Author Editor Hum Daise View all posts
رپورٹ: یوسف عدنان
مینارٹی رائٹس موومنٹ پاکستان کی جانب سے فیصل آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کمسن بچی لائبہ کیس، تبدیلی مذہب اور نکاح کے عدالتی فیصلہ پر گفتگو کرتے ہوئے سر براہ لالہ روبن ڈینیل’ پرویز اقبال بھٹی سینئر نائب صدر، ابرار سہوترہ، عدنان یوسف، میڈم طاہرہ انجم، ملک سہیل سردار اور جاوید مسیحی (تایا لائبہ )نے کہا کہ 11-2-2024 مقدمہ نمبری 24/169 تھانہ روشن والا میں اغوا ء کا مقدمہ درج ہوتا ہے کہ عرفان مسیح اور دیگر نے میری بچی کو زنا حرام کاری کے لئے اغوا کر لیا ہے۔ مختصر یہ کہ بعد ازاں تفتیش اور ثبوت کہ بچی کی عمر 11 سال چند ماہ ہے مقدمہ ہذا میں 376 سمیت چائلڈ میرج ریسٹرین ایکٹ اور 420، 468، 471 کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ ثبوت ہیں کہ ملزم نے خود اور بچی کو محض نکاح کیلئے اسلام قبول کروایا۔ 15-6-2024 کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج امجد علی باجوہ صاحب ملزم کی ضمانت اس بنا پر خارج کر دیتے ہیں کہ یہ جرم گھنائونی فطرت کا ہے اور اس طرح کے جرم نے ہمیشہ معاشرے کے سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچایا ہے۔ بعد ازاں ہائیکوٹ سے بھی ملزم کی ضمانت خارج ہوتی ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ٹرائل کورٹ بعد الت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شیخ انوار الحق صاحب نے مقدمہ کو عدم ثبوت خارج کر دیا ہے۔ یہ کہ مثل مقدمہ میں بچی کی عمر اور چائلڈ میرج ریسٹرین ایکٹ اور دیگر دفعات کے دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ یہ کہ کمسن سے اس کی رضامندی اور بغیر رضامندی جنسی تعلقات استوار کرنا ریپ ہے اور اس کی سخت سزا موجود ہے۔ مسیحی یا اقلیت سے تعلق رکھنے والی کمسن بچیوں کے ساتھ شادی اور محض شادی کیلئے تبدیلی مذہب پر عدالتی فیصلے انصاف سے مطابقت نہیں رکھتے اور یہ ہی وجہ ہے دنیا میں ہمارے عدالتی انصاف کو اہمیت حاصل نہیں۔ ٹرائل کورٹ کا اہم ثبوتوں کو یکسر نظر انداز کر دینا اور ایسے مقدمات میں کمزور فیصلوں سے کمسن بچیاں اور خاندان چاہیے وہ کسی رنگ، نسل اور مذہب سے ہوں غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ ہم اس موجودہ فیصلے کو نہیں مانتے ہم اس کے خلاف ہائیکوٹ سمیت جوڈیشل کمیشن میں جائیں گے۔ پنجاب حکومت نے بچیوں اور خواتین کے تحفظ کے لیے عہد کیا ہے لیکن جہاں مسیحی بچی یا خاتون کے ساتھ زیادتی کا حادثہ ہو وہاں خصوصی اقدامات نظر نہیں آتے۔ جیسا کہ جڑانوالہ میں 6 سالہ بچی سے زیادتی اور ضیاء شہید کالونی کھو کھوال تھانہ ملت ٹائون میں 12 سالہ مسیحی بچی سے زیادتی کا مقدمہ کہیں بھی خصوصی اقدامات نظر نہیں آئے۔ ریاست ہو گی ماں کے جیسی کا تصور اور احساس ملک کی ہر رنگ، نسل اور مذہب کو محسوس ہونا چاہیے۔
















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *