Author Editor Hum Daise View all posts
تحریر : انیسہ کنول
سیکشن 498D — نیا قانون 2025: خواتین کو گھروں سے ناجائز بے دخلی اور جھوٹے الزامات سے تحفظ*
پاکستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے قانون سازی ایک حساس مگر ناگزیر موضوع رہا ہے۔ معاشرتی دباؤ، خاندانی روایات اور قانونی کمزوریوں کے باعث اکثر خواتین کو شادی شدہ زندگی میں شدید ناانصافیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہی مسائل کے تناظر میں اگست 2025 میں قومی اسمبلی نے پاکستان پینل کوڈ (PPC) میں ایک اہم ترمیم کرتے ہوئے سیکشن 498D شامل کیا، جس کا بنیادی مقصد شادی شدہ خواتین کو گھروں سے ناجائز بے دخلی جیسے ظلم سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
گھروں سے زبردستی نکالنا: اب جرم
نئے شامل کیے گئے سیکشن 498D کے مطابق اگر کوئی شوہر یا اس کے اہلِ خانہ کسی عورت کو اس کے گھر سے زبردستی نکالتے ہیں یا نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ ایک قابلِ سزا جرم تصور ہوگا۔ پاکستانی معاشرے میں یہ ایک عام مگر خاموش مسئلہ رہا ہے کہ معمولی گھریلو تنازعات، جہیز کے مطالبات یا ذاتی اختلافات کی بنیاد پر عورت کو اس کے سسرال سے نکال دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ سماجی، معاشی اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتی ہے۔
قانون کے مطابق اس جرم کی نوعیت:
قابلِ ضمانت (Bailable) ہے
قابلِ صلح (Compoundable) ہے
جبکہ اس کی سزا:
3 سے 6 ماہ قید
دو لاکھ روپے تک جرمانہ
مقرر کی گئی ہے۔
یہ شق واضح پیغام دیتی ہے کہ عورت کو گھر سے نکالنا کوئی خاندانی معاملہ نہیں بلکہ ایک فوجداری جرم ہے، جس پر ریاست کارروائی کرے گی۔
قانون کا اصل مقصد
سیکشن 498D کا مقصد محض سزا دینا نہیں بلکہ روک تھام (Deterrence) ہے۔ اس قانون کے ذریعے عورت کو یہ قانونی تحفظ دیا گیا ہے کہ شادی کے بعد وہ محض شوہر یا سسرال کی مرضی کی محتاج نہیں بلکہ ریاست اس کے رہائشی حق کی محافظ ہے۔ اس سے نہ صرف گھریلو تشدد میں کمی کی امید کی جا رہی ہے بلکہ عورتوں کے لیے ایک نفسیاتی اعتماد بھی پیدا ہوگا کہ وہ قانون کے سائے میں محفوظ ہیں۔
خواتین کے حقوق بل: 498D کی ایک مختلف تعبیر
اسی دوران ایک وسیع تر خواتین کے حقوق بل بھی زیرِ بحث آیا، جس میں سیکشن 498D کو ایک مختلف زاویے سے پیش کیا گیا ہے۔ اس متبادل مسودے میں گھریلو بے دخلی کے بجائے شوہر کی جانب سے زنا کے الزام اور لعان کے عمل کو مرکزی نکتہ بنایا گیا ہے۔
اس مسودے کے مطابق اگر شوہر اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگاتا ہے لیکن بعد ازاں عدالت میں شرعی تقاضوں کے مطابق لعان کی کارروائی مکمل نہیں کرتا تو اس کا الزام قذف (جھوٹا الزام) شمار ہوگا۔ اس کے نتیجے میں:
عورت کو علیحدگی یا شادی کے خاتمے کا حق حاصل ہوگا
شوہر قذف کے جرم میں سزا کا مستحق ہوگا
یہ شق اسلامی اصولوں اور جدید قانونی تقاضوں کے درمیان ایک نازک توازن قائم کرنے کی کوشش ہے، تاکہ عورت کو جھوٹے اور کردار کش الزامات سے تحفظ دیا جا سکے۔
خواتین کے حقوق بل کے دیگر اہم نکات
یہ متبادل بل محض ایک شق تک محدود نہیں بلکہ خواتین کے تحفظ سے متعلق کئی بنیادی مسائل کا احاطہ کرتا ہے، جن میں شامل ہیں:
498A: خواتین کو وراثت سے محروم کرنا جرم
498B: زبردستی شادی کی ممانعت
498C: قرآن سے شادی جیسی رسم کی ممانعت
498E: لعان کے بعد عورت کے زنا کے اعتراف کی صورت میں سزا کا تعین
302D: ریپ کے مقدمات میں صوبائی حکومت کی غیر ضروری مداخلت محدود کرنا
یہ شقیں مجموعی طور پر خواتین کے سماجی، مذہبی اور قانونی استحصال کو روکنے کی کوشش ہیں۔
دو مسودے، ایک مقصد
اگرچہ سیکشن 498D کی دونوں تشریحات مختلف ہیں، مگر ان کا مقصد ایک ہی ہے:
خواتین کو ظلم، جبر اور بے انصافی سے تحفظ فراہم کرنا۔
قانون
وضاحت
کریمنل لاز (ترمیمی) بل 2025
عورت کو گھروں سے ناجائز بے دخلی جرم قرار — سزا: 3–6 ماہ قید اور 2 لاکھ جرمانہ
خواتین کے حقوق بل (زیرِ غور)
شوہر کا لعان نہ کرنا قذف شمار ہوگا — جس کی بنیاد پر شادی ختم ہو سکتی ہے
سیکشن 498D پاکستانی قانون میں ایک اہم پیش رفت ہے جو اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ گھریلو معاملات بھی انسانی حقوق سے جڑے ہوتے ہیں۔ تاہم قانون کی اصل کامیابی اس کے مؤثر نفاذ، پولیس و عدالتی نظام کی سنجیدگی اور سماجی شعور کی بیداری سے مشروط ہے۔ اگر ریاست، عدالت اور معاشرہ مل کر اس قانون کو نافذ کریں تو یہ ترمیم ہزاروں خواتین کے لیے انصاف اور تحفظ کی ایک نئی امید بن سکتی ہے
















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *