مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


رمضان اور مسیحوں کے روزے بین المذاہب ہم آہنگی کا بہترین موقع

رمضان اور مسیحوں کے روزے بین المذاہب ہم آہنگی کا بہترین موقع

  Authors Hum Daise View all posts Editor Hum Daise View all posts

 

تحریر: سموئیل بشیر
سنہ 2026 ایک غیر معمولی روحانی ہم آہنگی لے کر آیا ہے۔ مسلمانوں کا مقدس مہینہ رمضان اور مسیحیوں کا لینٹ تقریباً ایک ہی دن، یعنی 18 فروری 2026 کے آس پاس شروع ہو رہے ہیں۔ یہ محض تقویمی اتفاق نہیں بلکہ ایک ایسا لمحہ ہے جو پاکستان جیسے کثیرالمذاہب معاشرے میں بین المذاہب مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کے لیے غیر معمولی امکانات پیدا کرتا ہے۔
رمضان ہو یا لینٹ، دونوں کا بنیادی فلسفہ ایک ہے
نفس کی اصلاح
صبر اور برداشت
روحانی تزکیہ
خدمتِ خلق
رمضان میں مسلمان طلوعِ فجر سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھ کر تقویٰ حاصل کرتے ہیں، جبکہ لینٹ کے چالیس دن مسیحیوں کے لیے توبہ، دعا اور قربانی کا زمانہ ہوتے ہیں جو ایسٹر تک جاری رہتا ہے۔ دونوں عبادات انسان کو اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر معاشرے کے کمزور طبقات کے لیے سوچنے کی دعوت دیتی ہیں۔
پاکستان کا قیام ایک ایسے وژن کے ساتھ ہوا جس میں مذہبی آزادی اور مساوات کی ضمانت دی گئی۔ 11 اگست 1947 کوپہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح نے واضح طور پر کہا تھا کہ ریاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوگا اور ہر شہری کو اپنی عبادت گاہ جانے کی آزادی حاصل ہوگی۔
2026 میں رمضان اور لینٹ کا ایک ساتھ آنا اسی وژن کی عملی یاد دہانی ہے، کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کے مذہبی تنوع اور باہمی احترام میں ہے۔
یہ موقع محض مذہبی تقاریب تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے عملی اقدامات میں ڈھالا جا سکتا ہے
مشترکہ افطار اور دعائیہ تقریبات، مساجد اور گرجا گھروں کے اشتراک سے۔
خدمتِ خلق کے منصوبے، مستحق خاندانوں میں راشن کی تقسیم، بلڈ ڈونیشن کیمپ، اور کمیونٹی سروس
بین المذاہب مکالمہ، مدارس، کالجز اور جامعات میں سیمینارز۔
میڈیا کا مثبت کردار، نفرت انگیز بیانیے کے بجائے یکجہتی کی مثالوں کو اجاگر کرنا۔
خاص طور پر پنجاب اور وفاقی دارالحکومت جیسے علاقوں میں سول سوسائٹی اور مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اس ہم زمانی کو ایک قومی بیانیے میں تبدیل کریں- ایسا بیانیہ جو شدت پسندی کے مقابل امن اور ہم آہنگی کو فروغ دے۔
گزشتہ برسوں میں مذہبی بنیادوں پر پیدا ہونے والی کشیدگی نے معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کیا۔ ایسے ماحول میں رمضان اور مسیحوں کا بیک وقت آنا ایک اخلاقی اور روحانی جواب ہے
کہ عبادت کا اصل مقصد نفرت نہیں بلکہ انسانیت ہے۔
یہ موقع ہمیں یاد دلاتا ہے کہ مذہب کا جوہر تقسیم نہیں بلکہ اصلاح اور اتحاد ہے۔
2026 کا یہ تقویمی امتزاج ایک علامتی پیغام رکھتا ہے- اگر مسلمان اور مسیحی ایک ہی وقت میں صبر، توبہ، اور قربانی کی مشق کر رہے ہیں تو معاشرے میں برداشت اور باہمی احترام کی فضا کیوں پیدا نہیں ہو سکتی؟
پاکستان کے لیے یہ لمحہ ایک آزمائش بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ اگر ہم نے اسے دانشمندی سے استعمال کیا تو یہ سال بین المذاہب ہم آہنگی کی تاریخ میں ایک مثبت مثال بن سکتا ہے۔

Authors

Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Authors