مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


یومِ استحصالِ کشمیر – عالمی ضمیر کے لیے ایک سوالیہ نشان

یومِ استحصالِ کشمیر – عالمی ضمیر کے لیے ایک سوالیہ نشان

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

نورالعین

5 اگست 2019 کے دن کو برصغیر کی تاریخ میں ہمیشہ ایک تاریک اور جبر کے دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا ۔ یہ وہ دن تھا جب بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر اپنی غاصبانہ اور ظالمانہ تسلط کو دوام بخشنے کے لئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت آرٹیکل 370 اور 35-Aکا خاتمہ کر کے کشمیریوں کی شناخت ان کی آزادی اور حقوق ان سے چھین لئے ۔ پاکستان میں بھارت کے اس اقدام کی بھرپور مذمت کی گئی اور یہ دن پاکستان اور پورے کشمیر میں یوم استحصال کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ ایک طرف تو پوری دُنیا کو بھارتی غاصبانہ تسلط اور ریاستی جبر سے آگاہ کیا جائے اور دوسری طرف کشمیر کے باشندوں سے اظہار یکجہتی کا اظہار ہو ۔آج بھی پاکستان بھر میں سرکاری سطح پر اس دن کو منایا جا رہا ہے۔ پنجاب میں بھی وزیر اطلاعات ثقافت پنجاب عظمیٰ زاہد بخاری کی نگرانی میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں منعقدہ یوم استحصال کشمیر کی تقریب میں وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ زاہد بخاری کا کہنا تھا کہ “ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، اب ظلم کے مٹنے کا وقت آ گیا ہے۔ آج کا دن ہر پاکستانی کے لیے اتنا ہی تکلیف دہ ہے جتنا کسی کشمیری کے لیے ہے۔استحصال کشمیر کا دن مودی کی فاشسٹ سوچ کا عکاس ہے۔کشمیریوں کی آہیں اور قربانیاں رنگ لانے والی ہیں”
76 برس سے مقبوضہ کشمیر انسانی حقوق کی سنگین و مجرمانہ خلاف ورزیوں کی مثال بن چُکا ہے ۔ شہریوں پر جبری پابندیاں ، ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگی اور خواتین کی بے حرمتی سمیت اظہار رائے پر پابندی بھارتی حکومت کی مستقل پالیسی بن چُکی ہے ۔ نہ صرف یہ کہ بھارت نے پانچ اگست 2019 کو کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کیا بلکہ پہلے سے موجود فوجیوں کے ساتھ ساتھ لاکھوں مزید فوجی تعینات کر کے اس وادی جنت نظیر کو دُنیا کی سب سے بڑی انسانی جیل میں بدل کے رکھ دیا ہے ۔ کشمیر کی انٹر نیٹ کی بندش اب ایک عام بات بن چُکی ہے ۔ آزاد میڈیا کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے ۔ حریت رہنما دھڑا دھڑ گرفتار کئے جا رہے ہیں اور کشمیریوں کو ان کی اپنی ہی زمینوں سے بے دخل کر کے وہاں غیر کشمیری شہری آباد کئے جا رہے ہیں ۔ یعنی بھارتی حکومت کشمیریوں کو اُن کی اپنی ہی سر زمین پر اقلیت میں بدلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔
کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادیں اب بھی موجود ہیں جو کشمیری عوام کے لئے اپنے مستقبل کے تعین کے لئے آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کا حق دینے کے لئے منظور کی گئی ہیں ۔ لیکن عالمی بے حسی کی وجہ سے یہ قراردادیں اب اقوام متحدہ کے کسی سرد خانے کا حصہ بن چُکی ہیں اور اقوام عالم کی اسی بے حسی اور طاقتور ممالک کی بھارت کے ساتھ تجارتی مفاد نے بھارتی جارحیت کو مزید حوصلہ بخشا ہے لیکن پاکستان آج بھی کشمیر کے معاملے پر وہیں کھڑا ہے جہاں 1947 میں موجود تھا اور ہر پاکستانی حکومت اور پاکستانی عوام کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی اخلاقی اور سفارتی حمایت کو جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اور اسی وجہ سے آج بھی کشمیر کا مسئلہ مکمل طور پر کسی سرد خانے میں دفن نہیں ہو سکا ۔ اور حال ہی میں امریکی صدر ٹرمپ نے بھی پاکستانی سپہ سالار کو کشمیر کے مسئلے کے حل کے لئے اپنی کوششوں کا یقین دلایا ہے ۔ لیکن بھارتی حکومت ثالثی اور کسی منصفانہ حل کی جانب ایک قدم بھی بڑھانے کو تیار نظر نہیں آ تی ۔
پانچ اگست کا دن ہمیں ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا کہ کشمیری بھیڑ بکریوں کا ریوڑ نہیں جسے بھارتی حکومت جدھر چاہے ہانک کر لے جائے ۔ کشمیری بھی یہ بات جانتے ہیں کہ وہ اس خطے میں اکیلے نہیں پاکستان سمیت دنیا بھر میں آزادی پر یقین رکھنے والی قومیں ان کے ساتھ کھڑی ہیں ۔ یہاں عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی اور اقوام متحدہ کی بھی بھرپور ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام عالم کی توجہ بھارتی مظالم کی جانب مبذول کرائیں اور کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلا کر کشمیریوں کو بھارتی غاصبانہ چنگل سے آزاد کرائیں ۔ بحیثیت پاکستانی ہم سب کا فرض ہے کہ پانچ اگست کے دن اپنی پوری توانائیوں اور آواز کے ساتھ اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار ِ یکجہتی کے لئے نکلیں ۔ مجھے پوری امید ہے کہ پاکستانی عوام کی کوشش اور کشمیری عوا م کی لازوال قربانیاں ایک دن ضرور رنگ لائیں گی اور انشااللہ جلد ہی کشمیر میں بھی آزادی کا سورج طلوع ہو گا

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author