مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


جلاؤ گھیراؤ کے درمیان!

جلاؤ گھیراؤ کے درمیان!

Author Editor Hum Daise View all posts

ایڈووکیٹ لعذر اللہ رکھا
پچھلے دنوں اسلام آباد ہائیکورٹ میں “نور فاطمہ وغیرہ بنام فیڈریشن آف پاکستان وغیرہ ” کی سماعت مکمل ھونے کے بعد مورخہ 15 جولائی کو جناب مسٹر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان صاحب نے پٹیشن منظور کرتے ھوۓ حکومت پاکستان کو بلاسفیمی ھنی ٹرئپنگ کی جانچ کرنے کے لیے کمشن بنانے کا حکم دیا جو بعد ازاں انٹرا کورٹ اپیل میں معطل ہوگیا۔پٹیشن میں استدعا کی گئی تھی کہ چار سو کے قریب نوجوانوں کو مختلف خواتین کے ذریعے سوشل میڈیا پر ٹریپ کر کے توھین رسالت کے مقدمات میں پھنسایا گیا ھے اس کی جانچ کرنے کے لیے ایک کمشن بنایا جاۓ ۔اس کیس کے مرکزی وکیل راؤ عبد الرحیم ایڈووکیٹ نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں فرمایا کہ تقریبا سات سو کے قریب نوجوان ملزمان توھین رسالت کیسز میں مختلف جیلوں میں مقید ھیں جن میں سے کچھ کو سزائیں ھو چکی ھیں اور باقی ملزمان کے کیسز ٹرائل کے مرحلہ میں ھیں ۔ لیکن ھجوم کے ھاتھوں کسی ایک ملزم کی ھلاکت نہیں ھوئی اور نہ ھی کوئی جلاؤ گھیراؤ کیا گیا ہے اور عدالتوں کے ذریعے ھی ان کیسز کا فیصلہ ھونا ھے، میں اسلام آباد ھائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ میں ایڈووکیٹ راؤ عبد الرحیم صاحب سے مل چکا ھوں اور ایک کیس میں راؤ صاحب مدعی کے وکیل ھیں جبکہ میں وکیل دفاع ھوں ۔ راؤ صاحب کی یہ بات درست ھے کہ سات سو کے قریب بلاسفیمی
ملزما ن میں سے کوئی ایک بھی ملزم ھجوم کے ھاتھوں نہیں مارا گیا، اور خدا نہ کرے کبھی دوبارہ کوئی ملزم پرتشدد ھجوم کے ھاتھوں مارا یا زندہ جلایا جائے۔ان کیسز میں وکیل دفاع پر بے تحاشا دباؤ ھوتا ھے اس کے باوجود وہ اپنا کام کر رھا ھوتا ھے وکیل استغاثہ کا کام کیس ثابت کرنا ھے ویسے ھی وکیل دفاع کا کام ملزم کو بے گناہ ثابت کرنا ھے دونوں اپنے حصے کا کام کر رھے ھوتے ھیں ،فیصلہ عدالت نے ٹھوس شہادتوں کی بنیاد پر کرنا ھوتا ھے ھمارا موقف بھی یہی ھے کہ جرم ثابت ھونے سے پہلے کسی انسان کو ماورائے عدالت قتل کر دینا درحقیقت انصاف کا قتل ھے اور ملزم کے وکیل کو بھی شریک جرم سمجھ لینا اس کی زندگی سے کھیلنے کے مترادف ھے ،آزاد اور غیر جانبدار ٹرائل ھر ملزم کا حق ھے، چاھے اس پر کتنا ھی سنگین الزام کیوں نہ ھو ۔ بدقسمتی الزام جب کسی غیر مسلم خاص کر مسیحی ھر لگتا ھے تو الزام ثابت ھونے سے بہت پہلے ایک شخص(ملزم) کی سزا پوری کیمونٹی کو دی جاتی ھے ، مشتعل ھجوم ایک پل میں لوگوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی ، گھروں کو، املاک کو، چرچز کو آگ لگا کر بھسم کر دیتا ھے، معصوم اور بے گناہ لوگوں کو قتل اور زندہ جلادیا جاتا ھے اور پھر ایک ایک کر کے سارے جلاؤ گھیراؤ کے ملزمان بری بھی ھو جاتے ھیں۔ ملزم کے خلاف تو لوگوں کے جذبات کی سمجھ آتی ھے لیکن ملزم کے مذھب کو لیکر پوری کیمونٹی کے لیے نفرت ،حقارت اور تشدد جلاؤ گھیراؤ قتل و غارت سمجھ سے باھر ھے۔

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author