Author Editor Hum Daise View all posts
رپورٹ: یوسف عدنان
ستھرا پنجاب کیئر کمپنی کے سینٹری ورکرز نے اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں جبری جرمانوں ناجائز کٹوتیوں اور بنیادی حقوق کی محرومی کے خلاف ڈپٹی کمشنر آفس فیصل آباد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں بڑی تعداد میں سینٹری ورکرز شریک ہوئے۔مظاہرے کی قیادت بابا لطیف انصاری (چیئرمین پاکستان لیبر قومی موومنٹ و صدر حقوقِ خلق پارٹی پنجاب)، میاں رزاق امانت (جنرل سیکرٹری کیئر کلین لیبر یونین)، فیض بندیشہ، اشتیاق رزاق، رانا ریاض اور دیگر مزدور رہنماؤں نے کی۔مظاہرین۔نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف اور ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کیپٹن ریٹائرڈ ندیم ناصر سے اپیل کی کیئر کمپنی نے اگر اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ 2 دسمبر 2025 سے کام چھوڑ ہڑتال شروع کر دیں گے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ محکمہ سوشل سکیورٹی 1200 سینٹری ورکرز کے سوشل سکیورٹی کارڈ کمپنی کے حوالے کر چکا ہے لیکن کمپنی نے اب تک یہ کارڈ ورکرز کو جاری نہیں کیے جو کہ سنگین ناانصافی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
محنت کشوں کے مطابق اگر کوئی ورکر مجبوری میں چھٹی کرے تو نہ صرف اس کی تنخواہ کاٹی جاتی ہے بلکہ اضافی کٹوتیاں بھی کی جاتی ہیں، جو ان کے مطابق سراسر ظلم ہے۔ اس کے علاوہ نومبر 2024 کی تنخواہیں اور سال 2024–2025 کے بقایا جات تاحال ادا نہیں کیے گئے جبکہ ہزاروں سینٹری ورکرز سوشل سکیورٹی کارڈ، راشن کارڈ اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے ورکرز نے مطالبہ کیا کہ 25 اور 26 دسمبر کو سینٹری ورکرز کو چھٹی دی جاے تاکہ وہ اپنا مذہبی تہوار کرسمس عزت و وقار کے ساتھ منا سکیں۔
اور دسمبر کی تنخواہ 5 دسمبر تک آاداکی جاے اور کرسمس کی خوشیوں کیلیے بچوں کے کپڑے خرید سکیں ورکرز نے اعلان کیا کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ جبری کٹوتیوں کے خاتمے بقایا جات کی فوری ادائیگی اور سوشل سیکیورٹی سمیت تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے متحد ہیں اور اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل سکیورٹی ایسٹ حمزہ اعوان نے بتایا کہ 1200 راشن کارڈ کمپنی کے حوالے کیے جا چکے ہیں اور کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ یہ کارڈ بہت جلد مستحق ورکرز کو فراہم کر دیے جائیں گے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *