مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


مذاکرات کبھی ناکام نہیں ہوتے ۔۔۔۔ !

مذاکرات کبھی ناکام نہیں ہوتے ۔۔۔۔ !

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

شوکت جاوید
دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جنگیں وقتی فتح تو دے سکتی ہیں، مگر دیرپا امن صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حاصل ہوتا ہے۔ “مذاکرات کبھی ناکام نہیں ہوتے” ایک ایسا جملہ ہے جو بظاہر سادہ لگتا ہے، لیکن اپنے اندر گہری حکمت اور تجربے کی روشنی سموئے ہوئے ہے۔ خاص طور پر موجودہ عالمی حالات میں، جہاں United States اور Iran کے درمیان کشیدگی اور حالیہ سیز فائر نے دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے، اس جملے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔مذاکرات دراصل صرف معاہدوں کا نام نہیں، بلکہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں فریقین ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنے، اختلافات کو کم کرنے اور مشترکہ راستہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کسی مرحلے پر مذاکرات تعطل کا شکار بھی ہو جائیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ناکام ہو گئے ہیں۔ بلکہ وہ مستقبل کی کامیابیوں کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں بے شمار مثالیں ملتی ہیں جہاں ابتدائی مذاکرات بے نتیجہ دکھائی دیے، مگر وقت کے ساتھ وہی کوششیں بڑی کامیابیوں میں تبدیل ہو گئیں۔ امن کا ہر معاہدہ دراصل کئی چھوٹی بڑی بات چیت، غلط فہمیوں کے ازالے اور اعتماد سازی کے مراحل سے گزر کر ہی ممکن ہوتا ہے۔ اس لیے مذاکرات کو ایک وقتی نتیجے کی بجائے ایک طویل سفر کے طور پر دیکھنا یہ صرف پاکستان جیسے ممالک، جو خود بھی مختلف چیلنجز سے گزر چکے ہیں، اس حقیقت کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ہمیشہ امن، استحکام اور مکالمے پر زور دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اکثر ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے اور عالمی سطح پر مصالحت کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔مذاکرات کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ دروازے بند نہیں کرتے۔ جب دو فریق جنگ کی حالت میں ہوتے ہیں تو راستے محدود ہو جاتے ہیں، مگر جب وہ بات چیت کا آغاز کرتے ہیں تو امکانات کے نئے در کھل جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر فوری طور پر کوئی معاہدہ نہ بھی ہو، تب بھی بات چیت کا جاری رہنا خود ایک مثبت پیش رفت ہوتی ہے۔ یہ عمل کشیدگی کو کم کرتا ہے اور فریقین کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔حالیہ سیز فائر کے تناظر میں یہ بات اور بھی اہم ہو جاتی ہے۔ سیز فائر دراصل ایک موقع ہوتا ہے—ایک ایسا موقع جس میں فریقین جنگ کے بجائے امن کے راستے کو اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر اس موقع کو سنجیدگی سے لیا جائے اور مذاکرات کو جاری رکھا جائے تو ایک دیرپا حل کی طرف پیش رفت ممکن ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر اس موقع کو نظر انداز کر دیا جائے تو حالات دوبارہ کشیدہ ہو سکتے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر United Nations جیسے ادارے بھی اسی اصول پر کام کرتے ہیں کہ مسائل کا حل طاقت کے بجائے مکالمے میں تلاش کیا جائے۔ اقوام متحدہ کی کوشش ہوتی ہے کہ تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔ یہ ادارہ اس بات کی علامت ہے کہ عالمی برادری بھی مذاکرات کو ہی مسائل کے حل کا بہترین ذریعہ سمجھتی ہے۔تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ مذاکرات ہمیشہ آسان نہیں ہوتے۔ ان میں صبر، برداشت اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض اوقات فریقین اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہتے ہیں، جس سے پیش رفت سست ہو جاتی ہے۔ لیکن یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں قیادت کی بصیرت اور حکمت کا امتحان ہوتا ہے۔ ایک کامیاب رہنما وہی ہوتا ہے جو مشکل حالات میں بھی بات چیت کا دروازہ بند نہیں ہونے دیتا۔مذاکرات کا ایک اور اہم پہلو اعتماد سازی ہے۔ جب فریقین بار بار ملتے ہیں، ایک دوسرے کی بات سنتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے معاملات پر اتفاق کرتے ہیں تو آہستہ آہستہ اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ یہی اعتماد بڑے معاہدوں کی بنیاد بنتا ہے۔ اگرچہ یہ عمل وقت لیتا ہے، مگر اس کے نتائج دیرپا اور مضبوط ہوتے ہیں۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ مذاکرات ایک فن بھی ہیں اور ایک ضرورت بھی۔ یہ فن اس لیے ہیں کہ ان میں الفاظ، لہجے اور حکمت عملی کا بڑا کردار ہوتا ہے، اور ضرورت اس لیے ہیں کہ ان کے بغیر امن کا قیام ممکن نہیں۔ دنیا جتنی بھی ترقی کر لے، اگر مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا رویہ نہ ہو تو ترقی بے معنی ہو جاتی ہے۔یہ کہنا بجا ہوگا کہ “مذاکرات کبھی ناکام نہیں ہوتے” ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہر بار نئی امید کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرنا چاہیے۔ کیونکہ ہر مکالمہ، چاہے وہ کتنا ہی مختصر کیوں نہ ہو، امن کی طرف ایک قدم ضرور ہوتا ہے۔اگر دنیا کو واقعی ایک پرامن اور مستحکم مستقبل کی طرف لے جانا ہے تو ہمیں جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دینی ہوگی۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف تنازعات کو ختم کر سکتا ہے بلکہ انسانیت کو ایک بہتر کل کی طرف بھی لے جا سکتا ہے۔آخر میں یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ برستے مزائیلوں کے درمیان دو پارٹیوں کو جو ایک زخمی ببر شیر کی مانند اوردوسرا ٹائگر ہو ان دونوں کو ایک میز پہ بٹھانا وہ بھی ایک ترقی پزیر ملک ہوتے ہوئے سونے ہہ سہاگہ کہ انکی سیورٹی کے دوران انکے اردگرد کسی چڑیا کو پر بھی نا مارنے دینا یہ صرف اور صرف اعزاز ہمارے ملک کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور میاں شہباز شریف کی قسمت میں لکھا تھا۔خدا ہم سب کا حامی ونآصر ہو اور ہمارے ملک کو ہر وقت نظر بد سے بچائے رکھے۔پاکستان پائندہ باد

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author