مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


“عیسائی” سے “مسیحی” تک کا سفر

“عیسائی” سے “مسیحی” تک کا سفر

      Author Editor Hum Daise View all posts

 

 

سموئیل بشیر

یہ موضوع محض زبان کا نہیں شناخت، وقار اور ریاستی رویے کا مسئلہ ہے۔ انہی دنوں ایک ورکشاپ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ ورکشاپ کا موضوع تھا مذہبی رہنماؤں کا بچوں کی حفاظت میں کردار۔ تمام مذاہب ومکاتب فکر کی نمائندگی موجود تھی۔ علماء کرام کی کثیر تعداد تھی۔ چئیرمین اسلامی نظریاتی کونسل جناب محترم راغب نعیمی صاحب مہمان خصوصی تھے۔ میرے ساتھ بیٹھے پروفیسر صاحب اور انکے بعد مہمان خصوصی نے جب میرے لئے لفظ عیسائی استعمال کیا تو مجھے احساس ہوا کہ آج موقع ہے کہ اپنا نقطہ نظر حاضرین کے سامنے پیش کرو۔ تاکہ اصلاح ہو جائے۔ پھر اپنی باری پر میں نے دلائل کے ساتھ اپنا موقف پیش کیا جو میں نے تحریر کی صورت میں قلمبند کیا ہے۔
برصغیر میں دہائیوں تک “عیسائی” ایک عام اصطلاح رہی، مگر وقت کے ساتھ اس کے ساتھ سماجی تحقیر کے مفاہیم بھی جُڑ گئے۔ خاص طور پر نچلے طبقاتی پیشوں سے جوڑ کر پکارا جانا۔ اس کے برعکس “مسیحی” براہِ راست حضرت عیسیٰؑ (المسیح) سے نسبت رکھتا ہے اور کمیونٹی کی اپنی پسندیدہ اور باوقار شناخت ہے۔ اس تبدیلی کی مہم سول سوسائٹی، کلیسیائی قیادت اور حقوقِ اقلیت کے کارکنوں نے برسوں چلائی۔
اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنی 175ویں میٹنگ (28–29 ستمبر 2009) میں سفارش کی کہ سرکاری و عوامی ریکارڈ میں “عیسائی” کی بجائے “مسیحی” لکھا/بولا جائے۔ 11مئی 2018 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے دو رکنی بینچ نے سموئیل پیارا کے انسانی حقوق کیس میں تمام اتھارٹیز کو ہدایت دی کہ سرکاری ریکارڈ، دستاویزات اور مراسلت میں “عیسائی ” کی بجائے “مسیحی ” نافذ کیا جائے، اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو انکی حقیقی روح میں لکھا اور بولا جائے۔
بعد ازاں اٹارنی جنرل آف پاکستان نے 2018 میں وفاقی و صوبائی محکموں کو یہ سفارش نافذ کرنے کے لیے مراسلہ لکھا، اور سپریم کورٹ کے احکامات کا حوالہ دیا گیا۔
متعدد ذیلی اداروں/محکموں نے اس کے مطابق نوٹیفکیشنز/سرکلرز جاری کیے۔ مثال کے طور پر حکومتِ پنجاب (محکمہ صحت) نے 24 مئی 2021 کے سرکلر میں اسی سپریم کورٹ آرڈرکی روشنی میں ہدایت دی کہ ہر سرکاری ریکارڈ میں “مسیحی” لکھا جائے۔ستمبر 2009 میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش اور بعد ازاں 2018 کا سپریم کورٹ آف پاکستان کی واضح ہدایت سنگ میل ہے۔ بعد کے برسوں میں مختلف سرکاری ادارہ جاتی مراسلہ جات و صوبائی سرکلرز کے ذریعے اس پر عملدرآمد کو آگے بڑھایا گیا۔یہ ایک مرحلہ وار عمل تھا، ایک واحد وفاقی گزٹ کے بجائے مختلف عدالتی حکم + وفاقی ہدایات + محکماتی/صوبائی سرکلرز کے امتزاج سے اصطلاح رائج/نوٹیفائی ہوئی ۔
یہ ایک مرحلہ وار عمل تھا، ایک واحد وفاقی گزٹ کے بجائے مختلف عدالتی حکم + وفاقی ہدایات + محکماتی/صوبائی سرکلرز کے امتزاج سے اصطلاح رائج/نوٹیفائی ہوئی ۔یہ ایک مرحلہ وار عمل تھا، ایک واحد وفاقی گزٹ کے بجائے مختلف عدالتی حکم + وفاقی ہدایات + محکماتی/صوبائی سرکلرز کے امتزاج سے اصطلاح رائج/نوٹیفائی ہوئی ۔
یہ ایک مرحلہ وار عمل تھا، ایک واحد وفاقی گزٹ کے بجائے مختلف عدالتی حکم + وفاقی ہدایات + محکماتی/صوبائی سرکلرز کے امتزاج سے اصطلاح رائج/نوٹیفائی ہوئی ۔
یہ ایک مرحلہ وار عمل تھا، ایک واحد وفاقی گزٹ کے بجائے مختلف عدالتی حکم + وفاقی ہدایات + محکماتی/صوبائی سرکلرز کے امتزاج سے اصطلاح رائج/نوٹیفائی ہوئی ۔ لفظ “مسیحی” اپنانے سے مذہبی شناخت کی درست نمائندگی اور تحقیر آمیز وابستگیوں کی نفی ہوتی ہے۔ عدالتی و انتظامی احکامات کے بعد فارمز، فائلنگ، خط و کتابت، سرکاری تحریر میں اصطلاح کی درستی لازم ہوئی۔ متعدد اداروں نے اس کی تعمیل شروع کی (مثلاً پنجاب ہیلتھ سرکلر)۔ قانوناً اور انتظاماً “مسیحی” ہی درست و مستعمل سرکاری اصطلاح ہے؛ اداروں پر لازم ہے کہ اسی کو اپنائیں، اور جہاں کہیں پرانی اصطلاح رائج ہو وہ تعمیلی/اصلاحی کارروائی کے ذریعے درست کی جائے۔

 

Author

2 comments
Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

2 Comments

  • Naveed yousaf
    August 22, 2025, 7:23 pm

    Zabardast Samuel Bashir sahib great 👍

    REPLY

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author