مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


مخلوط طریقہ انتخاب اور مذہبی اقلیتں

مخلوط طریقہ انتخاب اور مذہبی اقلیتں

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

تحریر: سموئیل بشیر

کیا مذہبی اقلیتوں کے لیے مشترکہ انتخابات کا مطالبہ کوئی نیا سیاسی مطالبہ ہے؟ پاکستان کی تاریخ اس سوال کا جواب خود دیتی ہے۔ 1970 میں مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے امیدوار عام نشستوں پر انتخابات لڑ چکے تھے، بعد میں ملک نے الگ انتخابی نظام کا تجربہ کیا، اور طویل سیاسی و جمہوری جدوجہد کے بعد 2002 میں مشترکہ انتخابات بحال ہوئے۔اس لیے آج جب مذہبی اقلیتوں کے لیے مشترکہ انتخابات اور مؤثر سیاسی نمائندگی کی بات کی جاتی ہے تو اسے کسی نئے مطالبے کے طور پر دیکھنا تاریخ کے ایک اہم حصے کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ یہ دراصل پاکستان کے اپنے جمہوری تجربے سے جڑا ہوا مطالبہ ہے۔
ادارہ برائے سماجی انصاف کی 2026 میں شائع ہونے والی تحقیقی اشاعت ”اے سیپریشن ریفیوزڈ“ نے مشترکہ انتخابات کی بحالی کی جدوجہد اور مذہبی اقلیتوں کی سیاسی شرکت کے مختلف ادوار کو تفصیل سے دستاویزی شکل دی ہے۔ اس تحقیق کی روشنی میں پاکستان کے انتخابی سفر کو دیکھا جائے تو ایک واضح تاریخی تسلسل سامنے آتا ہے۔
مشترکہ انتخابات کی ایک اہم مثال 1970 کے عام 1نتخابات
پاکستان کی انتخابی تاریخ میں یہ انتخابات ایک اہم سنگِ میل تھے۔ یہ انتخابات مشترکہ انتخابی نظام کے تحت ہوئے، جس میں شہری مذہب کی بنیاد پر الگ انتخابی فہرستوں میں تقسیم نہیں تھے۔اس نظام میں مذہبی اقلیتوں کے ووٹرز بھی عام نشستوں پر تمام امیدواروں کو ووٹ دے سکتے تھے اور اقلیتی امیدوار بھی عام نشستوں پر انتخابات میں حصہ لے سکتے تھے۔ادارہ برائے سماجی انصاف کی تحقیق کے مطابق 1970 کے انتخابات میں پاکستان مسیحی لیگ سے تعلق رکھنے والے ایچ۔ ایل۔ حیات، عمانوائل ظفر اور فرانسس ایکس۔ لوبو نے عام نشستوں پر انتخاب لڑا، اگرچہ وہ کامیاب نہ ہو سکے۔یہ مثال ہمارے لیے اس لیے اہم ہے کہ اس سے یہ تاریخی حقیقت سامنے آتی ہے کہ مذہبی اقلیتوں کا عام نشستوں پر سیاسی مقابلے میں اترنا کوئی نیا تصور نہیں۔
یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے: اگر ایک اقلیتی امیدوار پورے حلقے کے ووٹروں سے ووٹ مانگ سکتا ہے تو اسے صرف مخصوص نشستوں تک محدود رکھنے کی ضرورت کیوں ہو؟
: مخصوص نشستوں کا ایک مختلف تجربہ
1970 کے عام انتخابات میں مذہبی اقلیتوں کی پارلیمانی نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی، جسے بہتر بنانے کے لئے 1975 میں مخصوص نشستوں کا انتظام کیا گیا۔ 1970 کے انتخابات میں عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو جنرل سیٹوں پر ٹکٹ دیے اور وہ کامیاب بھی ہوئے، جبکہ مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) کی حد تک قومی اسمبلی کی کسی جنرل سیٹ پر کوئی غیر مسلم امیدوار کامیاب نہیں ہو سکا تھا، البتہ سندھ اسمبلی کی حد تک ایک اقلیتی امیدوار نے کامیابی حاصل کی تھی۔آئینِ پاکستان (1973ء) میں مذہبی اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کا بندوبست چوتھی آئینی ترمیم کے تحت کیا گیا تھا۔اس چوتھی آئینی ترمیم سے متعلق اہم نکات درج ذیل ہیں:
یہ ترمیم 21 نومبر 1975ء کو اس وقت کے وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دوران پارلیمنٹ سے منظور ہوئی تھی۔مخصوص نشستوں کا اضافہ: اس ترمیم کے تحت قومی اسمبلی میں غیر مسلموں (مذہبی اقلیتوں) کے لیے 6 مخصوص نشستیں مختص کی گئیں۔ اس سے پہلے 1973ء کے اصل آئین میں اقلیتوں کے لیے اس طرح مخصوص نشستیں موجود نہیں تھیں۔ اس ترمیم کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 51 اور آرٹیکل 106 میں تبدیلی کر کے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں ان کی مستقل نمائندگی کو آئینی تحفظ دیا گیا۔اسی آئینی ترمیم کے تحت بعد میں مارچ 1976ء میں ان مخصوص نشستوں پر اقلیتی ارکان کا انتخاب عمل میں لایا گیا تھا۔ اس وقت ان نشستوں کے انتخاب کا طریقہ موجودہ طریقۂ کار سے مختلف تھا۔ اسمبلی کے ارکان انتخابی کالج کے طور پر ان نمائندوں کا انتخاب کرتے تھے۔یہ تجربہ ایک اہم بات واضح کرتا ہے کہ مشترکہ انتخابات اور مخصوص نشستیں ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں۔ایک ایسا نظام بھی موجود رہا ہے جس میں عام نشستوں پر مشترکہ انتخابات ہوں اور ساتھ ہی اقلیتوں کی مناسب نمائندگی کے لیے مخصوص نشستیں بھی رکھی جائیں۔
اس تاریخی تجربے کو آج کی بحث میں اس لیے یاد رکھنا ضروری ہے کہ ہماری بحث صرف ”مشترکہ یا مخصوص نشستوں“ کے انتخاب تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایسا نظام کیسے بنایا جائے جس میں اقلیتوں کی نمائندگی بھی یقینی ہو اور ان کی سیاسی شرکت بھی حقیقی اور مؤثر ہو۔
1979 سے 1997 الگ انتخابی نظام کا دور:
1979 میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں مقامی حکومتوں کے انتخابات سے مذہب کی بنیاد پر الگ انتخابی نظام کا آغاز ہوا، جسے بعد میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں تک وسعت دی گئی۔1985 کے عام انتخابات میں مذہبی اقلیتوں کے لیے الگ انتخابی فہرستیں اور مخصوص نشستیں موجود تھیں۔ اس نظام کے تحت اقلیتی ووٹر اپنے مذہبی گروہ کے امیدواروں کو ووٹ دیتے تھے، جبکہ عام نشستوں کے سیاسی عمل میں ان کی شرکت محدود ہوگئی۔یہ نظام 1985 سے 1997 تک مختلف عام انتخابات میں جاری رہا۔اس دور کا تجربہ صرف ایک انتخابی طریقۂ کار کی تبدیلی نہیں تھا۔ اس نے یہ بنیادی سوال بھی پیدا کیا کہ کیا ایک ہی ملک کے شہریوں کو مذہب کی بنیاد پر الگ سیاسی دائروں میں تقسیم کرنا جمہوری مساوات کے اصول سے مطابقت رکھتا ہے؟یہی سوال بعد میں مشترکہ انتخابات کی بحالی کی تحریک کا ایک بنیادی حصہ بن گیا۔
الگ انتخابات کے خلاف جدوجہد
الگ انتخابی نظام کے خلاف مذہبی اقلیتوں، انسانی حقوق کی تنظیموں، چرچ کے اداروں، سول سوسائٹی اور جمہوری کارکنوں نے مختلف ادوار میں آواز اٹھائی۔
یہ جدوجہد کسی ایک تنظیم یا ایک شخصیت تک محدود نہیں تھی۔ مختلف تنظیمیں اور افراد اپنے اپنے دائرے میں کام کرتے رہے اور رفتہ رفتہ یہ مطالبہ ایک وسیع تر شہری تحریک میں تبدیل ہوا۔ادارہ برائے سماجی انصاف کی تحقیق اسی جدوجہد کے مختلف مراحل کو دستاویزی شکل دیتی ہے۔اس تحریک کی اہم بات یہ تھی کہ مشترکہ انتخابات کے مطالبے کو صرف مذہبی اقلیتوں کے مخصوص مفاد کے طور پر پیش نہیں کیا گیا بلکہ اسے برابر کی شہریت، جمہوریت اور آئینی حقوق کے سوال کے طور پر سامنے لایا گیا۔شاید یہی وجہ تھی کہ وقت کے ساتھ اس مطالبے کو وسیع تر سول سوسائٹی اور جمہوری حلقوں کی حمایت بھی حاصل ہوتی گئی۔
عام نشستوں پر سیاسی حق کی جدوجہد
1993ء کے عام انتخابات میں چوہدری نعیم شاکر (جو کہ پاکستان کے ایک نامور کرسچن وکیل اور انسانی حقوق کے سرگرم رہنما تھے) اور ان کے ساتھ پرویز بھٹی نامی ایک اور مسیحی امیدوار نے جداگانہ طرزِ انتخاب کے خلاف ایک تاریخی اور جرات مندانہ قدم اٹھایا تھا۔ میں نعیم شاکر اور پرویز بھٹی کی جانب سے عام نشستوں پر انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش بھی اسی جدوجہد کا ایک اہم مرحلہ تھی۔ چوہدری نعیم شاکر صاحب نے صوبہ پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی جنرل نشست پی پی 126 کے لیے لاہور سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کی کوشش کی تھی اور ۔پرویز بھٹی صاحب نے صوبہ سندھ کی صوبائی اسمبلی (PS-90) کی جنرل نشست کے لیے کراچی سے کاغذات جمع کروانے کی کوشش کی تھی۔اس کوشش نے بنیادی سوال اٹھایا کہ اگر ایک شہری پاکستان کا برابر کا شہری ہے تو اسے عام نشست پر امیدوار بننے سے مذہبی شناخت کی بنیاد پر کیوں روکا جائے؟یہ معاملہ قانونی اور سیاسی سطح پر زیرِ بحث آیا۔ اگرچہ اس وقت فوری طور پر مطلوبہ تبدیلی نہیں آئی، لیکن اس طرح کی کوششوں نے اقلیتی سیاسی حقوق کو آئینی مساوات اور جمہوری شرکت کی بحث سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔عدالتِ عظمیٰ نے اس کیس کی سماعت کے دوران کچھ مثبت ریمارکس ضرور دیے۔ نعیم شاکر، سیسل چوہدری اور دیگر اقلیتی رہنماؤں کی اس جرات مندانہ عدالتی جدوجہد کا یہ فائدہ ہوا کہ مخلوط طریقہ انتخاب کی بحالی کی تحریک کو زبردست عوامی اور سیاسی طاقت ملی۔ اسی مسلسل دباؤ کے نتیجے میں بالآخر 2002ء میں اس امتیازی نظام کا خاتمہ ممکن ہو سکا۔
یہ واقعات ایک اور حقیقت بھی واضح کرتے ہیں کہ عام نشستوں پر اقلیتی امیدواروں کی شرکت کا مطالبہ 2002 کے بعد اچانک پیدا نہیں ہوا تھا۔ اس کے لیے اس سے پہلے بھی قانونی اور سیاسی جدوجہد جاری تھی۔
مشترکہ انتخابات کی بحالی
پاکستان کی انتخابی تاریخ میں 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے جنرل ضیاء الحق کا نافذ کردہ ’جداگانہ طریقہ انتخاب‘ مذہبی اقلیتوں کی سیاسی بیگانگی کا سبب بنا، جس نے ووٹرز اور امیدواروں کو عقیدے کی بنیاد پر تقسیم کر دیا۔ اس انتخابی امتیاز کے خلاف اقلیتی برادری اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے طویل دستوری و عدالتی جدوجہد کی، جس کے نتیجے میں بالآخر 2002ء میں جنرل پرویز مشرف نے ’چیف ایگزیکٹو آرڈر نمبر 7‘ کے ذریعے ’مخلوط طریقہ انتخاب‘ کو دوبارہ بحال کیا۔ اس تاریخی انتظامی و آئینی فیصلے نے نہ صرف ملک میں مذہب کی بنیاد پر انتخابی تفریق کا خاتمہ کیا، بلکہ اقلیتوں کو ایک بار پھر قومی سیاست کے مرکزی دھارے میں شامل ہو کر جنرل نشستوں پر الیکشن لڑنے اور مساوی شہریت کے حقوق استعمال کرنے کا موقع فراہم کیا۔اس کے بعد 2002 کے عام انتخابات میں مذہبی اقلیتوں کے ووٹرز دوبارہ عام نشستوں پر تمام امیدواروں کو ووٹ دینے کے قابل ہوئے اور اقلیتی امیدواروں کو بھی عام نشستوں پر انتخابات لڑنے کا موقع ملا۔اہم بات یہ تھی کہ مخصوص نشستوں کا نظام بھی برقرار رہا۔یوں ایک ایسا انتخابی ڈھانچہ سامنے آیا جس میں ایک طرف مشترکہ انتخابات کے ذریعے مذہبی اقلیتوں کو قومی سیاسی عمل کا حصہ بنایا گیا اور دوسری طرف مخصوص نشستوں کے ذریعے ان کی پارلیمانی نمائندگی برقرار رکھی گئی۔یہی تجربہ آج کی بحث کے لیے سب سے اہم تاریخی حوالوں میں سے ایک ہے۔مشترکہ انتخابات کی بحالی کے بعد مذہبی اقلیتوں کی سیاسی شرکت کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ادارہ برائے سماجی انصاف کی تحقیق میں مختلف اقلیتی سیاسی رہنماؤں کی مثالیں دی گئی ہیں جنہوں نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں قانون سازی، قائمہ کمیٹیوں اور حکومتی ذمہ داریوں میں کردار ادا کیا۔شہباز بھٹی، کامران مائیکل، نوید انتھونی، خلیل جارج، اکرم مسیح گل، کھیئل داس کوہستانی، خلیل طاہر سندھو، اعجاز عالم آگسٹین اور رمیش سنگھ اروڑہ سمیت متعدد اقلیتی سیاسی رہنماؤں نے مختلف ادوار میں پارلیمانی اور حکومتی ذمہ داریاں ادا کیں۔یہ مثالیں اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ جب اقلیتی شہریوں کو وسیع تر سیاسی عمل میں شرکت کا موقع ملتا ہے تو ان کی سیاسی آواز بھی صرف ایک مخصوص نشست تک محدود نہیں رہتی۔لیکن کیا مشترکہ انتخابات کافی ہیں؟یہاں سے آج کی اصل بحث شروع ہوتی ہے۔
مشترکہ انتخابات کی بحالی ایک اہم جمہوری پیش رفت تھی، لیکن صرف مشترکہ انتخابات سے مذہبی اقلیتوں کی مکمل اور مؤثر سیاسی نمائندگی یقینی نہیں ہوتی۔
موجودہ نظام میں مخصوص نشستوں کی نمائندگی سیاسی جماعتوں کی ترجیحی فہرستوں اور انتخابات میں حاصل ہونے والی نشستوں سے وابستہ ہے۔ اس صورت میں مخصوص نشستوں کے ارکان اور اقلیتی ووٹرز کے درمیان وہ براہِ راست انتخابی تعلق موجود نہیں ہوتا جو عام نشست کے منتخب نمائندے اور اس کے ووٹرز کے درمیان ہوتا ہے۔یہ کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف اعتراض نہیں بلکہ انتخابی نظام کی ساخت سے متعلق ایک جائز جمہوری سوال ہےاس سوال پر پارلیمنٹ، سیاسی جماعتوں، انتخابی اداروں اور سول سوسائٹی کے درمیان سنجیدہ بحث کی ضرورت ہے۔
سیاسی جماعتوں کا کردار
مذہبی اقلیتوں کی سیاسی نمائندگی بہتر بنانے میں سیاسی جماعتوں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔اقلیتی سیاسی کارکنوں کو صرف مخصوص نشستوں کے لیے امیدوار سمجھنے کے بجائے عام نشستوں پر بھی سیاسی مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author