مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


ماریہ شہباز کیس اور عدالتی فیصلہ

ماریہ شہباز کیس اور عدالتی فیصلہ

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

تحریر: فادرخالد رشید عاصی
پاکستان میں انصاف کا تصور ہمیشہ سے ایک نازک دھاگے پر لٹکا ہوا ہے—خاص طور پر جب بات کمزور طبقات، اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کی ہو۔ حالیہ ماریہ شہباز کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ اسی کمزوری کو ایک بار پھر بے نقاب کرتا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف قانونی کمزوریوں سے بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے بلکہ اس میں ایسے سوالات بھی جنم لیتے ہیں جو انصاف کے بنیادی اصولوں کو چیلنج کرتے ہیں۔ماریہ شہباز کیس میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا نکاح واقعی رضامندی سے ہوا یا یہ ایک نکاح بالجبر تھا؟پاکستانی قانون اور اسلامی فقہ دونوں میں نکاح کے لیے آزادانہ رضامندی بنیادی شرط ہے۔ اگر کسی لڑکی پر دباؤ ڈال کر نکاح کروایا جائے، تو وہ نکاح شرعاً اور قانوناً مشکوک ہو جاتا ہے۔لیکن عدالت کے فیصلے میں اس بنیادی نکتے کو اس سنجیدگی سے نہیں دیکھا گیا جس کا تقاضا انصاف کرتا ہے۔ متاثرہ لڑکی کے بیانات، اس کی نفسیاتی حالت، اور حالات کے دباؤ کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔اگر کسی لڑکی کو اغوا کر کے زبردستی نکاح کیا جائے، تو اس کے بعد ہونے والا تعلق رضامندی نہیں بلکہ زنا بالجبر کے زمرے میں آ سکتا ہے۔یہ ایک نہایت حساس اور سنگین قانونی پہلو ہے، مگر اس پر عدالت کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے:
کیا اس پہلو پر مکمل تحقیق کی گئی؟
کیا متاثرہ لڑکی کا میڈیکل یا فرانزک تجزیہ شامل کیا گیا؟
یہ خاموشی انصاف کی بجائے ایک خطرناک روایت کو تقویت دیتی ہے۔
کم عمری کی شادی: قانون کہاں گیا؟
پاکستان میں کم عمری کی شادی ایک تسلیم شدہ جرم ہے، خاص طور پر جب لڑکی کی عمر 18 سال سے کم ہو۔مگر اس کیس میں عمر کی تصدیق کے لیے نادرا ریکارڈ سے مکمل رجوع نہیں کیا گیامیڈیکل بورڈ یا ڈاکٹر کی رائے کو بھی نظر انداز کیا گیا
یہ دونوں پہلو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فیصلہ حقائق کی بجائے مفروضوں پر مبنی تھا۔پاکستان میں مذہب کی آزادی ایک آئینی حق ہے، مگر جب تبدیلی مذہب کے ساتھ اغوا، دباؤ، اور نکاح جیسے عناصر شامل ہو جائیں، تو یہ آزادی مشکوک ہو جاتی ہے۔ماریہ شہباز کیس میں بھی یہی سوال اٹھتا ہے:
کیا مذہب کی تبدیلی آزادانہ تھی؟
یا یہ ایک منظم دباؤ کا نتیجہ تھا؟
عدالت نے اس حساس مسئلے کو گہرائی سے جانچنے کی بجائے ایک سادہ بیانیہ اختیار کیا، جو انصاف کے تقاضوں سے کم تر ہے۔کسی بھی عدالتی فیصلے کی بنیاد ٹھوس دلائل اور شواہد ہوتے ہیں۔لیکن اس کیس میں متاثرہ فریق کے بیانات کو کمزور سمجھا گیاریاستی اداروں (نادرا، میڈیکل بورڈ) سے مکمل رابطہ نہیں کیا گیا جس
تحقیقاتی عمل ادھورا محسوس ہوتا ہے-یہ تمام عوامل اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ فیصلہ جلد بازی یا یکطرفہ سوچ کا نتیجہ تھا۔فیصلے میں بار بار قانونی اور اخلاقی خلا نظر آئیں، تو سوال اٹھانا لازم ہو جاتا ہے۔کیا تمام شواہد کو غیرجانبداری سے دیکھا گیا ہے ؟کیا متاثرہ لڑکی کو مکمل تحفظ دیا گیا؟کیا انصاف ہوتا ہوا نظر آتا ہے یا صرف فیصلہ سنایا گیا؟یہ سوالات صرف ایک کیس کے نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف کے ہیں۔ان اداروں سے عدم رابطہ نہ صرف قانونی کمزوری ہے بلکہ انصاف کے عمل کو مشکوک بنا دیتا ہے۔ماریہ شہباز کیس کا فیصلہ ایک بار پھر یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان میں کمزور کے لیے انصاف مشکل ہے-خواتین اور اقلیتوں کے حقوق غیر محفوظ ہیں-عدالتی نظام میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے
یہ کیس صرف ایک لڑکی کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی عکاسی ہے جہاں طاقتور بیانیہ اکثر سچ پر غالب آ جاتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ اگر انصاف صرف فیصلہ سنانے کا نام ہےتو پھر سچ، شواہد اور انسانی وقار کہاں جائیں گے؟
یہ سوال آج بھی ہمارے عدالتی نظام کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author