Author Editor Hum Daise View all posts
تحریر و تحقیق : سمیراجمل
قیام پاکستان سے قبل کمزور طبقات کو معاشی طور پر بحال کرنے کے لئے انگریز سرکار نے آباد کاری سکیم کے تحت اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے الگ دیہات آباد کئے تھے اور انہیں زرعی اراضی الاٹ کی تھی تاکہ وہ خود اگائیں‘ خود کمائیں او ر خود کھائیں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جو زمینیں انگریز سرکار کی جانب سے اقلیتوں کو الاٹ کی گئی تھی وہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے لئے فائدہ کا سبب بنتی اور ان کی زرعی اراضی میں اضافہ ہوتا مگر صورتحال اس کے برعکس ہے زرعی زمینوں میں اضافے کے بجائے پہلے سے الاٹ شدہ اراضی بھی اقلیتوں کے ہاتھ سے نکلتی جارہی ہے۔بشارت مسیح کا تعلق ملتان کے ایک گاؤں چک نمبر 13ایم آر سے ہے یہ گاؤں قیام پاکستان سے قبل 1943میں آباد ہوا تھا جس کی تمام تر آبادی مسیحوں پر مشتمل تھی‘بشارت مسیح کے بزرگوں کو بھی اس گاؤں میں ایک مربع25ایکڑ زمین الاٹ ہوئی تھی جسے انہوں نے بڑی محنت سے زرخیز بنایا اور آباد کیا مگر اب یہ زمین صرف دو ایکڑ رہ گئی ہے جس کی وجہ سے بشارت مسیح اب پریشان رہتا ہے بشارت مسیح کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کا گزر بسر اسی زرعی رقبے کی وجہ سے تھا وہ اپنے خاندان کی کفالت کر رہے رہے تھے او ر عزت سے زندگی گزار رہے تھے موسیماتی تبدیلیوں کی وجہ سے زمین کی پیدوار اور آمدن کم ہوگئی ہے جس کی وجہ سے اس کے خاندان کے لوگ زمین فروخت کرچکے ہیں اب اخراجات اور گھر کے فرد زیادہ ہیں اور دو ایکڑ سے انتی پیدوا ر حاصل نہیں ہوتی کہ وہ پورے خاندان کی کفالت کر سکیں۔یہ صرف ایک بشارت مسیح کی کہانی نہیں ہے پنجاب کے تقریبا تمام دیہات جو کہ اقلیتوں کے آباد کردہ یاان کے لئے مخصوص تھے کی یہی صورت حال ہے وہاں پر زرعی رقبے فروخت ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے وہاں کے رہنے والوں کا گزر بسر مشکل ہے۔
اقلیتوں کے دیہات کی آبادکاری کا پس منظر
چک نمبر 13ایم آر کے رہائشی بزرگچودھری نتھانیل مسیح کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان سے قبل انگریزوں نے پلاننگ کے تحت کمزور طبقات جن میں مذہبی اقلیتیں شامل تھیں کی آبادکاری کے لئے الگ سے زمینیں الاٹ کی تھی تاکہ وہ باعزت طریقے سے زندگی گزار سکیں یہ مخصوص دیہات جہاں پر اقلیتی برادری کی تعداد زیادہ ہے اقلیتوں کے ہی آباد کردہ ہیں پنجا ب میں ان دیہات کی تعداد دو سو ہے جس میں زرعی رقبہ اور آبادکاروں کی تعداد الاٹمنٹ کے وقت انگریز سرکاری نے مختلف رکھی تھی مگر جو طریقہ کار مقرر کیا گیا تھا اس کے تحت ہر آباد کار کو ایک مربع(25ایکڑ) زمین دی گئی تھی یہ زمین آبادکاری کے وقت انتہائی زرخیز تھی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ زمینیں موسیماتی تبدیلیوں کی زد میں آ نا شروع ہوگئی تھیں
آبادی کاری کے وقت کے اور موجودہ حالات میں فرق
ماسٹر جیکب آفتاب سکول ٹیچر ہیں جن کا تعلق چک نمبر 13ایم آر سے ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ گاؤں آباد کاری کے وقت 52مربعوں پر مشتمل تھا اور یہ تمام کی تمام زمین مسیحوں کو الاٹ کی گئی تھی یہاں 52خاندان آباد تھے اور ہر خاندان کے پاس ایک مربع (25ایکڑ) زمین تھی اب اس گاؤں میں 200خاندان آباد ہیں اور کسی کے پاس پورا مربع (25ایکڑ) زمین نہیں ہے زیادہ تر زمین فروخت ہوچکی ہیں جو کہ غیر مسیحی یا مسلم افراد نی خریدی ہیں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد چونکہ معاشی طور پر کمزور ہوتے ہیں اس لئے وہ موسیماتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمنٹے کے لئے اقدامات نہیں کرپاتے اورمجبوری میں انہیں زمینیں فروخت کرنا پڑتی ہیں جبکہ اکثریتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد معاشی طور پر مظبوط ہوتے ہیں اس لئے وہ موسیماتی تبدیلیوں سے نمنٹے کے لئے متبادل انتظامات کرسکتے ہیں جیسے پانی کی کمی کی صورت میں ٹیوب ویل کا استعمال وغیرہ۔گاؤں کے آباد کاری کے وقت یہاں دو نمبردار تھے اور دونوں کا تعلق مسیحی برادری سے تھے زمینوں کی فروخت کی وجہ سے اب نمبرداری بھی مسیحوں کے پاس نہیں رہی ہے
گاؤں کی زمین فروخت ہونے اور نقل مکانی کی وجوہات
چودھری گلزار مسیح چک نمبر 13ایم آر کے بزرگ ہیں ان کا کہنا ہے کہ جب وہ اور ان کے بڑے یہاں آکر آباد ہوئے تھے تو نہری پانی وافر تھا بارشیں بھی تواتر سے ہوتی تھیں اب نہری پانی بھی کم ہے اور بارشیں بھی کم ہوتی ہیں جس کی وجہ سے زمینیں بنجر ہوتی جارہی تھی اور پیدوار نہ ہونے کی وجہ سے لوگ زمین فروخت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ کامران مسیح بھی چک نمبر13ایم آر کے رہنے والے ہیں وہ اب نقل مکانی کرکے ملتان شہر میں آچکے ہیں ان کا کہنا ہے گاؤں نہ تو تعلیمی سہولیات ہیں اور نہ ہی روزگار کے مواقع اس وجہ سے ان کے والدین 30سال پہلے گاؤں چھوڑ کر شہر منتقل ہوگئے تھے زیرزمین پانی بھی کھارا ہے جس کی وجہ سے کاشتکاری کے لئے زمین کا پانی بھی استعمال نہیں کیا جا سکتا یہی وجہ ہے کہ لوگ نقل مکانی اور زمینیں فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔چک نمبر 51گ ب خوش پور فیصل آباد کا ایک گاؤں ہے جس میں زیادہ تعداد مسیحوں کی ہے یہ گاؤں 1898میں آباد ہوا تھا اور آبادکاری کے وقت اس گاؤں میں مسیحوں کو ایک سو دس مربع زمین الاٹ ہوئی تھی۔گمیلی ایل ڈوگرا خوش پورکے رہائشی اور سوشل ایکٹوسٹ ہیں ان کا کہنا ہے کہ گاؤں کی 70فیصد زمین فروخت کی جا چکی ہے جس کی بڑی وجہ سیم و تھور پانی کی کمی‘ موسمیاتی تبدیلیاں اور دیگر مسائل ہیں
اقلیتوں کے ووٹ بنک کی تقسیم کا مسلہ
بیٹمن آباد جسے کہ عیسی نگری بھی کہا جاتاہے فیصل آباد کا ایک گاؤں ہے یہ گاؤں 1896میں ایک انگریز مشنر ی(پادری) نے آباد کیا تھا آباد کاری کے وقت اس گاؤں میں اکثریت مسیحوں کی تھی اور 25مربع زمین مسیحوں کے پاس تھی مگر تاحال اس گاؤ ں میں مسیحوں کے پاس صرف دو مربع زمین ہے گاؤں کے بزرگ بشیر مسیح کا کہنا ہے کہ سیم تھور‘ پانی کی کمی اور دیگر موسمیاتی تبدیلیوں‘ روزگا ر کی عدم دستیابی اور نامساعد حالات کے باعث یہاں کے رہائشی اپنی زمینیں بیچنے اور نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
پاسٹر جمیس مسیح کا کہنا ہے کہ نامساعد حالات کے باعث زمینوں کی فروحت اور نقل مکانی سے جہاں اقلیتوں کو معاشی طور پر نقصان پہنچ رہا ہے وہاں پر ان کا ووٹ بنک بھی بری طرح متاثر ہورہا ہے کیونکہ نقل مکانی کی وجہ سے ایک دیہات کے مکین جب کہیں اور شفٹ ہوتے ہیں تو وہاں سے ان کا ووٹ بھی ختم یا منتقل کردیا جاتا ہے جس سے اب پنجاب میں اقلیتوں کا ووٹ بنک تقسیم ہو کر ووٹ کم ہوتے جارہے ہیں
اقلیتوں کے دیہات کو درپیش مسائل کے سدباب کے لئے ناگزیر اقدامات
ڈاکٹر یوسف ریاض صدارتی ایوارڈ یافتہ زرعی سائنسدان ہیں جنہوں کے بشپ آف فیصل آباد اور کاتھولک چرچ کی معاونت سے چک نمبر51گ ب خوشپور میں زمینوں کی بحالی کے لئے پروگرام شروع کیا ہے ڈاکٹر یوسف کا کہنا ہے کہ پنجاب میں اقلیتوں کے زیادہ دیہات سیم و تھور اور کلر سے متاثرہیں جن کو بحال کرنے کے لئے متبادل فصلیں کاشت کی جاسکتی ہیں جو ان سیم و تھور اور کلر کے خلاف قوت مدافعت رکھتی ہوں جبکہ زمین بچانے کے لئے سیم نالوں کی تعمیر سمیت دیگرجدید زرعی ٹیکنالوجیز کو استعمال میں لایا جانا چاہئے انہوں نے کہا ہے خوشپور میں اپنی مدد آپ کے تحت زرعی رقبہ کی بحالی کا کام شروع کیا گیاہے یہ ایک مہنگا پراجیکٹ ہے مگر اس کو رول ماڈل بناتے ہوئے حکومت اگر فنڈنگ کرے تو اقلیتوں کے دوسرے دیہات میں بھی ایسے پراجیکٹ شروع کرکے زمینوں کی فروخت اور نقل مکانی کے عمل کو روکا جا سکتا ہے


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *