میکانزم شامل کیا جائے تاکہ ان کا غلط استعمال روکا جا سکے۔
ہجوم کے تشدد کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا جائے۔
اجتماعی حملوں کے مقدمات کی براہِ راست سپریم کورٹ مانیٹرنگ کرے۔
پولیس اور انتظامیہ کی غفلت پر فوری سزائیں دی جائیں۔
معاوضے کی فوری اور مکمل ادائیگی یقینی بنائی جائے۔
متاثرین کے لیے نفسیاتی معاونت، تعلیم اور روزگار کے پیکجز شروع کیے جائیں۔
نصاب میں مذہبی ہم آہنگی اور رواداری پر لازمی مضامین میں بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی 11اگست 1947 کی مکمل تقریر کو شامل کیا جائے۔ تاکہ ہمارے بچے جاں سکیں کہ پاکستان بناتے وقت قائداعظم کا ملکی امور چلانے کے لیے کیا ویژن تھا۔
مقامی سطح پر انٹرفیتھ کمیٹیاں جو کسی بھی جھوٹے الزام پر ہجوم کو روک سکیں۔
دو سال بعد بھی جڑانوالہ واقعہ انصاف سے محروم ہے۔ یہ صرف ایک شہر یا ایک برادری کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے عدالتی اور ریاستی ڈھانچے کی ناکامی ہے۔ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو ایسے واقعات مستقبل میں بھی دہرائے جائیں گے۔

 

 

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author