Authors Hum Daise View all posts Editor Hum Daise View all posts
خالد شہزاد
پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے غیر مسلم نا بالغ بچیوں کو اغوا کرکے نا صرف آئین و قانون کی کھلے عام خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں بلکہ ریاستی ادارے بھی اس کو ثواب سمجھ کر اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں، اور دوسری جانب سندھ و پنجاب کے وزیر برائے انسانی حقوق و اقلیتی امور بے بسی کے عالم میں جس انداز سے ملکی و بین الاقوامی میڈیا میں اقلیتوں کے مساوی حقوق و آزادی کے بیانات دے رہے ہیں ان سے نا صرف ملزمان کی حوصلہ آفرائی ہو رہی ہے بلکہ مزہبی جماعتیں اس سارے غیر آئینی و غیر قانونی فعل کی بدولت وزراء کے بیانیہ کو انٹرفیتھ کے آئینہ میں دنیا کو دکھا رہے ہیں۔ حال ہی میں سرگودھا کے کمسن مسیحی بچے 13 سالہ شمریز مسیح کو اغوا کرکے اسکا مزہب تبدیل کرکے اقلیتوں اور خاص طور سے مسیحیوں کے اندر خوف کی لہر دوڑ گئی ہے کہ کیسے پولیس نے دو روز تک شمریز کی والدہ اور دیگر رشتہ داروں کو طفل تسلیاں دے کر اغوا کاروں کو بھر پور معانت عطا کرکے مجرمانہ فعل کرکے پولیس پر آئندہ بھروسہ نا کرنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔ 2023 میں سرگودھا ہی کے رہائشی نزیر مسیح پر قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزام پر پولیس کی موجودگی میں مرحوم کی فیکٹری کو نذر آتش کیا اور اسکے بعد ہجوم نے موقع پر ہی نزیر مسیح کو سنگسار کرکے قتل کر ڈالا لیکن پولیس نے ایمبولینس میں لیجا کر نزیر مسیح کی موت اعلان ہفتہ بعد کیا، لیکن حملہ سے پہلے اور حملہ کے بعد پولیس کے اعلئ افسران نے سرگودھا کی مسیحی بستیوں میں احتجاج نا کرنے اور مجرمان کو سزا دینے کی یقین دھانیا ں کروا کر مجرمان کی طرف داری کی اور نزیر مسیح کے خون کا انصاف آج تک معمہ بنا ہوا ہے۔ اسی لیے اب سرگودھا کی کرسچین کمیونٹی شمریز مسیح کے جبری تبدیلی مزہب کو بہت اہم سمجھتی ہے ۔ پاکستان کے آئین اور قانون کے تحت کسی غیر مسلم کم عمر (نابالغ) بچے کا مذہب تبدیل کروانا غیر آئینی، غیر قانونی اور انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ذیل میں آئینی، قانونی، اور بین الاقوامی اصولوں کی روشنی میں اس سوال کا تفصیلی جواب پیش کیا جا رہا ہے۔
آئینِ پاکستان کی روشنی میں
آرٹیکل 20 — مذہبی آزادی
“ یہ آزادی صرف بالغ اور سمجھدار افراد کے لیے ہے۔ نابالغ بچوں کے لیے ان کے والدین یا قانونی سرپرست ہی مذہب کے فیصلے کرنے کے مجاز ہوتے ہیں۔
آرٹیکل 25 — مساوات اور امتیاز کا خاتمہ
جبری مذہب کی تبدیلی امتیازی سلوک اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔
جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018
یہ قانون بچوں کو تحفظ دیتا ہے، اور اس کے تحت بچوں کے ساتھ جبری اقدامات، بشمول جبری مذہب تبدیلی، تشدد کے زمرے میں آتے ہیں۔ کسی بھی نابالغ کو ایسے فیصلے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جس کا وہ خود ادراک نہ رکھتا ہو۔
بچوں کے حقوق کا بین الاقوامی کنونشن (UNCRC)
پاکستان اس معاہدے پر دستخط کر چکا ہے، جس کے تحت:
آرٹیکل 14: ہر بچہ اپنے مذہب کو اپنانے اور اس پر عمل کرنے کا حق رکھتا ہے، مگر اس کی عمر، بلوغت اور والدین کی سرپرستی کے مطابق۔
جبراً مذہب کی تبدیلی بچوں کے ذہنی، سماجی اور مذہبی تحفظ کے خلاف ہے۔
اسلامی اصولوں کی روشنی میں
اسلامی فقہ میں بھی جبراً اسلام قبول کروانا ممنوع ہے۔
نابالغ بچوں کا اسلام قبول کرنا ان کی بلوغت اور فہم و شعور پر موقوف ہے۔
کئی معتبر فقہی رائے کے مطابق، نابالغ کے قبولِ اسلام کا کوئی شرعی اثر نہیں ہوتا جب تک وہ بلوغت کو نہ پہنچے اور شعوری طور پر اسلام کو قبول نہ کرے۔
عدالتی نظیریں اور مقدمات
سندھ ہائی کورٹ، 2021:
عدالت نے ایک نابالغ ہندو لڑکی کے معاملے میں کہا
وفاقی شرعی عدالت، 2022:
مذہب کی تبدیلی کے کیس کہا۔
سزا اور قانونی چارہ جوئی
جبری تبدیلی مذہب کے خلاف:
پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 364-A کے تحت اگر کوئی نابالغ کو اغوا کر کے اس کا مذہب تبدیل کرے تو اسے عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت یہ جرم بچوں کے استحصال میں آتا ہے۔
پاکستان کے آئین، قانون، اسلامی اصولوں، اور بین الاقوامی معاہدات کے تحت کسی غیر مسلم نابالغ بچے کا مذہب زبردستی یا دباؤ سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو یہ:
آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 20، 25 اور 14 کی خلاف ورزی
بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی
اسلامی اصولوں سے انحراف
اور قابلِ سزا جرم ہے۔
قانونی اور آئینی حیثیت
لاہور ہائی کورٹ کا رِیوَرڈ فیصلہ: نابالغ کو والدین کے مذہب سے جدا نہیں کیا جا سکتا ۔
پاکستان کے آئین اور قانون: نابالغ کی مذہبی آزادی سرپرستوں کے فیصلے تک محدود، جبری تبدیلی غیر قانونی۔
بین الاقوامی معاہدات: UNCRC کے تحت نابالغ کے حقوق، جبری تبدیلی خلاف بنیادی حقوق۔
Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *