مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


سانپ کی سی حکمت، کبوتر کی سی معصومیت — ایران و امریکہ کشیدگی پر ایک نظر

سانپ کی سی حکمت، کبوتر کی سی معصومیت — ایران و امریکہ کشیدگی پر ایک نظر

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

شوکت جاوید
دنیا ایک بار پھر ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ایران امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں طاقت، انا اور سیاسی مفادات کے بجائے حکمت اور انسانیت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔اپنا اپنا خیال ہوتاہے آپ میرے اس خیال سے انکار بھی کرسکتے ہیں کہ اس وقت ایران کو اہنی عوام کی سلامتی کی خاطر مزاکرات کی میز پر ضرور بیھٹنا چاہیئے اور کچھ لے دے کر موقعہ کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے اہنے معاملات سیدھے کرنے چاہیئے لیکن سانپ کی طرح ہوشیار اور کبوتر کی مانند بھولا بن کر یہ صرف ایک نصیحت نہیں بلکہ ایک عالمی اصول ہے، جو قوموں کو یہ سکھاتا ہے کہ وہ اپنے فیصلوں میں دانشمندی اور اپنے رویوں میں نرمی اختیار کریں۔اگر ہم ہوشیاری کا پہلو دیکھیں تو اس کا مطلب ہے کہ دونوں ممالک جذباتی فیصلوں سے بچیں۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسائل کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر جنگ کے بعد صرف تباہی، غربت اور انسانی المیے جنم لیتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سفارت کاری، مذاکرات اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے۔دوسری طرف کبوتر جیسی معصومیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر سیاسی تنازع کے پیچھے عام انسان ہوتے ہیں — وہ مائیں جو اپنے بچوں کے لیے دعا کرتی ہیں، وہ بچے جو امن کے خواب دیکھتے ہیں، اور وہ خاندان جو ایک بہتر مستقبل کے خواہاں ہوتے ہیں۔ جنگ ان سب خوابوں کو راکھ میں بدل دیتی ہے۔آج اگر دنیا نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو ایک چھوٹا سا تنازع ایک بڑے عالمی بحران میں بدل سکتا ہے۔ خاص طور پر جب بات ایٹمی طاقتوں کی ہو، تو ایک غلط قدم پوری انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی رہنما طاقت کے مظاہرے کے بجائے صبر، برداشت اور مکالمے کا راستہ اختیار کریں۔ کیونکہ اصل کامیابی دشمن کو شکست دینے میں نہیں بلکہ دشمنی کو ختم کرنے میں ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ اگر دنیا نے واقعی امن چاہیے، تو اسے سانپ کی سی حکمت اور کبوتر کی سی معصومیت کو اپنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف جنگ کو روک سکتا ہے بلکہ انسانیت کو ایک محفوظ مستقبل بھی دے سکتا ہے۔ آخر میں ایران کی بہادری کو سلام جس نے ایک ماہ تک دنیا کی سپر طاقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر یہ بتا دیا کہ نڈر لوگ ہی خدا کو پسندہیں۔

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author