Author Editor Hum Daise View all posts
تحریر: سموئیل بشیر
ضلع ساہیوال کے نواحی گاؤں میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ اس بات کی تلخ یاد دہانی ہے کہ کس طرح ایک گھریلو جھگڑا پورے گاؤں کو ریاستی اداروں کے مقابل کھڑا کر سکتا ہے۔ ایک رات کا یہ تصادم، جس میں تین پولیس افسران زخمی اور پولیس کی گاڑیوں کا شدید نقصان ہوا، مقامی سطح پر بدامنی اور خوف کی لہر دوڑا گیا- یہ تنازع دلشاد مسیح اور اس کی اہلیہ مونا کے درمیان برسوں سے جاری کشیدگی کا نتیجہ تھا۔ شادی کو تقریباً 15 سال گزر چکے تھے، لیکن حالیہ مہینوں میں تعلقات بگڑتے بگڑتے اس نہج پر پہنچ گئے کہ مونا اپنے والد کے گھر منتقل ہو گئیں۔ دلشاد کا الزام تھا کہ اس کی بیوی اور اس کے اہل خانہ نے نہ صرف اسے زہر دینے کی کوشش کی، بلکہ سونا اور نقدی بھی چرا لی۔ یہ الزامات باقاعدہ پولیس شکایت کی شکل اختیار کر گئے- شڪارپور اور ہڑپہ پولیس نے 8 اگست 2025 کی رات مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مونا، اس کے والد، والدہ اور بھائی کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق یہ گرفتاری قانونی تقاضوں اور درج مقدمے کے تحت عمل میں آئی۔ لیکن جیسے ہی پولیس ٹیم ملزمان کو لے کر گاؤں سے نکلنے لگی، صورت حال اچانک بدل گئی- تقریباً 80 افراد پر مشتمل ایک مشتعل گروہ، جس میں خواتین، مرد، بچے اور بزرگ سب شامل تھے، نے پولیس کی گاڑیوں کو گھیر لیا۔ پولیس کے مطابق مشتعل ہجوم نے لاٹھیوں، اینٹوں اور لوہے کی راڈز سے حملہ کیا۔ اس تصادم میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ پولیس کی گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ اطلاعات کے مطابق کچھ نقدی بھی لوٹ لی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہجوم نے گرفتار ملزمان کو چھڑوا کر فرار کرا دیا- اس واقعے کے بعد ہڑپہ پولیس نے 76 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا، جن میں سے 18 کو شناخت کر لیا گیا۔ ان پر تعزیراتِ پاکستان اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعات کے تحت الزامات عائد کیے گئے۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی ریاستی عملداری کو یقینی بنانے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری تھی-
واقعے کے اگلے روز پولیس، مقامی چرچ رہنماؤں بشپ ابراہیم ڈینل اور برادری کے بزرگوں کے درمیان مذاکرات ہوئے۔ فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ شناخت شدہ 18 ملزمان کو آئندہ 2 سے 3 دنوں میں پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ وقتی طور پر کشیدگی کم کرنے میں کامیاب رہا، تاہم قانونی کارروائی کا عمل جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا-
یہ واقعہ کئی اہم سوالات اٹھاتا ہے:
کیا پولیس کارروائی کے دوران کمیونٹی حساسیت کا خیال رکھا گیا؟
کیا ریاستی ادارے برادریوں کے ساتھ بہتر رابطہ کاری سے ایسے تصادم سے بچ سکتے ہیں؟
کیا یہ ردعمل برادری کے عدم اعتماد کا اظہار تھا یا صرف جذباتی اشتعال؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کمیونٹی انگیجمنٹ اور پیشگی مذاکرات کو ترجیح دینی چاہیے، خاص طور پر جب معاملہ کسی اقلیتی برادری سے متعلق ہو۔
کیا یہ واقعہ محض ایک گھریلو جھگڑے کی کہانی ہے۔ نہیں، بلکہ ایک ایسا آئینہ ہے جو ریاست، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کے باہمی تعلقات میں موجود کمزوریوں کو عیاں کرتا ہے۔ اگرچہ ثالثی نے وقتی امن وامان قائم کر دیا ہے، لیکن مستقل حل کے لیے قانون پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات بھی ناگزیر ہیں-
Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *