Author Editor Hum Daise View all posts
رپورٹ : شیریں کریم
گلگت دنیور نالے میں پانی کی شدید قلت کو ختم کرنے کے لیے کام کرنے والے مقامی رضاکار گزشتہ شب ایک المناک حادثے کا شکار ہو گئے۔ صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق واقعہ رات تقریباً 2 بجے اس وقت پیش آیا جب درجنوں رضاکار واٹر چینل کی بحالی کے لیے کام کر رہے تھے کہ اچانک پہاڑ سے بھاری مٹی کا تودہ آ گرا۔حادثے میں 7 رضاکار موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ 15 کے قریب افراد ملبے تلے دب گئے۔ امدادی ٹیموں اور مقامی افراد کی مدد سے زخمیوں کو ملبے سے نکال کر گلگت کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ تین سے زائد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
فیض اللہ فراق کا کہنا ہے کہ یہ رضاکار کئی دنوں سے دن رات پانی کی بحالی کے کام میں مصروف تھے، کیونکہ دنیور میں پانی کی شدید قلت کے باعث فصلیں تباہ ہو چکی ہیں، پھلدار اور جنگلی درخت سوکھ گئے ہیں اور چرند پرند بھی ہجرت پر مجبور ہو گئے ہیں۔سانحے کے بعد وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر امدادی کارروائیاں تیز کرنے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون کی ہدایت دی۔ گلگت کے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور طبی عملہ الرٹ ہے۔
علاقے میں گہرے صدمے اور سوگ کی فضا ہے۔ عوام کی بڑی تعداد جاں بحق رضاکاروں کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کے لیے جمع ہے اور حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کی جائے بلکہ آئندہ ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *