مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


طوفان نوح کی بازگشت….

طوفان نوح کی بازگشت….

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

خالد شہزاد
حضرت نوح کے دور میں بے ایمانی، بے راہ روی، ظلم و جبر، نا فرمانی اور گناہ اتنا بڑھ گیا جسکی وجہ سے خدا نے حضرت نوح کے زریعے بارہا لوگوں کو معافی کی تلقین کی ، لیکن لوگ باز نا آئے۔ پھر خدا نے طے کر لیا کے وہ اس ملک کو تباہ کریگا، اسی لیے بادوباران آنے سے پہلے خدا نے حضرت نوح کو ہدایت کی کہ وہ کشتی بنائے اور اپنے خاندان کے ساتھ ہر جاندار کا ایک ایک جوڑا لے اور اپنی کشتی میں رکھ لے، سو جب کشتی مکمل تیار ہو گئی تو پھر خدا نے اس ملک پر بے تحاشہ بارش برسائی جسکی بدولت سارا ملک ڈوب گیا۔یہی حال آج کل پاکستان کے چرچ کا اور کلیسیا کا ہے، مومنین غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن بیشپ، پادری، ایلڈر اور مبشران انجیل بے تحاشہ مال و دولت کما رہے ہیں اور چرچ کی عزت و ناموس، سالمیت اور خدا کے ساتھ کیے گئے چوپانی وعدے بھول گئے ہیں، خاص طور سے چرچ آف پاکستان کے ماڈریٹر بیشپ آزاد مارشل کا طرز عمل نا صرف چوپانی پاسبانی کے خلاف ہے بلکہ وہ کسی بھی طور سے اپنے فیصلوں پر مغل بادشاہوں کی پیروی کرتے ہوئے زور جبر سے عمل درآمد کرانے کے جنون کا شکار ہیں۔ ماضی میں چرچ آف پاکستان میں بھی سفارش، نرگسیت، فرعونیت کسی حد تک موجود تھی لیکن اسکے باوجود سابقہ ماڈریٹروں نے چرچ آف پاکستان کے اتحاد، بھائی چارہ اور پاسبانی خدمت پر آنچ نا آنے دی۔ کیا موجودہ دور میں بیشپ آزاد مارشل خود احتسابی، شفافیت اور فرعونیت کے زور پر چرچ کے اتحاد کو برقرار رکھ پائینگے یا کہ خدا کے قہر کو آواز دے کر کسی طوفان کے اسباب کو دعوت دے رہے ہیں؟ کیا عدالتوں کے زریعے مخالفین بیشپوں پر دباؤ بڑھا کر یا سوشل میڈیا پر بیشپوں کی کردار کشی کروا کر اس آگ سے خود محفوظ رہ لائینگے؟
تاریخ کا یہ المیہ رہا ہے کہ جب جب انسان نے عدل، صداقت اور پاسبانی فریضے کی جگہ طاقت،گھمنڈ اور نعفرت کو دعوت دی، تب تب تباہی اور بربادی اس کا مقدر بنی۔ حضرت نوح علیہ السلام کے دور کا قصہ محض ایک داستان نہیں بلکہ کائنات کا ایک ابدی اصول ہے، جب بے راہ روی، نا فرمانی اور خود غرضی اپنے عروج کو پہنچتی ہے تو معافی اور مہلت کا وقت ختم ہو جاتا ہے۔ خدا نے حضرت نوح کو کشتی بنانے کی ہدایت دی اور پھر باد و باران کے ایک عظیم طوفان نے سرکشی اور ناانصافی کو اپنے اندر غرق کر دیا۔آج اگر پاکستان کی مسیحی برادری اور خصوصاً “چرچ آف پاکستان” کے موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو صورتحال اس طوفانی موڑ سے کچھ مختلف نظر نہیں آتی۔ ایک طرف کلیسیا اور عام مومنین خط غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور نانِ شبینہ کے محتاج ہیں؛ تو دوسری طرف اداروں کی مسندوں پر براجمان بیشپ، پادری، ایلڈر اور مبشرین بے تحاشہ مال و دولت، املاک اور دنیاوی اختیارات کی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں۔ خدا کے ساتھ کیا گیا چوپانی عہد، کلیسیا کی عزت و ناموس اور خادم ہونے کا احساس اس مادی دور میں کہیں بلا چکے ہیں ،خصوصی طور پر چرچ آف پاکستان کے موجودہ ماڈریٹر، بیشپ آزاد مارشل کا طرزِ عمل پاسبانی اصولوں اور مسیحی تعلیمات کے برعکس ایک تشویشناک صورتِ حال اختیار کر چکا ہے۔ فیصلے مشاورت، رحم اور محبت کے بجائے زور، جبر اور ایک طرح کی شاہانہ انانیت کی بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔ چرچ کی تاریخ میں سفارش، نرگسیت اور شخصی غلبہ ماضی میں بھی کسی حد تک موجود رہا، لیکن سابقہ ماڈریٹروں اور انتظامی سربراہان نے باہمی اختلافات کے باوجود چرچ کے اتحاد، بھائی چارے اور پاسبانی خدمت پر کبھی آنچ نہیں آنے دی۔ انہوں نے کلیسیا کے تقدس کو طاقت کی نمائش کا ذریعہ بنانے سے پرہیز کیا۔آج جو سب سے اہم اور تلخ سوال سامنے کھڑا ہے وہ یہ کہ:کیا بیشپ آزاد مارشل فرعونیت، خود احتسابی سے فرار اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے چرچ کا اتحاد برقرار رکھ پائیں گے؟
یا وہ خدا کے قہر اور غضب کو آواز دے کر ایک ایسے طوفان کو دعوت دے رہے ہیں جس میں کوئی عافیت کی جگہ نہیں بچے گی؟
عدالتوں کے ذریعے مخالف بیشپوں پر دباؤ بنانا، قانونی چارہ جوئی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا اور سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے کی کردار کشی کروانا ایک ایسی آگ ہے جس کی لپیٹ سے خود جلانے والے بھی محفوظ نہیں رہ سکتے۔ ادارے جب عدالتوں کی کچہریوں اور سوشل میڈیا کی تذلیل کا مرکز بن جائیں تو وہاں روحِ القدس کا قیام ناممکن ہو جاتا ہے۔
بیشپوں، رہنماؤں اور کلیسیائی قیادت کی اس باہمی لڑائی، ذاتی انا اور وسائل کی لوٹ مار کی بدولت مظلوم کلیسیا ایک ایسے طوفانِ نوح کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں تباہی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ اگر اب بھی خود احتسابی، شفافیت، توبہ اور چوپانی خدمت کی طرف واپسی کا راستہ اختیار نہ کیا گیا تو چرچ آف پاکستان کا ہیکل اندر سے کھوکھلا ہو کر زمین بوس ہو جائے گا۔اس ممکنہ طوفان اور ادارہ جاتی بربادی سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر چند بنیادی اور انقلابی اصلاحات کی جائیں تاکہ چرچ اپنی اصل پاسبانی اور خادمانہ روح کی طرف لوٹ سکے، اندرونی خود احتسابی اور مالی شفافیت (Audit & Accountability)
چرچ کی تمام املاک، ٹرسٹ اور گرانٹس کا ایک آزاد اور غیر جانبدارانہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے مالیاتی آڈٹ کرایا جائے۔ بیشپ، پادری اور تمام انتظامی عہدیداروں کے لیے اپنے اثاثے ظاہر کرنا لازمی قرار دیا جائے تاکہ کلیسیا کا کھویا ہوا اعتماد بحال ہو سکے۔
قانونی جنگوں اور کردار کشی کا فوری خاتمہ، ایک دوسرے کے خلاف عدالتوں میں دائر مقدمات اور سوشل میڈیا پر جاری میڈیا وار کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ مسیحی تعلیمات کے مطابق باہمی تنازعات کے حل کے لیے چرچ کے اندر ایک بااختیار “مصالحتی کونسل” تشکیل دی جائے جو عدالتوں کے بجائے بائبل مقدس کے اصولوں کے تحت فیصلے کرے۔ جمہوری اور شراکتی طرزِ حکمرانی (Participatory Governance)ایک فرد کے پاس تمام اختیارات کی تمرکز کے بجائے سنڈ ڈائیوسس کونسلوں اور عام کلیسیائی ارکان کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے۔ ماڈریٹر کے اختیارات کی حد بندی کی جائے تاکہ شاہانہ فیصلوں کے بجائے باہمی مشاورت کی روایت قائم ہو۔
کلیسیائی فلاح و بہبود پر ترجیحی توجه:
چرچ کے مالی وسائل اور املاک سے حاصل ہونے والی آمدن کو بیشپوں یا اعلیٰ عہدیداروں کی آسائشوں کے بجائے غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والی کلیسیا کی تعلیم، صحت، روزگار اور اسکالرشپس پر خرچ کیا جائے۔پاسبانی خدمت اور روحی بیداری کا احیاء قیادت کو دنیاوی سیاست اور اقتدار کی کشمکش سے نکل کر اپنے اصل فریضے یعنی “چوپانی خدمت” کی طرف لوٹنا ہو گا۔ توبہ، عاجزی اور خادمانہ طرزِ زندگی کو اختیار کر کے ہی خدا کے قہر اور آنے والے طوفان سے بچا جا سکتا ہے۔اگر اب بھی چرچ آف پاکستان کی قیادت نے ذاتی انا کو بالائے طاق رکھ کر ان اصلاحی اقدامات کو نہ اپنایا، تو تاریخ اور آنے والی نسلیں ان رہنماؤں کو کبھی معاف نہیں کریں گی جنہوں نے کشتی بنانے اور کلیسیا کو بچانے کے بجائے طوفان کو دعوت دی

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author