مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


 فریڈرک بوتھ ٹکر: وہ شخص جس نے شانتی نگر کا خواب دیکھا۔۔۔(قسط نمبر 2)

 فریڈرک بوتھ ٹکر: وہ شخص جس نے شانتی نگر کا خواب دیکھا۔۔۔(قسط نمبر 2)

  Author Hum Daise View all posts

 

تحریر و تحقیق : عدیل سیموئیل گل

اگر شانتی نگر کی تاریخ کو ایک عظیم درخت تصور کیا جائے تو اس کی جڑوں تک پہنچنے کے لیے ہمیں ایک ایسے شخص کی زندگی کو سمجھنا ہوگا جس نے اس بستی کو صرف ایک گاؤں کے طور پر نہیں، بلکہ ایک نظریے کے طور پر دیکھا۔

وہ شخصیت تھی کمشنر فریڈرک بوتھ ٹکر (Frederick Booth-Tucker)۔
21 مارچ 1853ء کو ہندوستان کے شہر منگیر (موجودہ ریاست بہار) میں پیدا ہونے والے فریڈرک بوتھ ٹکر ایک ایسے برطانوی خاندان میں پیدا ہوئے جو کئی برسوں سے ہندوستان میں خدمات انجام دے رہا تھا۔ ان کے والد ولیم تھورن ہل ٹکر انڈین سول سروس کے ڈپٹی کمشنر تھے اور فارسی زبان کے ممتاز عالم بھی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ فریڈرک نے بچپن ہی سے ہندوستان کی زبانوں، ثقافت، رسم و رواج اور یہاں کے لوگوں کو بہت قریب سے دیکھا۔وہ صرف پانچ برس کے تھے جب 1857ء کی جنگِ آزادی برصغیر میں برپا ہوئی۔ اگرچہ اس عمر میں وہ اس کے سیاسی پہلوؤں کو نہیں سمجھ سکتے تھے، لیکن اس ہنگامہ خیز دور نے انہیں ہندوستانی معاشرے کی پیچیدگیوں اور سماجی حقیقتوں سے ضرور روشناس کر دیا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ بعد میں انہوں نے ہندوستان کو صرف ایک نوآبادی نہیں بلکہ اپنا دوسرا گھر سمجھا۔اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1874ء میں اپنے والد کی طرح انڈین سول سروس (Indian Civil Service) میں شمولیت اختیار کی، جو اُس زمانے کی سب سے باوقار سرکاری ملازمت سمجھی جاتی تھی۔ انہوں نے امرتسر، شملہ اور دھرم شالہ میں اسسٹنٹ کمشنر اور مجسٹریٹ کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ایک روشن مستقبل، عزت، اختیار اور کامیاب سرکاری زندگی ان کے سامنے تھی، لیکن قسمت نے ان کے لیے ایک مختلف راستہ منتخب کر رکھا تھا۔1875ء میں لندن میں منعقد ہونے والے روحانی اجتماعات کے دوران ان کی زندگی نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ مسیحی ایمان نے ان کی سوچ کو اس قدر متاثر کیا کہ انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی اصل خدمت اقتدار کے ایوانوں میں نہیں بلکہ اُن لوگوں کے درمیان ہے جو معاشرے کے سب سے کمزور اور محروم طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔1881ء میں انہوں نے اپنی محفوظ، باوقار اور بااختیار سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے کر مکمل طور پر سالویشن آرمی میں شمولیت اختیار کر لی۔ ان کے اہلِ خانہ اور قریبی عزیز اس فیصلے سے متفق نہیں تھے، کیونکہ ایک اعلیٰ سرکاری افسر کا سب کچھ چھوڑ دینا اُس زمانے میں غیر معمولی بات تھی۔ لیکن فریڈرک بوتھ ٹکر نے اپنے ضمیر کی آواز کو ترجیح دی۔
1882ء میں وہ دوبارہ ہندوستان آئے، مگر اس بار ایک برطانوی افسر کے طور پر نہیں بلکہ سالویشن آرمی کے ایک خادم کی حیثیت سے۔ہندوستان واپس آ کر انہوں نے جلد ہی ایک تلخ حقیقت کو محسوس کیا۔برصغیر میں ہزاروں لوگ مسیحی ایمان قبول کر رہے تھے، لیکن مذہب تبدیل کرنے کے باوجود وہ ذات پات کے ظالمانہ نظام سے آزاد نہیں ہو پا رہے تھے۔ معاشرے کے نچلے طبقوں سے تعلق رکھنے والے یہ نئے مسیحی اکثر سماجی امتیاز، غربت اور بے عزتی کا سامنا کرتے تھے۔ فریڈرک بوتھ ٹکر نے سمجھ لیا کہ صرف روحانی تعلیم کافی نہیں، جب تک انسان کو عزت کے ساتھ جینے کا ماحول نہ دیا جائے۔یہی احساس ان کی زندگی کا سب سے بڑا مشن بن گیا۔
انہوں نے ایک ایسا قدم اٹھایا جو اُس دور کے کسی بھی برطانوی افسر کے لیے غیر معمولی تھا۔ انہوں نے اپنی یورپی شناخت کو پسِ پشت رکھتے ہوئے ہندوستانی طرزِ زندگی اختیار کر لی۔ انہوں نے سالویشن آرمی کی روایتی وردی کے بجائے ہندوستانی فقیر کا زعفرانی لباس پہننا شروع کیا، مقامی زبانیں سیکھیں، عام لوگوں کے درمیان رہنے لگے اور خود کو “فقیر سنگھ” کہلوانا پسند کیا۔ان کا مقصد صرف لباس بدلنا نہیں تھا۔وہ چاہتے تھے کہ ہندوستان کے محروم لوگ انہیں ایک اجنبی انگریز افسر کے طور پر نہیں بلکہ اپنے ہی معاشرے کے ایک ہمدرد انسان کے طور پر قبول کریں۔
ان کی تعلیمات کا مرکز ایک ہی پیغام تھا:
خدا کی نظر میں ہر انسان برابر ہے۔
یہ پیغام خاص طور پر اُن لوگوں کے دلوں تک پہنچا جو صدیوں سے ذات پات کے نظام میں محرومی اور تضحیک کا شکار تھے۔ ہزاروں افراد نے نہ صرف ان کی تعلیمات کو قبول کیا بلکہ انہیں اپنا رہنما بھی مانا۔
لیکن فریڈرک بوتھ ٹکر صرف مبلغ نہیں تھے۔وہ ایک غیر معمولی منتظم، سماجی مصلح اور دور اندیش منصوبہ ساز بھی تھے۔
انہوں نے محسوس کیا کہ اگر نئے مسیحیوں کو واقعی ایک باوقار زندگی دینی ہے تو صرف عبادت گاہیں قائم کرنا کافی نہیں ہوگا۔ انہیں ایسی بستیاں بھی درکار ہوں گی جہاں وہ ذات پات کے امتیاز سے آزاد ہو کر اپنی محنت، تعلیم اور ایمان کی بنیاد پر زندگی گزار سکیں۔
یہیں سے منصوبہ بند مسیحی آبادکاری (Christian Settlement Movement) کا تصور پیدا ہوا۔
اسی نظریے کے تحت بہت سارے علاقوں کے ساتھ ساتھ آج کے جنوبی پنجاب میں بھی دو ایسی نئی بستیوں کی منصوبہ بندی کی گئی جہاں برصغیر کے مختلف علاقوں سے آنے والے نئے مسیحی خاندان ایک نئی شروعات کر سکیں۔
یہ بستیاں  بعد میں “شانتی نگر”  اور “امرت نگر ” کے نام سے دنیا کے سامنے آئی جن کا نام ان کی دو بیٹیوں ،شانتی بائی اور امرت بائی کے نام سے رکھا گیا. سالویشن آرمی نے لوئر باری دوآب کالونی کے منصوبے کو مدنظر رکھتے ہوئے برطانوی حکومت سے اس علاقے میں تقریباً 110 مربع اراضی خریدی۔ فریڈرک بوتھ ٹکر کی رہنمائی میں آبادکاری کے ماہرین، انجینئرز اور سالویشن آرمی کے افسران نے ایک جدید منصوبہ تیار کیا۔ گلیوں، رہائشی علاقوں، زرعی زمینوں، چرچ، اسکول، ڈسپنسری، پانی کی فراہمی اور دیگر بنیادی سہولیات کو پہلے نقشے پر ترتیب دیا گیا، پھر زمین پر ان کی تعمیر شروع ہوئی۔یہ اپنے دور کے لحاظ سے ایک جدید اور منظم منصوبہ تھا۔
جب برصغیر کے مختلف علاقوں، خصوصاً جالندھر، گورداسپور، لدھیانہ، امرتسر، ہوشیارپور، شاہ پور اور دیگر علاقوں سے خاندان شانتی نگر پہنچے تو وہ کسی بے ترتیب بستی میں نہیں بلکہ ایک پہلے سے منصوبہ بند گاؤں میں داخل ہوئے۔ انہیں باقاعدہ رہائشی پلاٹ، زرعی زمین اور نئی زندگی شروع کرنے کا موقع دیا گیا۔فریڈرک بوتھ ٹکر کی ایک اور قابلِ ذکر سوچ یہ تھی کہ آبادکاروں کو زمین اور مکانات مکمل طور پر مفت نہ دیے جائیں، بلکہ معمولی اور طویل المدتی اقساط پر فراہم کیے جائیں تاکہ ان میں خودداری، ذمہ داری اور ملکیت کا احساس پیدا ہو۔ بعد میں ضرورت مند خاندانوں کی بہت سی اقساط معاف بھی کر دی گئیں، لیکن اس ابتدائی حکمتِ عملی نے لوگوں کے دلوں میں اپنی زمین اور اپنے گاؤں سے ایک گہرا تعلق پیدا کیا۔ان کی غیر معمولی سماجی خدمات کے اعتراف میں 1913ء میں وائسرائے ہند لارڈ ہارڈنگ نے انہیں کائزرِ ہند گولڈ میڈل (Kaisar-i-Hind Gold Medal) سے نوازا، جو اُس دور میں عوامی خدمت کے لیے دیا جانے والا برطانوی ہندوستان کا ایک نہایت باوقار اعزاز تھا۔ بعد ازاں 1920ء میں سالویشن آرمی نے بھی انہیں اپنا اعلیٰ ترین اعزاز آرڈر آف دی فاؤنڈر (Order of the Founder) عطا کیا، جو اُن افراد کو دیا جاتا ہے جن کی خدمات ادارے کی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہوں۔
17 جولائی 1929ء کو فریڈرک بوتھ ٹکر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
لیکن کچھ لوگ اپنی زندگی میں عمارتیں تعمیر کرتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ نظریات تعمیر کرتے ہیں۔فریڈرک بوتھ ٹکر نے صرف ایک گاؤں نہیں بسایا۔انہوں نے ایک ایسا خواب دیکھا جہاں ایک انسان کی پہچان اس کی ذات، نسل یا سماجی حیثیت نہیں بلکہ اس کا ایمان، کردار، تعلیم اور محنت ہو۔شانتی نگر اسی خواب کی تعبیر تھا۔یقیناً شانتی نگر کی تعمیر صرف ایک فرد کی کوشش کا نتیجہ نہیں تھی۔ ڈاکٹر مہدی خان، ولیم ایڈون کارٹر، سالویشن آرمی کے بے شمار افسران، انجینئرز، مقامی کارکنوں اور سینکڑوں آبادکار خاندانوں نے اپنی محنت سے اس خواب کو حقیقت میں بدلا۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر فریڈرک بوتھ ٹکر یہ خواب نہ دیکھے، اگر وہ ذات پات سے آزاد ایک باوقار مسیحی بستی کا تصور پیش نہ کرتے، تو شاید شانتی نگر کی تاریخ بھی کبھی وجود میں نہ آتی۔آج ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی شانتی نگر کی گلیاں، اس کے کھیت، اس کے تعلیمی ادارے، اس کے گرجا گھر اور اس کے لوگ خاموشی سے اس شخص کی یاد دلاتے ہیں جس نے کبھی ایک ویران زمین پر صرف ایک گاؤں نہیں، بلکہ امید، برابری اور انسانی وقار کا خواب بویا تھا۔

( اگلی قسط میں ہم ان پہلے خاندانوں کی کہانی بیان کریں گے جنہوں نے اپنے آبائی شہر، زمینیں اور پرانی زندگیاں چھوڑ کر شانتی نگر کو اپنا نیا گھر بنایا، اور ایک خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اس ویران زمین پر قدم رکھا۔)

Author

Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author