مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


مسلمانوں اور مسیحوں کے اکھٹے روزے ‘ہم آہنگی او رمحبت کا موسم

مسلمانوں اور مسیحوں کے اکھٹے روزے ‘ہم آہنگی او رمحبت کا موسم

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

سلیمان سلیم پڑھیار
شام کا وقت تھا اور گاؤں کی گلیوں میں روشنی کے نرم اور سنہری رنگ پھیل رہے تھے ایک طرف گھروں میں افطار کی خوشبو پھیل رہی تھی وہ مہک جو بھوک محبت اور سخاوت کی مٹھاس میں گھلی ہوئی ہے اور چند قدم آگے چرچ کی گھنٹیاں بج رہی تھیں ایک طرح کا پرامن موسیقار جو روح کو چھو رہا تھا یہ منظر دیکھ کر دل میں ایک عجیب سکون اطمینان اور امید کی لہر دوڑ گئی اس سال رمضان المبارک اور مسیحی برادری کے روحانی روزے ایک ہی دن شروع ہو رہے ہیں اور یہ اتفاق محض کیلنڈر کی نشانیاں نہیں بلکہ انسانیت محبت احترام اور باہمی ہم آہنگی کا ایک لازوال پیغام ہے۔روزہ چاہے رمضان ہو یا مسیحی روایت کے مطابق رکھا جانے والا فاسٹ اپنے اندر ایک عمیق فلسفہ رکھتا ہے خواہشات کو محدود کر کے روح کو آزاد کرنا صبر شکر ہمدردی اور دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنا جب انسان بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے تو اسے اپنی کمزوری محدودیت اور انسانی نسیان کا احساس ہوتا ہے اور یہی شعور اسے دوسروں کے قریب لے آتا ہے یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب دل نرم ہوتا ہے اور انسانیت کی اصل خوبصورتی دل و دماغ پر چھا جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں ہر سال ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جو دل کو چھو جاتے ہیں روح کو جھنجھوڑ دیتے ہیں اور آنکھوں میں نمی لے آتے ہیں مسیحی بھائی بہن رمضان میں مستحق روزہ داروں کے لیے افطار کا اہتمام کرتے ہیں دسترخوان سجاتے ہیں راشن تقسیم کرتے ہیں اور اپنی استطاعت کے مطابق خدمت کرتے ہیں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ تصویریں صرف لمحے کی خبر نہیں بلکہ یہ دل کی نرمی انسانیت کی خلوص بھری روشنی اور محبت کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔
اسی طرح بہت سے مسلمان بھی کرسمس یا ایسٹر کے موقع پر اپنے مسیحی ہم وطنوں کے ساتھ محبت اور خیرسگالی کا اظہار کرتے ہیں کوئی خوشی اور محبت سے مبارکباد دیتا ہے کوئی عبادت گاہ کی حفاظت میں کردار ادا کرتا ہے اور کوئی عملی طور پر دکھ اور خوشی میں شریک ہو کر انسانیت کی اصل روح کو زندہ رکھتا ہے یہ سب واقعات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ مذہبی شناخت اپنی جگہ مگر انسانی رشتہ اس سے کہیں زیادہ قیمتی اور مضبوط ہے۔
روزہ محض بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں اگر یہ انسان کے دل میں نرمی ہمدردی سخاوت اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا نہ کرے تو عبادت اپنی اصل روح کھو دیتی ہے لیکن جب ایک انسان دوسرے کے عقیدے کا احترام کرتے ہوئے اس کی خوشی عبادت اور سکون میں حصہ ڈالتا ہے تو یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں مذہب اور انسانیت کے درمیان ایک مضبوط پل بن جاتا ہے اور دلوں میں محبت امن اور امید کا روشن چراغ جلتا ہے۔
آج کے زمانے میں جب دنیا میں اختلاف نفرت اور تعصب کی خبریں عام ہیں ایسے مناظر امید کے چراغ روشن کرتے ہیں یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ عام انسان کا دل سیاست اور تعصب سے کہیں زیادہ صاف روشن اور عظیم ہوتا ہے عبادت کا اصل مقصد صرف رسم و رواج نہیں بلکہ دلوں کو قریب کرنا محبت کے رشتے مضبوط کرنا اور انسانیت کے لیے ایک روشن پرامن اور محبت بھرا راستہ ہموار کرنا ہے۔
یہ سالانہ اتفاق ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ عبادت اور محبت دونوں ایک ساتھ چل سکتے ہیں اگر ہم اس جذبے کو صرف سوشل میڈیا تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی عملی زندگی میں بھی اپنالیں تو نہ صرف ہمارے معاشرتی تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ ہماری عبادات بھی معنی خیز دل کو چھو لینے والی روحانی طور پر بامعنی اور محبت بھری بن جائیں گی۔
شاید یہی وہ پیغام ہے جو رب ہمیں اس روحانی ہم آہنگی کے ذریعے دینا چاہتا ہے عبادت کا اصل حسن انسان کو انسان کے قریب لانا ہے دل نرم کرنا ہے اور محبت کے رشتے مضبوط کرنا ہے کیونکہ آخرکار خدا کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے جو انسان کو انسان کے قریب لے آئے دلوں کو نرم کرے اور دنیا میں امن محبت روشنی اور خوشیوں کی لہر پھیلائے۔

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author