مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


گریٹر اسرائیل مذہبی حوالہ جات اور سیاسی بیانیہ —!

گریٹر اسرائیل مذہبی حوالہ جات اور سیاسی بیانیہ —!

    Author Hum Daise View all posts

 

تحریر: سموئیل بشیر

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حالیہ کشیدگی اور جنگ کے بعد پیدا ہونے والی نازک جنگ بندی نے نہ صرف خطے کے سیاسی حالات کو متاثر کیا ہے بلکہ مذہب، تاریخ اور سیاست کے باہمی تعلق پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس تناظر میں قدیم مذہبی کتاب پیدائش کی آیات (15:18–21) اور گریٹر اسرائیل کا تصور ایک اہم موضوع بن کر سامنے آتا ہے۔پیدائش کے 15ویں باب میں خدا اور حضرت ابراہیمؑ کے درمیان ایک عہد کا ذکر کیا گیا ہے، جس میں زمین کی حدود “مصر کے دریا سے لے کر دریائے فرات تک” بیان کی گئی ہیں۔ یہ وعدہ تاریخی طور پر بنی اسرائیل کے ساتھ مخصوص ایک روحانی اور الٰہی تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ وعدہ آج کے دور میں ایک جغرافیائی دعویٰ کے طور پر لیا جا سکتا ہے؟”گریٹر اسرائیل” ایک ایسا نظریہ ہے جسے بعض حلقے بائبل کی انہی آیات کی بنیاد پر پیش کرتے ہیں۔ اس کے مطابق اسرائیل کی حدود کو اُن تمام علاقوں تک پھیلایا جانا چاہیے جن کا ذکر مقدس متن میں موجود ہے۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ نظریہ تمام یہودی یا مسیحی علماء کی نمائندگی نہیں کرتااور نہ ہی اسے عالمی سطح پر تسلیم شدہ قانونی حیثیت حاصل ہے، خاص طور پر اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق-حالیہ کشیدگی میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ نے خطے کو ایک بڑے تصادم کے دہانے پر پہنچا دیا۔ اگرچہ اس وقت جنگ بندی ہے، مگر حالات اب بھی غیر یقینی کا شکار ہیں۔اس بحران میں لبنان کی صورتحال بھی خاصی اہم ہے، جہاں سرحدی کشیدگی اور غیر ریاستی عناصر کی موجودگی تنازع کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسے ماحول کو جنم دیتے ہیں جہاں مذہبی بیانیے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب مذہبی متون کو سیاسی عزائم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو اس کے نتائج اکثر خطرناک ہوتے ہیں۔ بائبل کی آیات کو اگر سیاق و سباق سے ہٹ کر جدید نقشوں پر لاگو کیا جائے تو یہ نہ صرف علمی بددیانتی ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ اسلام، مسیحیت اور یہودیت تینوں مذاہب امن، انصاف اور انسانی وقار کا درس دیتے ہیں۔
ایسے میں مذہب کو جنگ یا توسیع پسندی کے جواز کے طور پر پیش کرنا ان کی اصل روح کے خلاف ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مذہبی تعلیمات کو امن، رواداری اور مکالمے کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے۔موجودہ صورتحال عالمی برادری کے لیے ایک امتحان ہے۔ضروری ہے کہ بڑی طاقتیں تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں-اقوام متحدہ مؤثر سفارتی کردار ادا کرے-اور خطے کے ممالک باہمی احترام کے ساتھ مذاکرات کی راہ اپنائیں۔پیدائش 15:18–21 کو “گریٹر اسرائیل” کے تصور سے جوڑنا ایک مخصوص اور محدود تعبیر ہے، جسے عالمی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ موجودہ جنگ اور اس کے بعد کی نازک جنگ بندی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اگر مذہبی بیانیے کو ذمہ داری کے ساتھ نہ برتا جائے تو وہ تنازعات کو مزید بھڑکا سکتے ہیں۔لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم مقدس متون کو تقسیم نہیں بلکہ اتحاد، جنگ نہیں بلکہ امن، اور نفرت نہیں بلکہ انسانیت کے فروغ کے لیے استعمال کریں—کیونکہ حقیقی فتح میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ پائیدار امن میں ہوتی ہے۔موجودہ جنگ اور نازک جنگ بندی کے پس منظر میں 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات ایک اہم موقع فراہم کرتے ہیں کہ کشیدگی کو مستقل امن میں بدلا جا سکے۔ اگرچہ ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں اور لبنان کی صورتحال اس عمل کو پیچیدہ بناتی ہے، تاہم یہ پیش رفت اس بات کی امید دلاتی ہے کہ سنجیدہ سفارتکاری اور مکالمہ خطے کو ایک پائیدار اور متوازن امن کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

 

Author

Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author