Author Editor Hum Daise View all posts
سمیر اجمل
لو پھر بسنت آ ئی۔۔ دل ہوا بو کاٹا۔۔۔نی میں اڈی اڈی جاواں ہوا دے نال۔۔ گڈی وانگوں اج مینوں سجنا اڈائی جا۔۔۔یہ وہ گیت ہیں جو بسنت سے جڑے ہوئے ہیں۔ماضی میں فروری کا مہینہ شروع ہوتے ہی گلی محلوں میں ان گیتوں کی آوازیں آنا شروع ہوجاتی تھیں۔ آسمان رنگ برنگی پتنگوں (گڈے ’گڈیوں) سے مزین نظر آتے تھے ہر طرف رونقین ہی رونقین ہوتی تھیں‘خوشیوں کا سما!جو کہ بسنت کی آمد کا اعلان ہوتا تھا اور پھر وہ دن آہی جاتا جس دن کے بسنت منائی جاتی تھی گلی محلوں میں ڈھول تاشے والوں کی آوزیں‘ بو کاٹا کے نعرے اور انواع و اقسام کے کھابے (کھانے) یہ سب وہ یادیں ہیں جو کہ بسنت سے جڑی ہیں مگر پھر ناجانے ان خوشیوں کو کس کی نظر لگ گئی اور وہ تہوار جو کہ رنگوں اور خوشیوں کی پہچان تھا خونین بن گیا جس کی وجہ سے حکومت کو اس پابندی لگانا پڑے اس پابندی کی وجہ سے گڈے‘گڈیاں بنانے اور اڑانے والوں کو پولیس کی مار کھانا پڑی‘ حوالات میں راتیں گزرانا پڑی جس کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں سے یہ تہوار منانے کی امنگ ختم ہی ہوگئی تھی اور اس کی جگہ ڈر اور خوف نے لے لی۔اب ایک طویل عرصہ کے بعد حکومت پنجاب کی جانب سے صوبہ کے سب سے بڑے شہر صوبائی دارالحکومت اور پنجاب کے دل لاہور میں سرکاری سطح پر بسنت کا تہوار منانے کا اعلان کیا گیاہے تو پنجاب کے باسیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اگر چہ بسنت لاہور میں منائی جارہی ہے مگر اس کے حوالے سے ہر شہر میں جوش وخروش دیکھنے کو مل رہا ہے شاید اس امید سے کہ اب وہ خوشیاں جو اس تہوار سے جڑی ہوئی تھیں لوٹ آئیں گئی اور لاہو ر کے بعد دیگر شہروں میں بھی بسنت کی اجازت مل جائے گی۔ خوشیوں اور رنگوں کا تہوار بسنت خونین کھیل میں کیسے تبدیل ہوا یہ جاننے کے لئے بسنت کے پس منظر بارے جاننا ہوگا دستیاب تاریخی حوالوں میں بسنت کے تہوار کا تعلق کسی حد تک ہندو عقائد سے ہے۔یہ تہوار ماگھ کے مہینے کی پانچوں تاریج کو منایا جاتاہے جو کہ بہار کی ابتدا ء ہوتی ہے اور یوں یہ تہوار بہار کی ابتداء کا اعلان کرتا ہے ویدوں کے مطابق اس کا تعلق سرسوتی دیوی سے ہے جو کہ ہندومت کے مطابق آرٹ‘فن اور موسیقی کی دیوی ہے تاہم مذہبی حوالے سے ہٹ کر بسنت کے حوالے سے جو ایک روایت ہے اس کے مطابق دسمبر اور جنوری کے مہینے میں چونکہ برصغیر پاک ہو ہند میں سردی زیادہ پڑتی ہے اس کی وجہ سے لوگ گھروں میں قید ہو کر رہ جاتے ہیں تاہم جیسے ہی فروری میں موسم تھوڑا معتد ل ہوتاہے لوگ گھروں سے نکل آتے ہیں اور رنگ برنگے کپڑے پہن کر اسی خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ انہیں ایک قسم کی قید سے رہائی ملی ہے اور وہ آزاد ہیں اور اسی آزادی کا اظہار گڈے‘گڈیاں اڑا کر بھی کیا جاتا تھا جس سے بسنت کی بنیاد پڑی اور بسنت با ضابطہ طور پر ایک تہوار کی شکل اختیار کرگئی۔پاکستان میں بھی بسنت انتہائی جوش و خروش کے ساتھ منائی جاتی رہی مگر رنگوں اور خوشیوں کے اس تہوار نے خونین کھیل کی شکل تب اختیار کر لی جب پنجاب میں کمیکل لگی ڈور متعارف کروائی گئی سال 2005میں کچھ پتنگ سازوں کی جانب سے ایسی ڈور متعارف کروائی گئی جو کہ کٹتی نہیں تھی مگر دوسرے گڈوں کو ضرور کاٹ دیتی تھی اس ڈور میں مخصوص کیمکل کے ساتھ کانچ کو ملا کر لگایا جاتا تھا جس سے پتنگ اڑانے والوں کے ہاتھ زخمی ہونے کے ساتھ دیگر افراد (راہگیر‘عام شہریو ں) کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی آنے لگیں شروع میں چونکہ یہ ڈور مخصوص افراد بناتے تھے اس لئے یہ واقعات کم ہی رہے تاہم بعدازاں گلی محلوں میں بھی ڈور تیار کرنے والوں نے یہ ڈور بنانا شروع کردی جس سے شہریوں کے زخمی ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوگیا یہاں تک کہ گردن پر ڈور پھرنے سے اموات ہی رپورٹ ہونا شروع ہوگئی تھی تو سال 2007میں حکومت کی جانب سے بسنت پر پابندی عائد کردی گئی جس کے بعد ہر سال فروری کے مہینے میں پتنگ اڑانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جانا لگا پتنگ بنانے اور اڑانے والوں کی جیل کی ہوا کھانا پڑی مگر یہ سلسلہ رکا نہیں گڈے اڑانے والے گڈے اڑاتے رہے ہیں پابندی کے باوجود گردن پر ڈور پھرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہیں۔اب وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے ایک دلیرانہ فیصلہ لیتے ہوئے لاہور میں تین دن 6سے 8فروری تک لاہور میں تمام تر حفاظتی انتظامات کے ساتھ سرکاری سطح پر بسنت منانے کا اعلان کیا ہے۔ ڈور کی کوالٹی‘پتنگوں کے سائز تک مقرر کردیا گیا ہے تاکہ کوئی حادثہ نہ ہویہاں تک کہ موٹر سائیکلوں کے لئے سیٹفی راڈ تک دئیے جارہے ہیں کہ بائیک سوار محفوظ رہیں جب حکومت اس تہوار کو رنگوں اور خوشیاں کا تہوار بنانے کے لئے اس قدر سنجیدگی کا مظاہر ہ کر رہی ہے تو پھر شہریوں کو بھی سنجیدگی کا مظاہر ہ ہی کرنا چاہئے کیمکل والی ڈور استعمال نہیں کرنا چاہئے اور تمام تر حفاظتی انتظامات کو ملحوظ نظر رکھنا چاہے کیونکہ رنگوں اور خوشیوں کے اس تہوار کی بحالی کے لئے یہ پہلا اور آخری موقع ہی ہے


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *