مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


کم عمر مسیحی بچیوں کی شادی انسانی حقوق اور اقلیتی تحفظ کا مسئلہ

کم عمر مسیحی بچیوں کی شادی انسانی حقوق اور اقلیتی تحفظ کا مسئلہ

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

تحریر: آصف منور
وفاقی آئینی عدالت کے حالیہ فیصلے میں یہ قرار دیا گیا کہ مسلمان مرد شرعی اصولوں کے تحت اہلِ کتاب خواتین سے نکاح کر سکتے ہیں جس میں 18 سال سے کم عمر مسیحی لڑکیوں کی شادی کے معاملات بھی شامل تھے۔ اس فیصلے نے پاکستان میں انسانی حقوق اور اقلیتی خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک اہم اور حساس بحث کو جنم دیا ہے۔بطور مسیحی اور انسانی حقوق کے کارکن ہم اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ نہ صرف پاکستان کے آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق، بچوں کے تحفظ اور مذہبی آزادی کے اصولوں کے منافی ہے بلکہ اقلیتی برادری، خصوصاً مسیحی کمیونٹی میں اضطراب اور عدم تحفظ بھی پیدا کر سکتا ہے جس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ہم واضح کرتے ہیں کہ کم عمر بچیوں کی شادی کسی بھی مذہب یا قانون کے تحت قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔
ایسے فیصلے جبری تبدیلی مذہب اور کم سن لڑکیوں کے استحصال کو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے نہ کہ ایسے اقدامات جو انہیں کمزور کریں۔ہم آئینی وفاقی عدالت، سپریم کورٹ آف پاکستان، حکومت، قانون ساز اداروں اور متعلقہ محکموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس فیصلے پر فوری نظرِ ثانی کی جائے۔ کم عمر بچیوں کے تحفظ کے لیے واضح اور سخت قانون سازی کی جائے اور اقلیتوں کے حقوق اور مذہبی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔ یہ فیصلہ صرف پاکستانی مسیحی کمیونٹی کے لیے نہیں، بلکہ بطور پاکستانی شہری بھی متاثر کرتا ہے۔انصاف، مساوات اور انسانی وقار کی حفاظت کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو اس مسئلے پر بیداری پیدا کرنے اور فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ معاملہ صرف قانونی یا مذہبی نہیں، بلکہ انسانی اور سماجی حساسیت کا بھی تقاضا ہے کہ ہم اپنے معاشرتی اور اخلاقی فریضے کو پورا کریں۔اس نوعیت کے فیصلے کئی سنگین سوالات کو جنم دیتے ہیں جن میں سب سے اہم سوال رضامندی کا ہے کیا ایک کم عمر لڑکی واقعی آزادانہ طور پر مذہب تبدیل کرنے اور شادی جیسے بڑے فیصلے کرنے کی پوزیشن میں ہوتی ہے یا وہ سماجی دباؤ، خوف گمراہی یا کسی اور مجبوری کے تحت یہ قدم اٹھاتی ہے؟عدالت نے یہ بھی کہا کہ کم عمری کی شادی پر قانون میں صرف فوجداری سزا کا ذکر ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قانونی نظام میں ایک خلا موجود ہے۔ یہ خلا متاثرہ لڑکیوں کے تحفظ کو مزید کمزور کر دیتا ہے کیونکہ صرف سزا کا اطلاق عملی طور پر متاثرہ فریق کو ریلیف فراہم نہیں کرتا۔اقلیتی خواتین، خاص طور پر ہندو اور مسیحی بچیاں، پاکستان میں اغوا، جبری مذہب تبدیلی اور کم عمری کی شادی جیسے خطرات کا سامنا کرتی رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا اس بات کی نشاندہی کر چکی ہیں کہ ایسے کیسز میں اکثر لڑکیوں کی حقیقی رضامندی کا تعین مشکل ہوتا ہے۔ عدالتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ صرف مذہبی اصولوں تک محدود نہ رہیں بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات اور بچوں کے تحفظ کے قوانین کو بھی مدنظر رکھیں۔یہ وقت ہے کہ ریاست اور عدالتی نظام اس حساس مسئلے پر ایک متوازن، جامع اور انسان دوست نقطۂ نظر اپنائیں۔ اقلیتی خواتین کے حقوق کا تحفظ صرف آئینی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان بھی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ کم عمر بچیوں کی شادی، جبری مذہب تبدیلی اور اغوا جیسے معاملات پر واضح اور سخت قانون سازی کی جائے، اور ہر کیس میں متاثرہ لڑکی کی آزادانہ مرضی کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ 18 سال سے کم عمر بچی خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو شادی کا فیصلہ غلط ہے تصور کیا جائے اور اسے قانونا جرم قرار دیا جائے۔جبری نکاح کے بعد نکاح نامے کو بھی کینسل کیا جائے۔اگر ہم واقعی ایک انصاف پر مبنی معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ انسانی وقار، تحفظ اور رضامندی بھی اتنی ہی اہم ہیں خاص طور پر ان کے لیے جو پہلے ہی معاشرتی طور پر کمزور ہیں۔دوسری جانب اس فیصلے سے مذہبی تفریق اور نفرت کے عمل کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ صرف مسیحی بچیوں کے ساتھ مسلمان لڑکوں کے نکاح کی قانونی اجازت اور مسیحی لڑکوں کا مسلمان لڑکیوں کے ساتھ نکاح یا شادی کی ممنوعیت بین المذاہب تعلقات پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اس فیصلے کو بین المذاہب اور سماجی ہم آہنگی کے تناظر میں دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author