مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


غیر جمہوری رویے اور غیر جمہوری بل!

غیر جمہوری رویے اور غیر جمہوری بل!

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

خالد شہزاد
پنجاب کے اس مجوزہ بل کا اقلیتوں پر اثر اور اس کے پسِ پشت مقاصد کا معاملہ پاکستان کے موجودہ سماجی اور قانونی تناظر میں انتہائی حساس اور گہرا ہے۔ اس بل کے متن، حکومتی مؤقف اور انسانی حقوق کے ماہرین و اقلیتی رہنماؤں کے خدشات کو سامنے رکھ کر اس کا جائزہ تین اہم پہلوؤں سے لیا جا سکتا ہے:
1۔ حکومتی مؤقف: اقلیتوں کا تحفظ حکومت اور قانون سازوں کا یہ دعویٰ ہے کہ اس بل کا ایک بڑا مقصد اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کا تحفظ ہے۔ بل میں یہ شقیں شامل کی گئی ہیں مذہبی منافرت پھیلانے، اقلیتوں کو ہراساں کرنے، یا ان کے خلاف سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم چلانے والوں کو “سماج دشمن” قرار دے کر ان کے خلاف سخت اور فوری کارروائی کی جائے گی۔ مذہبی مقامات پر توڑ پھوڑ یا قبضے کی کوششوں کو روکنے کے لیے انتظامیہ کو زیادہ اختیارات دیے گئے ہیں۔بظاہر اس حد تک یہ بل اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے کی بات کرتا ہے، لیکن اصل سوال اس کے اطلاق اور اختیارات کے غلط استعمال پر اٹھتا ہے۔ کیا اس بل سے مساوی حقوق میسر ہوں گے؟
مساوی حقوق کا تعلق صرف نئے قوانین بنانے سے نہیں، بلکہ ملک کے آئین اور بنیادی ڈھانچے سے ہوتا ہے۔ یہ بل بنیادی طور پر ایک “کنٹرول اور سزا” کا قانون ہے، نہ کہ حقوق دینے کا چارٹر۔ اس لیے یہ بل اقلیتوں کو کوئی نئے سیاسی، معاشی یا تعلیمی حقوق (جیسے کوٹا سسٹم یا نمائندگی) فراہم نہیں کرتا۔پاکستانی آئین کا آرٹیکل 25 تمام شہریوں کو برابر حقوق دیتا ہے، لیکن عملی طور پر اقلیتوں کو جن مسائل کا سامنا ہے (جیسے جبری تبدیلئ مذہب، توہینِ مذہب کے قوانین کا غلط استعمال، اور سماجی تفریق)، یہ بل ان کا کوئی مستقل حل پیش نہیں کرتا۔ کیا اس کے پیچھے اقلیتوں کو دبانے کی سازش ہے؟انسانی حقوق کے کارکنوں اور اقلیتی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا یہ ماننا ہے کہ اگرچہ یہ بل خاص طور پر اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں لکھا گیا (بلکہ اس کا عمومی ہدف سیاسی مخالفین، صحافی اور عام شہری ہیں)، لیکن ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے اس کے اثرات اقلیتوں پر زیادہ بھیانک ہو سکتے ہیں۔ اس کے بنیادی اسباب درج ذیل ہیں’بغیر ٹرائل کے وسیع اختیارات: اس بل کے تحت پولیس اور بیوروکریسی (انٹیلی جنس کمیٹیوں) کو یہ اختیار مل جائے گا کہ وہ کسی بھی شخص کو محض “شک” کی بنیاد پر سماج دشمن قرار دے کر اس کا شناختی کارڈ بلاک، بینک اکاؤنٹ منجمد اور جائیداد ضبط کر لیں۔ اگر کسی اقلیتی شہری پر کوئی جھوٹا الزام لگتا ہے، تو اس کے پاس دفاع کا موقع بہت کم ہوتا ہے۔
اس بل میں آن لائن مواد پر کڑی نظر رکھنے کی بات کی گئی ہے۔ اگر کوئی اقلیتی کارکن اپنے حقوق یا اپنے خلاف ہونے والی زیادتی پر آواز اٹھاتا ہے، تو خدشہ ہے کہ اسے “ریاست کے خلاف نفرت پھیلانے” یا “افواہ سازی” کا نام دے کر اس کی آواز کو دبا دیا جائے گا، اسی لیے سوشل میڈیا پر پابندیاں بھی پس پردہ حکومتی ارادہ ہے۔ قانون کا جابرانہ استعمال: پاکستان میں قوانین کا سب سے بڑا مسئلہ ان کا “امتیازی اطلاق” ہے۔ جب انتظامیہ کو اتنے لامحدود اختیارات مل جائیں، تو مقامی سطح پر بااثر افراد پولیس کے ساتھ مل کر کمزور طبقات اور اقلیتوں کو زمین کے تنازعات یا ذاتی عناد کی وجہ سے باآسانی اس قانون کے جال میں پھنسا سکتے ہیں۔ یہ بل براہِ راست اقلیتوں کو دبانے کی کوئی شعوری سازش شاید نہ ہو، لیکن اس کا بنیادی ڈھانچہ اتنا جابرانہ اور غیر آئینی ہے کہ یہ کسی بھی کمزور طبقے کے خلاف ایک خطرناک ہتھیار بن سکتا ہے۔ جب تک قانون میں عدالت کے بغیر سزا دینے کے اختیارات موجود رہیں گے، اقلیتوں کے تحفظ اور مساوی حقوق کا خواب ادھورا رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی حقوق کے کارکن اس بل میں بنیادی اصلاحات یا اس کی مکمل واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس بل پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور اپوزیشن کی طرف سے سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ قانون عدالت سے جرم ثابت ہوئے بغیر، محض “شکوک و شبہات” یا پولیس کی ایف آئی آر کی بنیاد پر کسی بھی شہری کے بنیادی حقوق، آزادی اور جائیداد کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان نے بھی اس بل کے مسودے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس کی فوری منظوری کو روک دیا ہے تاکہ اس کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author