Author Editor Hum Daise View all posts
خالد شہزادگزشتہ ہفتے پنجاب کے صوبائی وزیر رمیش سنگھ آروڑہ نے لاہور کیتھڈرل میں انٹرفیتھ ہارمنی کے پروگرام میں بہت بڑے دعوے کیے اور کہا “ کہ پاکستان میں اقلیتیں مکمل آزاد ہیں اور انکو برابر کے حقوق میسر ہیں۔” صوبائی وزیر کے دعووں اور زمینی حقیقت کے درمیان موجود وسیع خلیج کو واضح کرتا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ محض بیانات سے کسی معاشرے میں برابری نہیں آتی، بلکہ اس کے لیے عملی قانون سازی اور رویوں میں تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے۔پاکستان میں اقلیتوں کی حقیقی ترقی اور فلاح و بہبود ایک ایسا موضوع ہے جس پر دہائیوں سے بحث جاری ہے۔ (قبرستان، عبادت گاہیں، راشن کارڈ، جداگانہ انتخابات)، وہ زیادہ تر علامتی یا انتظامی نوعیت کے ہیں، جبکہ ترقی کا اصل راز برابری اور آئینی حقوق میں پنہاں ہے۔
آئیں ان پہلوؤں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیتے ہیں:
جداگانہ بمقابلہ مخلوط انتخابات
تاریخی طور پر پاکستان میں “جداگانہ انتخابات” (Separate Electorates) کا نظام رہا، لیکن اب مخلوط انتخاب (Joint Electorates) رائج ہیں۔
جداگانہ انتخابات میں اقلیتیں صرف اپنے نمائندوں کو ووٹ دیتی ہیں۔ اس سے نمائندگی تو یقینی ہوتی ہے، لیکن اقلیتی نمائندے قومی دھارے سے کٹ جاتے ہیں اور سیاسی جماعتیں انہیں نظر انداز کر دیتی ہیں۔مخلوط انتخابات میں ہر امیدوار کو مسلمان اور غیر مسلم دونوں کے ووٹ چاہیے ہوتے ہیں، جو نظریاتی طور پر اقلیتوں کو سیاسی عمل کا حصہ بناتا ہے۔ تاہم، مخصوص نشستوں پر پارٹیوں کی جانب سے نامزدگی کے بجائے براہ راست عوامی ووٹ کی اہمیت زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقلیتوں کو قومی دائرہ کے سہانے خواب دکھا کر اسمبلیوں میں ایسے ایسے لاؤڈ سپیکر، ریڈیو اور موبائل بیچیے جن کی بیٹریاں یا تو کمزور تھیں یا پھر وہ نا قابل استعمال ہیں جن کی موجودگی تو ہے لیکن انکا فائدہ کچھ نہیں، جہاں تک جوائنٹ الیکشن میں ووٹ کا تعلق ہے، گزشتہ 24 سالوں سے اقلیتیں مسلمان امیدواروں کو ووٹ دے کر صوبائی و قومی اسمبلی کے لیے منتخب کرکے بھیج رہے ہیں لیکن اسکے نتیجہ میں اقلیتوں کی ترقی کا گراف کتنا اوپر گیا؟ جوائنٹ الیکشن کی وجہ سے اقلیتیں فٹبال بن چکی ہیں، اقلیتوں کے ووٹ سے منتخب ہونے والے نمائندے نا تو اقلیتوں کے لیے کسی قانون سازی کا حصہ بنتے ہیں اور نا ہی انہوں نے اقلیتوں کے مسائل پر پارلیمنٹ میں کو سنجیدہ کوشش کی۔ دوسری جانب مخصوص نشتوں پر براجمان ممبران کی سیاسی، سماجی اور تعلیمی ساخت ایسی ہے “ کہ انکو پارلیمانی سیاست، انٹرنیشنل افیئر اور قومی مفادات جیسے اہم مسائل پر بے علم ہیں”۔ یہی وجہ ہے کہ 24 سالوں میں اقلیتوں کو اہم قومی سلامتی کے اجلاسوں میں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اور انکو صرف ترقی کا ایک ترانہ پڑھایا جاتا ہے جسمیں عبادت گاہیں اور قبرستان (مذہبی آزادی) انٹر فیتھ، تعلیمی وظائف کی تقسیم کے لیے چیک یا پھر قبرستانوں کے لیے جگہ یا عبادت گاہوں کی تعمیر و مرمت۔
کیا یہ بنیادی انسانی حقوق ہیں یا مساوی حقوق ہیں؟یہ کسی “ترقی” کا راز نہیں بلکہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اصل ترقی تب ہوگی جب اقلیتیں اپنی عبادت گاہوں میں خود کو محفوظ محسوس کریں اور انہیں معاشرے میں برابر کا شہری تسلیم کیا جائے۔ راشن کارڈ اور مالی امداد (امدادی سیاست)راشن کارڈ یا زکوٰۃ/فنڈز کی تقسیم محض فلاحی کام (Charity) ہے، اسے “ترقی” نہیں کہا جا سکتا۔ترقی کا راز معاشی خودمختاری میں ہے۔ جب اقلیتوں کو تعلیم اور ملازمتوں میں برابر کے مواقع ملیں گے، تو انہیں کسی راشن کارڈ کی ضرورت نہیں رہے گی۔پاکستان میں اقلیتوں کی ترقی کا راز ان چار ستونوں میں چھپا ہے
جب پاکستان کا ہر شہری، قطع نظر اس کے مذہب کے، ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں کے لیے اہل سمجھا جائے اور قانون کی نظر میں برابر ہو۔ تعلیمی نصاب میں رواداری کو فروغ دینا تاکہ آنے والی نسلیں مذہبی تعصب سے پاک ہوں۔قانون کا نفاذ: جبری تبدیلیِ مذہب اور توہینِ مذہب کے قوانین کے غلط استعمال کو روکنا تاکہ اقلیتیں خوف کے بغیر زندگی گزار سکیں۔شہری شمولیت: اقلیتوں کو صرف “مذہبی گروہ” کے بجائے “پاکستانی شہری” کے طور پر دیکھا جائے اور انہیں قومی ترقی کے ہر فیصلے میں شامل کیا جائے۔اقلیتوں کو جداگانہ انتخابات کے زریعے اپنے نمائندے منتخب کرنے کا قانون بحال کیا جائے تاکہ انکو اپنے نمائندوں سے براہ آئینی مسائل اور قانونی پیچیدگیوں بارے دریافت کریں۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *