Author Editor Hum Daise View all posts
خالد شہزاد
آج کل سینیٹ ، قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں اقلیتوں کو جداگانہ انتخاب کے زریعہ اپنے نمائندے اسمبلیوں میں منتخب کرنے کے حوالہ سے بحث جاری ہے، اور مخصوص نشستوں کے اقلیتی اراکین اسمبلی جن کا تعلق ن لیگ سے ہے بھی بڑھ چڑھ کر جداگانہ انتخاب کا مطالبہ کر رہے ہیں ، تاہم آئینی ترمیم کا عمل کسی بھی ملک کے ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے سب سے اہم اور مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ پاکستان کے آئین کے تحت متوقع 28 ویں ترمیم (یا کوئی بھی ترمیم) کو منظور کروانے کے لیے ایک مخصوص پارلیمانی طریقہ کار کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں اقلیتی اراکین کا کردار بہت اہم ہو سکتا ہے۔
آئینی ترمیم کا طریقہ کار (آرٹیکل 238 اور 239)
آئینِ پاکستان میں ترمیم کے لیے درج ذیل مراحل لازمی ہیں: اور دو تہائی اکثریت (Two-Thirds Majority) ترمیم کے بل کو قومی اسمبلی اور سینٹ، دونوں ایوانوں میں الگ الگ دو تہائی (2/3) اکثریت سے منظور ہونا ضروری ہے۔ قومی اسمبلی کی 336 کل نشستوں میں سے کم از کم 224 ووٹ درکار ہوتے ہیں اور اسی طرح سینٹ کی 96 نشستوں میں سے کم از کم 64 ووٹ درکار ہوتے ہیں ، جو دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد بل صدرِ مملکت کے پاس دستخط کے لیے جاتا ہے، جس کے بعد وہ قانون (آئین کا حصہ) بن جاتا ہے۔ اگرچہ اقلیتی اراکین کی تعداد (وفاق میں 10) ہے، لیکن وہ درج ذیل صورتوں میں “کنگ میکر” (Kingmaker) بن اپنا کلیدی کردار اداسکتے ہیں۔
جب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مقابلہ سخت ہو اور حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت مکمل کرنے میں چند ووٹوں کی کمی ہو، تو یہ 10 اقلیتی ووٹ انتہائی قیمتی ہو جاتے ہیں، جسکے لیے وہ سودے بازی کی طاقت کے حامل ہو جاتے ہیں،اقلیتی اراکین ان نازک مواقع پر اپنی برادری کے حقوق (جیسے نشستوں میں اضافہ یا براہِ راست انتخاب) کو ترمیم کا حصہ بنوانے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔ آئین سازی سے پہلے قائم ہونے والی پارلیمانی کمیٹیوں میں اقلیتی نمائندے اپنی تجاویز دے کر ترمیم کے مسودے (Draft) کو تبدیل کروا سکتے ہیں۔28 ویں ترمیم میں ممکنہ رکاوٹیں بھی اقلیتوں کے حوالے سے کسی بھی بڑی تبدیلی (خصوصاً طریقہ انتخاب کی تبدیلی) میں کچھ سیاسی چیلنجز آ سکتے ہیں، چونکہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ہی میز پر لانا مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر اگر براہِ راست انتخاب سے کسی پارٹی کا سیاسی کنٹرول کم ہو رہا ہو تو اتفاق رائے کا فقدان پیدا ہو جاتا ہے۔ مذہبی حلقوں کا ردِعمل جداگانہ انتخاب کی بحث اکثر مذہبی حساسیت اختیار کر لیتی ہے، جس کی وجہ سے حکومتیں احتیاط سے کام لیتی ہیں۔ انتخابی اخراجات بھی براہِ راست انتخاب کروانے کے لیے الیکشن کمیشن کو نئی حلقہ بندیاں اور نئی ووٹر لسٹیں بنانی ہوں گی، جس پر بھاری اخراجات اور وقت درکار ہوگا۔ اگر آپ یا کوئی اقلیتی گروپ اس حوالے سے متحرک ہونا چاہتا ہے، تو پہلا قدم الیکشن کمیشن میں ایک پٹیشن دائر کرنا ہو سکتا ہے جس میں مردم شماری 2023ء کے ڈیٹا کی بنیاد پر نئی حلقہ بندیوں کا مطالبہ کیا جائے اور موجودہ مخلوط انتخاب (Joint Electorate) اور سابقہ جداگانہ انتخاب (Separate Electorate) کے درمیان فرق کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ مستقبل کی کسی بھی آئینی ترمیم (جیسے متوقع 28 ویں ترمیم) کے اثرات کو پرکھا جا سکے۔ براہِ راست انتخاب اور حلقہ بندیوں کا نیا تصور، اگر 28 ویں ترمیم میں اقلیتوں کے لیے جغرافیائی حلقہ بندیوں کے تحت براہِ راست انتخاب کی راہ ہموار کی جاتی ہے، تو اس کے کچھ ممکنہ ماڈلز یہ ہو سکتے ہیں” ملٹی ممبر حلقے” ایک ہی بڑے حلقے (مثلاً ضلع تھرپارکر) سے دو نمائندے منتخب ہوں، ایک عام اور ایک اقلیتی، وہ علاقے جہاں اقلیتی آبادی 50% سے زائد ہو، اسے صرف اقلیتی امیدوار کے لیے مخصوص کر دیا جائے اور اقلیتی ووٹر ایک ووٹ اپنے علاقے کے عام امیدوار کو دے اور دوسرا ووٹ اپنی برادری کے مخصوص نمائندے کو دے۔
نشستوں میں اضافے کا منطقی مطالبہ:
1985ء میں جب قومی اسمبلی کی 10 نشستیں طے کی گئی تھیں، تب پاکستان کی آبادی تقریباً 9 کروڑ تھی۔ اب آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اگر آبادی کے تناسب کو مدنظر رکھا جائے، تو وفاق میں اقلیتی نشستیں 10 سے بڑھ کر 20 سے 25 تک جا سکتی ہیں، اسی طرح سندھ اور پنجاب کی صوبائی اسمبلیوں میں بھی نشستوں کی تعداد میں دو گنا اضافہ متوقع ہو سکتا ہے۔ اگر حکومت واقعتاً اقلیتوں کو بااختیار بنانا چاہتی ہے، تو محض نشستوں میں اضافہ کافی نہیں ہوگا، بلکہ ایسا طریقہ انتخاب لانا ہوگا جس میں نمائندہ “سلیکٹڈ” (نامزد) ہونے کے بجائے اپنی برادری کے ووٹ سے “الیکٹڈ” (منتخب) ہو کر آئے۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں (ن لیگ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی) کا اقلیتوں کے طریقہ انتخاب اور نشستوں میں اضافے پر مؤقف ہمیشہ سے ملا جلا رہا ہے۔متوقع 28 ویں ترمیم کے تناظر میں ان جماعتوں کے ممکنہ رویوں کا تجزیہ کچھ یوں ہے:
(PPP)پاکستان پیپلز پارٹی تاریخی طور پر خود کو اقلیتوں کی سب سے بڑی حامی جماعت قرار دیتی ہےاور پی پی پی مخلوط انتخاب کی حامی ہے اور وہ نشستوں میں اضافے کے حق میں بھی ہے۔ چونکہ سندھ میں ہندو برادری کی بڑی تعداد موجود ہے، اس لیے پی پی پی چاہتی ہے کہ اقلیتی نمائندے ان کی پارٹی کے ذریعے آئیں تاکہ ان کا سیاسی کنٹرول برقرار رہے۔ وہ براہِ راست انتخاب کے حق میں تو ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ حلقہ بندیاں ان کے سیاسی گڑھ (جیسے تھرپارکر یا عمرکوٹ) میں ان کے اثر کو کم نہ کریں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا جھکاؤ عموماً موجودہ نظام کی طرف رہا ہے، لیکن وہ انتظامی اصلاحات کی حامی ہے جیسے نشستوں میں اضافہ اور مردم شماری کے تناسب سے نشستیں بڑھانے پر اعتراض نہیں کرے گی، کیونکہ پنجاب میں مسیحی برادری کا ایک بڑا ووٹ بینک ان کا حامی رہا ہے۔ ن لیگ کے اندر ایک حلقہ ایسا ہے جو سمجھتا ہے کہ اقلیتوں کو براہِ راست انتخاب کا حق دینے سے مذہبی ہم آہنگی میں بہتری آ سکتی ہے، لیکن وہ جداگانہ انتخاب (Separate Electorate) کو مکمل طور پر بحال کرنے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ اس سے “تقسیم” کا تاثر ملتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (PTI) نے اپنے دورِ حکومت میں اقلیتوں کے لیے کئی اقدامات کیے (جیسے کرتارپور راہداری)، پی ٹی آئی “اصلی نمائندگی” کی بات کرتی ہے۔ وہ موجودہ “نامزدگی کے نظام” (Selection) پر تنقید کرتے رہے ہیں اور ان کا مطالبہ رہا ہے کہ ایسا طریقہ کار وضع کیا جائے جس میں پارٹی لیڈر کے بجائے برادری کا ووٹ اہمیت رکھے۔
نشستوں کی تقسیم کا ممکنہ فارمولا (اگر اضافہ ہوا) تو مردم شماری 2023ء کے مطابق نشستیں بڑھائی جائیں۔
“براہِ راست انتخاب” کیسے ہوگا؟
اگر حکومت حلقہ بندیوں کے ذریعے براہِ راست انتخاب کروانا چاہے تو اسے درج ذیل تکنیکی مسائل کا سامنا ہوگا:
مسیحی اور ہندو آبادی پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔ صرف چند اضلاع (تھرپارکر، عمرکوٹ، لاہور،فیصل آباد، اوکاڑہ اور سیالکوٹ) ایسے ہیں جہاں وہ کسی حلقے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، لیکن زیادہ تر مسیحی آبادیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ دوہرا ووٹ؟ کیا مسلمان ووٹر کو بھی اقلیتی امیدوار کو ووٹ دینے کا حق ہوگا؟ اگر ہاں، تو یہ نظام “مخلوط” ہی رہے گا لیکن حلقے محدود ہو جائیں گے۔
اگر متوقع 28 ویں ترمیم میں “اوپن لسٹ پروپورشنل سسٹم” متعارف کروا دیا جائے (جس میں ووٹر پارٹی کو بھی ووٹ دے اور پارٹی کی لسٹ میں موجود اپنے پسندیدہ اقلیتی امیدوار کو کسی خاص ضلع یا علاقے کو اقلیت (مثلاً دلت یا شیڈولڈ کاسٹ) کے لیے مخصوص کر دیا جاتا ہے، تو اس حلقے میں رہنے والے تمام لوگ (مسلمان، ہندو، سکھ وغیرہ) ووٹ ڈالتے ہیں، لیکن امیدوار صرف اسی مخصوص طبقے کا فرد ہو سکتا ہے۔ اگر تھرپارکر یا عمرکوٹ جیسے علاقوں کو اسی طرح مخصوص کر دیا جائے تو وہاں سے براہِ راست اقلیتی نمائندہ منتخب ہو کر آ سکتا ہے جسے تمام شہریوں کے ووٹ حاصل ہوں گے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *