Author Editor Hum Daise View all posts
سموئیل بشیر
اسلام آباد کے ماسٹر پلان کی خوبصورتی کے پیچھے چھپی حقیقت یہ ہے کہ ہزاروں کم آمدنی والے خاندان، خاص طور پر مسیحی برادری کے لوگ، اپنی رہائش کے تحفظ کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔ کیا شہر کی منصوبہ بندی انسانی حقوق کے ساتھ ہم آہنگ ہے؟ اسلام آباد کو ہمیشہ ایک منصوبہ بند اور خوبصورت دارالحکومت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ وسیع سڑکیں، سرسبز پارکس، باقاعدہ سیکٹرز اور واضح شہری منصوبہ بندی اس شہر کی شناخت ہیں۔ 1960 میں تیار ہونے والا ماسٹر پلان اسی وژن کی عکاسی کرتا تھا کہ پاکستان کا دارالحکومت ایک جدید، منظم اور مثالی شہر ہوگا۔لیکن اس منصوبہ بندی کے ساتھ ایک بنیادی سوال ہمیشہ موجود رہا: اس شہر کو تعمیر کرنے اور چلانے والے کم آمدنی والے مزدور کہاں رہیں گے؟ یہی وہ خلا تھا جس نے وقت کے ساتھ اسلام آباد میں کچی آبادیوں کے قیام کو جنم دیا۔
آج یہ مسئلہ ایک بار پھر شدت سے زیر بحث ہے، خاص طور پر رمشا کالونی، اکرم گل کالونی اور اقبال کالونی کے حوالے سے۔ اطلاعات کے مطابق ان بستیوں کو خالی کروانے کے خدشات کے باعث وہاں رہنے والے سینکڑوں خاندان شدید بے چینی کا شکار ہیں۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے یہاں آباد ہیں اور اب اچانک بے دخلی کا خطرہ ان کے مستقبل پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ اسی وجہ سے ان بستیوں کے رہائشی سراپا احتجاج بھی ہیں اور اپنے گھروں اور روزگار کے تحفظ کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔
ان آبادیوں میں بڑی تعداد مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کی ہے۔ یہ لوگ شہر کی سماجی اور معاشی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ گھریلو ملازمین، سینیٹری ورکرز، مالی، ڈرائیور اور دیگر مزدور پیشہ افراد کی ایک بڑی تعداد انہی بستیوں میں رہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دارالحکومت کا روزمرہ نظام چلانے میں انہی لوگوں کی محنت شامل ہے۔
یہاں ایک اہم سوال بھی اٹھتا ہے کہ اگر یہ آبادیاں مکمل طور پر غیر قانونی تھیں تو پھر کئی دہائیوں تک یہاں بجلی، پانی اور گیس کے کنکشن کیسے فراہم ہوتے رہے۔ مختلف سرکاری اداروں کی موجودگی کے باوجود ایسی آبادیاں قائم رہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مسئلہ صرف مکینوں کی ذمہ داری تک محدود نہیں بلکہ اس میں ریاستی اور انتظامی پہلو بھی شامل ہیں۔
رمشا کالونی اور دیگر بستیوں کا معاملہ صرف شہری منصوبہ بندی کا نہیں بلکہ انسانی حقوق اور مذہبی اقلیتوں کے تحفظ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ پاکستان کے آئین کے تحت ہر شہری کو عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ آئین کا آرٹیکل 9 ہر شہری کے حقِ زندگی اور تحفظ کی ضمانت دیتا ہے جبکہ آرٹیکل 14 انسانی وقار کے احترام کو یقینی بناتا ہے۔ اسی اصول کے تحت اگر کسی بستی کو ماسٹر پلان کے تحت ہٹانا ناگزیر ہو تو ریاست کی ذمہ داری ہے کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے مناسب متبادل رہائش کا بندوبست کرے تاکہ کوئی بھی شہری بے گھر نہ ہو۔
اس معاملے کو مزید قانونی مضبوطی 2015 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے سے بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس سال عدالت نے اسلام آباد میں کچی آبادیوں کے خلاف مسماری یا بے دخلی کے منصوبوں کو روکتے ہوئے واضح حکم امتناعی جاری کیا۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ صرف شہر کے ماسٹر پلان کی بنیاد پر کارروائی نہ کریں بلکہ متاثرہ خاندانوں کے حقِ رہائش اور انسانی وقار کو بھی یقینی بنائیں۔ عدالت نے مزید کہا کہ کسی بھی آپریشن سے پہلے متبادل رہائش اور عملی حل فراہم کیے جائیں، تاکہ کم آمدنی والے اور اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے شہری بے گھر نہ ہوں۔ یہ فیصلہ آج کے حالات، خصوصاً رمشا کالونی، اکرم گل کالونی اور اقبال کالونی کے تنازع میں ایک مضبوط قانونی پس منظر فراہم کرتا ہے۔
اسی تناظر میں اس معاملے پر سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے کارکنوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ مختلف حلقوں کا مؤقف ہے کہ کسی بھی کارروائی سے پہلے انسانی پہلوؤں، قانونی تقاضوں اور متاثرہ خاندانوں کے مستقبل کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر اس مسئلے کو صرف انتظامی کارروائی کے طور پر حل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا بلکہ انسانی حقوق کے حوالے سے بھی سنگین سوالات اٹھیں گے۔
اسلام آباد کا ماسٹر پلان بلاشبہ ایک منظم شہر کی بنیاد فراہم کرتا ہے، لیکن جدید شہری منصوبہ بندی کا تقاضا یہ بھی ہے کہ شہر میں مختلف معاشی طبقات کے لیے جگہ موجود ہو۔ دنیا کے کئی بڑے شہروں میں اب Inclusive Urban Planning کا تصور سامنے آ رہا ہے جس کے تحت کم آمدنی والے افراد کے لیے بھی باعزت رہائش کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
اسلام آباد میں کچی آبادیوں کے مسئلے کا حل صرف مسماری میں نہیں بلکہ ایک متوازن اور انسانی بنیادوں پر مبنی پالیسی میں پوشیدہ ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ:
متاثرہ خاندانوں کے لیے واضح متبادل رہائش فراہم کی جائے۔
جہاں ممکن ہو وہاں بستیوں کی ریگولرائزیشن یا اپ گریڈیشن کی جائے۔
کم آمدنی والے افراد کے لیے کم لاگت رہائشی منصوبے متعارف کرائے جائیں۔
رمشا کالونی، اکرم گل کالونی اور اقبال کالونی کا معاملہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شہری منصوبہ بندی صرف عمارتوں اور سڑکوں کا نام نہیں بلکہ انسانوں کی زندگیوں سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ اگر ریاست ایک طرف دارالحکومت کے ماسٹر پلان کو برقرار رکھنا چاہتی ہے تو دوسری طرف اسے یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ اس شہر کی تعمیر اور خدمت کرنے والے لوگ بے گھر اور غیر محفوظ نہ ہو جائیں۔دارالحکومت کی اصل خوبصورتی صرف اس کی سڑکوں اور عمارتوں میں نہیں بلکہ اس انصاف میں ہے جو وہ اپنے سب سے کمزور شہریوں کو فراہم کرتا ہے۔

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *