Author Editor Hum Daise View all posts
شوکت جاوید
پاکستان میں بسنے والی اقلیتیں خاص کر مسیحی برادری جو ایک کروڑ سے زائد ھے اور ہرحکومت جس کے دور میں بھی مردم شماری ہوتی ھےجس میں مبینہ طور پر مسیحیوں کی تعداد کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس پر پھر بات کریں گے فی الحال ان دنوں جس ایشو نے دن کا آرام اور رات کی نیند اڑائی ہوئی ہے وہ ھے غیر مسیحیوں کا مسیحی بچیوں کو اغواءکرنا اور پھر چبرا” مزہب کی تبدیلی کروانا اگر دیکھا جائے تو کوئی بھی مہزب معاشرہ صرف عمارتوں، سڑکوں اور ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بنتا بلکہ اس کی اصل پہچان اس کے کمزور اور بے سہارا افراد کے ساتھ برتاؤ سے ہوتی ہے۔ جب کسی ملک میں اقلیتی برادری کی معصوم بچیاں عدم تحفظ کا شکار ہو جائیں، تو یہ صرف ایک طبقے کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔حالیہ برسوں میں جبراً مذہبی تبدیلی کے واقعات نے خاص طور پر اقلیتی برادری کی کم عمر بچیوں کو متاثر کیا ہے۔ یہ بچیاں، جو ابھی زندگی کے ابتدائی مراحل میں ہوتی ہیں، نہ تو اپنے مستقبل کے بڑے فیصلے کرنے کی اہل ہوتی ہیں اور نہ ہی وہ معاشرتی دباؤ کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایسے میں اگر انہیں اغوا کر کے، ڈرا دھمکا کر یا لالچ دے کر مذہب تبدیل کروایا جائے اور پھر شادی کے بندھن میں باندھ دیا جائے، تو یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ کئی سنگین جرائم کا مجموعہ ہوتا ہے۔یہ سوال نہایت اہم ہے کہ کیا ایک معصوم بچی واقعی اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کر سکتی ہے؟ یا اس کی “رضامندی” خوف، دباؤ اور حالات کا نتیجہ ہوتی ہے؟ حقیقت یہی ہے کہ زیادہ تر کیسز میں یہ رضامندی حقیقی نہیں ہوتی بلکہ ایک مجبوری ہوتی ہے، جسے قانونی جواز دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔پاکستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ اسی طرح کم عمری کی شادی بھی قانوناً جرم ہے۔ مگر افسوسناک پہلو یہ ہے کہ قانون کی موجودگی کے باوجود اس پر عملدرآمد کمزور دکھائی دیتا ہے۔ متاثرہ خاندان انصاف کے حصول کے لیے دربدر ہوتے ہیں اور کئی بار طاقتور عناصر کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔یہ مسئلہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی بھی ہے۔ کوئی بھی مذہب جبر کی اجازت نہیں دیتا۔ ایمان دل کی گہرائیوں سے پیدا ہوتا ہے، اسے زبردستی مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کسی مذہب کے نام پر ظلم کیا جائے تو یہ اس مذہب کی خدمت نہیں بلکہ اس کی بدنامی کا سبب بنتا ہے۔معاشرتی سطح پر اس کے اثرات نہایت گہرے ہیں۔ اقلیتی برادریوں میں خوف اور عدم تحفظ بڑھتا ہے، والدین اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجنے سے گھبراتے ہیں، اور معاشرے میں نفرت اور تقسیم پیدا ہوتی ہے۔ ایک پرامن اور متوازن معاشرہ اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب ہر فرد، خواہ وہ کسی بھی مذہب یا پس منظر سے تعلق رکھتا ہو، خود کو محفوظ محسوس کرے۔وقت کا تقاضا ہے کہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ مؤثر قانون سازی، فوری انصاف، اور سب سے بڑھ کر معاشرتی شعور کی بیداری ناگزیر ہے۔ مذہبی و سماجی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ کھل کر اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں اور واضح پیغام دیں کہ جبر کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کسی بھی قوم کی عظمت اس بات میں ہے کہ وہ اپنے کمزور افراد کا کتنا تحفظ کرتی ہے۔ اقلیتی معصوم بچیوں کی حفاظت صرف ایک ذمہ داری نہیں بلکہ ایک امتحان ہے اور اس امتحان میں کامیابی ہی ایک مہذب اور انصاف پسند معاشرے کی علامت ہے- میں میری چیف جسٹس ،فیلڈ مارشل،وزیراعظم اور سی ایم پنجاب جو اقلیتوں کو اپنے ماتھے کا جھومر سمجھتی ہے۔دلوں پہ لگے زخم کو دور کیا اس سے پہلے کہ یہ کینسر سارے جسم میں پھیل جائے۔

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *