Author Editor Hum Daise View all posts
تحریر :سرور سکندر سکردو
پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر سینئر قانون دان اور تجربہ کار سیاستدان ایڈووکیٹ امجد حسین گلگت بلتستان کے نئے وزیرِ اعلیٰ منتخب ہوگئے ہیں نو منتخب اسمبلی میں انہیں مختلف سیاسی جماعتوں اور آزاد اراکین کی وسیع حمایت حاصل ہوئیُجو خطے کی سیاست میں ایک غیر معمولی اتفاق رائے کی عکاسی کرتی ہےان کی کامیابی میں پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، استحکام پاکستان پارٹی مجلس وحدت المسلمین اور پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد اراکین نے کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں وہ گلگت بلتستان کے اعلیٰ ترین منتخب منصب تک پہنچےامجد حسین 1975 میں گلگت کے علاقے امپھری میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک معروف سیاسی خاندان سے ہے۔ ان کے والد مرحوم آذر خان پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق چیئرمین ضلع گلگت تھے سیاسی اور عوامی خدمت کے ماحول میں پرورش پانے والے امجد حسین نے کم عمری ہی میں سیاست، قانون اور عوامی خدمت میں دلچسپی لینا شروع کر دی تھی
انہوں نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر 1 گلگت سے حاصل کی جبکہ ایف ایس سی پبلک اسکول اینڈ کالج جوتیال سے مکمل کی بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کر کے عملی وکالت کا آغاز کیا اور جلد ہی گلگت بلتستان کے ممتاز وکلا میں شمار ہونے لگےقانونی میدان میں انہوں نے گلگت بلتستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور پیپلز لائرز فورم کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ سپریم اپیلیٹ کورٹ گلگت بلتستان کے سینئر وکیل کی حیثیت سے انہیں آئینی انتظامی اور عوامی مفاد کے مقدمات میں نمایاں شہرت حاصل ہوئی ان کی سیاسی جدوجہد کا آغاز طالب علمی کے دور میں ہوا جب 1996 میں وہ پیپلز اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ضلعی صدر منتخب ہوئےبعد ازاں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی میں مختلف تنظیمی ذمہ داریاں سنبھالیں اور بتدریج پارٹی کی اہم قیادت میں شامل ہوگئےسن 2009 سے 2014 تک وہ گلگت بلتستان کونسل کے رکن رہے جہاں انہوں نے آئینی اصلاحات قانون سازی اور طرزِ حکمرانی سے متعلق امور میں فعال کردار ادا کیا 2015 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے انہیں گلگت بلتستان کا صدر مقرر کیا اور پارٹی کو ازسر نو منظم کرنے کی ذمہ داری سونپیان کی سیاسی زندگی کا ایک اہم سنگ میل 2020 کے انتخابات تھے، جب انہوں نے GBA-1 گلگت 1 اور GBA-4 نگر-1 دونوں نشستوں سے کامیابی حاصل کی وہ گلگت بلتستان کی انتخابی تاریخ کے پہلے سیاستدان بنے جنہوں نے ایک ہی انتخاب میں دو حلقوں سے کامیابی حاصل کی بعد میں انہوں نے گلگت کی نشست برقرار رکھتے ہوئے نگر کی نشست چھوڑ دی2020 کے انتخابات کے بعد وہ 2023 تک گلگت بلتستان اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف رہے اس دوران انہوں نے آئینی حقوق، جمہوری طرزِ حکمرانی اور خطے کے سیاسی اختیارات کے حوالے سے بھرپور آواز اٹھائی
امجد حسین کو “حق حکومت” اور “حق ملکیت” کی تحریکوں کے حوالے سے بھی خاص شہرت حاصل ہے ان تحریکوں کا مقصد گلگت بلتستان کے عوام کو زیادہ سیاسی اختیارات اور زمینوں پر مالکانہ حقوق دلانا تھا بعد ازاں یہی نکات پیپلز پارٹی کے سیاسی منشور کا اہم حصہ بن گئے2026 کے عام انتخابات میں انہوں نے دوبارہ GBA-1 گلگت-1 سے کامیابی حاصل کی اور پاکستان پیپلز پارٹی کو اسمبلی کی سب سے بڑی جماعت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا بعد ازاں مختلف جماعتوں اور آزاد اراکین کی حمایت سے وزیر اعلیٰ منتخب ہونا ان کی سیاسی بصیرت اور وسیع قبولیت کا مظہر قرار دیا جا رہا ہےسیاست اور وکالت کے علاوہ وہ کاروباری اور سماجی سرگرمیوں سے بھی وابستہ رہے ہیں فٹ بال ماہی گیری اور مطالعہ ان کے پسندیدہ مشاغل میں شامل ہیں تقریبا تین دہائیوں پر محیط سیاسی، قانونی اور عوامی خدمات کے تجربے کے ساتھ امجد حسین ایک ایسے وقت میں گلگت بلتستان کی قیادت سنبھال رہے ہیں جب عوام کو سیاسی استحکام ادارہ جاتی اصلاحات اور تیز رفتار سماجی و معاشی ترقی کی امیدیں وابستہ ہیں

















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *