Author Editor Hum Daise View all posts
رپورٹ: افشاں بتول
اقلیتوں کے عائلی قوانین میں بہتر وقت کی ضرورت ہے اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقلیتوں کے عائلی قوانین کو بہتر بنائے اور اس کے لئے اقدامات کرے ان خیالات کا اظہار انسانی اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے سرگرم عمل رہنماء شبانہ عارف نے فیصل آباد پریس کلب میں صحافیوں سے ملاقات کے دوران کیا‘انہوں نے ہفتہ کے روز فیصل آباد پریس کلب کا وزٹ کیا اور اس دوران گروپ لیڈر شاہد علی‘ جنرل سیکرٹری شوکت وٹو کی سربراہی میں پریس کلب کے عہدیداران صحافیوں سے ملاقات کی جس میں انہوں نے بتایا وہ اس سے پہلے ڈھرکی‘ حیدر آباد اور ملتان سمیت بہت سے پریس کلبز کا وزٹ کر چکی ہے جس کا مقصد صحافیوں کا ایسا گروپ تشکیل دینا ہے جو اقلیتوں کے حقوق اور ان کے ایشوز کے حوالے سے بات کرسکیں انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں اقلیتوں کو بری طرح سے نظر انداز کیا جاتاہے ٹاک شوز اور پرائم ٹائم میں ان کے نمائندگان کو نہیں بلایا جاتاجبکہ عام روٹین میں بھی پرنٹ اور الیکٹرانک میں میڈیا میں ان کو نظر انداز کیا جاتاہے جس کی وجہ سے یہ اہم قدم اٹھا جا رہا ہے اور صحافیوں کا ایک موثر اور باعمل گروپ تشکیل دینے کی کوشش کی جارہی ہے انہوں نے کہا کہ اقلیتی برادری کے عائلی قوانین انگریز دور کے بنائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد خاص کر خواتین کو بہت سے مسائل کا سامناہے اقلیتوں کی طرف سے ان قوانین میں بہتری کا مطالبہ کیا جاتارہا ہے اور حکومت کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ باہم مشاورت سے جو مسودہ اقلیتوں کی طرف سے آئے گا اس کو دیکھتے ہوئے قوانین میں تبدیلی کی جائے گی مگر یہ ناممکن ہے جب تک حکومتی سطح پر مشاورت کے لئے اقدامات نہیں کئے جاتے پیش رفت ناممکن ہے اس لئے اقلیتوں کے عائلی قوانین میں بہتری کے لئے حکومت کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے اور اس کے لئے ہم صحافتی پلیٹ فارم سے بھرپور آواز بلند کریں گے

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *