انیسہ کنول Author Editor Hum Daise View all posts
انیسہ کنول
این ایف سی ایوارڈ (National Finance Commission Award) پاکستان میں مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم کا آئینی نظام
پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے جہاں چار صوبے، وفاق اور مختلف خودمختار اکائیاں موجود ہیں ان سب کی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک منصفانہ اور آئینی طریقہ کار درکار ہوتا ہے تاکہ ہر علاقے کی ترقی، ضروریات اور خدمات کی فراہمی ممکن ہواس مقصد کے لیے آئینِ پاکستان کے تحت ،،این ایف سی ایوارڈ ،،تشکیل دیا گیا ہے جو مرکز اور صوبوں کے درمیان محصولات کی تقسیم کا ضابطہ فراہم کرتا ہے
آئینی و قانونی حیثیت کے لحاظ سے این ایف سی ایوارڈ آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 160 کے تحت دیا جاتا ہے
اس کے مطابق صدرِ پاکستان ہر پانچ سال بعد ایک نیشنل فنانس کمیشن (NFC) قائم کرتے ہیں جو وفاق اور صوبوں کے مابین محاصل کی تقسیم کا جائزہ لے کر نئی سفارشات پیش کرتا ہے این ایف سی ایوارڈ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مالیاتی وسائل کی منصفانہ تقسیم کم ترقی یافتہ صوبوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہے مرکز اور اکائیوں کے درمیان مالی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوتا ہے قومی یکجہتی اور خود مختاری کو مستحکم بنانا این ایف سی ایوارڈ کا طریقہ کار
عمودی تقسیم (Vertical Distribution) ہوتا ہے یہ وہ تقسیم ہے جس میں وفاق اور تمام صوبوں کے درمیان محاصل تقسیم کیے جاتے ہیں 7ویں NFC ایوارڈ (2009) کے مطابق وفاق 42.5٪ چاروں صوبے 57.5% افقی تقسیم (Horizontal Distribution) اس طرح یہ تقسیم چاروں صوبوں کے درمیان ہوتی ہے
7ویں ایوارڈ کچھ بنیادوں پر تقسیم کی گئی
اہم این ایف سی ایوارڈز کی تاریخ اور خصوصیات ایسے ہیں پہلا 1951 ابتدائی مالیاتی تقسیم، سادہ فارمولہ
چوتھا 1974 آبادی کو واحد بنیاد بنایا گیا چھٹا 1996 صوبوں کا حصہ بڑھایا گیا لیکن ابھی بھی صرف آبادی کی بنیاد پر تقسیم تھی
ساتواں2009 سب سے جامع اور متوازن ایوارڈ میں چار عوامل شامل کیے گئے ساتواں این ایف سی ایوارڈ (2009) تاریخی پیش رفت یہ تھی کہ
یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے جامع اور انقلابی مالیاتی معاہدہ مانا جاتا ہے اس میں خصوصی اقدامات کیے گئے بلوچستان کو اس کی مالیاتی ضروریات کے مطابق اضافی فنڈز دیے گئےخیبر پختونخوا کو دہشت گردی سے متاثرہ صوبہ قرار دے کر سپیشل پیکیج دیا گیا اور سندھ کی ریونیو جنریشن کو تسلیم کیا گیا اس حوالے سے کچھ چیلنجز اور رکاوٹیں بھی پیش آئیں اس کے بعد تا حال نیا ایوارڈ نہ بن پایا ساتواں ایوارڈ کے بعد 8واں اور 9واں NFC ایوارڈ تاحال تشکیل نہیں دیا جا سکا سیاسی اختلافات، مردم شماری کے تنازعات، اور معاشی بحران اس کی راہ میں رکاوٹ بنے مرکز اور صوبوں میں اعتماد کا فقدان رہا جس میں مرکز کو شکایت ہے کہ صوبے ریونیو نہیں بڑھا رہے لیکن زیادہ حصہ مانگتے ہیں صوبے شکایت کرتے ہیں کہ مرکز اختیارات اور وسائل دینے میں تاخیر کرتا ہے غربت اور پسماندگی کا فرق ابھی بھی باقی ہے بلوچستان اور جنوبی پنجاب جیسے علاقے ابھی بھی وسائل کی قلت کا شکار ہیں تازہ ترین صورتحال (2025 تک) 7واں NFC ایوارڈ ہی نافذ العمل ہے 8واں ایوارڈ (2015) اور 9واں ایوارڈ (2020) تاحال منظوری کے مراحل سے نہیں گزر سکے نئی مردم شماری کے بعد آبادی کے تناسب میں بڑی تبدیلی متوقع ہے جو ایوارڈ پر اثرانداز ہو سکتی ہےماہرین کی رائے ہے کہ ماہرِ معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی کے مطابق
“اگرچہ 7واں ایوارڈ ایک سنگِ میل تھا لیکن وقت کی ضرورت ہے کہ نئے اقتصادی حقائق کے مطابق فوری طور پر 10واں NFC ایوارڈ دیا جائے تاکہ مالیاتی توازن بحال رہے گا ماہرین کی تجاویز کے مطابق
این ایف سی ایوارڈ نہ صرف ایک آئینی تقاضا ہے بلکہ یہ پاکستان کے معاشی استحکام اور علاقائی توازن کی بنیاد ہے شفاف، مساوی اور وقت کے تقاضوں کے مطابق مالیاتی تقسیم سے نہ صرف کمزور صوبے ترقی کریں گے بلکہ قومی یکجہتی کو بھی فروغ ملے گا نئے ایوارڈ کی فوری تشکیل کے لیے سیاسی اتفاق رائے پیدا کیا جائے محاصل میں شفافیت اور صوبائی ریونیو کلیکشن کی حوصلہ افزائی کی جائے ہر پانچ سال بعد باقاعدگی سے ایوارڈ تشکیل دینا آئینی تقاضا بنایا جائے اور کمزور علاقوں کو خصوصی گرانٹس اور فنڈز دیے جائیں
Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *