مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


لاہور میں بسنت کی واپسی خوشی ‘کاروبار کی بحالی مگر امتحان کے ساتھ !

لاہور میں بسنت کی واپسی خوشی ‘کاروبار کی بحالی مگر امتحان کے ساتھ !

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

سلیمان سلیم پڑھیار
لاہور میں بسنت کی واپسی خوشی کاروبار اور ایک اجتماعی امتحان
لاہور ایک بار پھر رنگوں روشنیوں اور یادوں کے سنگم پر کھڑا ہے قریب دو دہائیوں بعد بسنت کی واپسی نے نہ صرف شہر کی فضا بدل دی ہے بلکہ لوگوں کے رویّے منصوبے اور ترجیحات بھی بدلتی دکھائی دے رہی ہیں۔ پیلے لباس پتنگوں سے بھرا آسمان اور چھتوں پر سجی محفلیں یہ سب اس تہوار کی پہچان ہیں مگر اس بار بسنت صرف خوشی کا نام نہیں بلکہ ایک بڑا سماجی اور انتظامی امتحان بھی بن چکا ہے۔ان دنوں لاہور کے مختلف علاقوں میں درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں چھتیں کرائے پر لی جا چکی ہیں کئی مقامات پر چھتوں کا کرایہ ہزاروں سے بڑھ کر لاکھوں روپے تک جا پہنچا ہے یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ بسنت اب صرف ایک ثقافتی سرگرمی نہیں رہی بلکہ ایک منافع بخش کاروبار کی صورت بھی اختیار کر چکی ہے۔ اسی طرح پتنگوں اور ڈور کی خریداری میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے بازاروں میں رش ہے اور کئی ہفتوں سے تیاریاں جاری ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ بسنت کی کشش اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی کئی افراد نے اپنے دوستوں اور عزیزوں کو بیرونِ ملک سے خصوصی طور پر لاہور آنے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ اس تہوار کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔ یہ پہلو لاہور کے نرم تشخص اور ثقافتی طاقت کی عکاسی کرتا ہے جو طویل عرصے تک پس منظر میں چلا گیا تھا-بسنت دراصل لاہور کی ثقافتی شناخت کا حصہ ہے مگر ماضی کے تلخ تجربات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ خوشی اگر احتیاط سے خالی ہو تو المیے میں بدل سکتی ہے۔ خطرناک ڈور قیمتی جانوں کا ضیاع اور بدانتظامی وہ حقائق ہیں جن کی وجہ سے برسوں یہ تہوار پابندیوں کی نذر رہا۔ اسی تناظر میں حکومت کی جانب سے محدود اور ضابطوں کے تحت بسنت کی اجازت ایک سنجیدہ آزمائش کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ تہوار مقامی معیشت کے لیے بھی ایک موقع بن کر سامنے آیا ہے پتنگ ساز ڈور بنانے والے چھوٹے دکاندار فوڈ پوائنٹس اور دیگر وابستہ افراد ایک بار پھر متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر اس سرگرمی کو بہتر نگرانی اور واضح قواعد کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو بسنت وقتی خوشی کے بجائے پائیدار روزگار کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔نئی نسل کے لیے بسنت ایک نیا تجربہ ہے وہ نسل جس نے یہ تہوار صرف کہانیوں اور تصویروں میں دیکھا اب خود اس کا حصہ بن رہی ہے مگر یہ ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے کہ خوشی کے ساتھ شعور کو بھی فروغ دیں تاکہ آزادی اور احتیاط کے درمیان توازن قائم رہے۔سوشل میڈیا پر بسنت کے حوالے سے جوش و خروش کے ساتھ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں جعلی نوٹیفکیشنز اور غیر مصدقہ اطلاعات نے تشویش کو جنم دیا ہے ایسے میں ذمہ دار شہری ہونے کا تقاضا یہی ہے کہ ہم شیئر کرنے سے پہلے تصدیق کریں کیونکہ ایک غلط خبر بھی بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔بسنت کی اصل کامیابی اسی میں ہے کہ کوئی جان خطرے میں نہ پڑے کوئی قانون پامال نہ ہو اور خوشی خوف میں تبدیل نہ ہو اگر اس سال لاہور نے یہ تہوار نظم و ضبط ذمہ داری اور اجتماعی شعور کے ساتھ منا لیا تو یہ صرف ایک روایت کی واپسی نہیں ہوگی بلکہ آنے والے برسوں کے لیے ایک مثال قائم ہو جائے گی۔یہ تہوار صرف پتنگوں کا نہیں ہماری اجتماعی سوچ کا امتحان ہے اور اگر ہم اس امتحان میں سرخرو ہو گئے تو بسنت واقعی تہذیب کی جیت بن جائے گی۔

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author