مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


خیبر پختونخوا میں لاکھوں بچے تعلیم سے محروم۔۔۔ خیبر پختونخوا کی حکومت پر سوالیہ نشان

خیبر پختونخوا میں لاکھوں بچے تعلیم سے محروم۔۔۔ خیبر پختونخوا کی حکومت پر سوالیہ نشان

  Author Editor Hum Daise View all posts

 

مشعال خان
خیبرپختونخوا میں ایک طرف لاکھوں بچے آج بھی اسکول سے باہر ہیں، تو دوسری طرف جو خصوصی افراد مشکلات کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں، انہیں بھی امتحانی نظام میں مختلف رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
‎پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے تازہ HIES 2024-25 کے مطابق خیبرپختونخوا میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 28 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں، جبکہ لڑکیوں میں یہ شرح 37 فیصد تک ہے۔ (Pakistan Bureau of Statistics)‎حکومت نے بھی رواں سال صوبے میں 26 لاکھ بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ (DGIPRM)‎لیکن سوال یہ ہے کہ جو بچے اور نوجوان تمام مشکلات عبور کرکے تعلیم کے نظام تک پہنچتے ہیں، کیا ان کے لیے یہ نظام واقعی قابلِ رسائی اور منصفانہ ہے؟‎پشاور کے ناگمان ڈگری کالج کے بصارت سے محروم سیکنڈ ایئر کے طالب علم بلال احمد کا معاملہ اسی سوال کو جنم دیتا ہے۔ بلال کے حالیہ امتحانی نتیجے میں UFM یعنی Unfair Means کیس بنایا گیا، جس کے بعد اس کا ایک پیپر منسوخ جبکہ دوسرے پیپر میں صرف 10 نمبر دیے گئے۔‎بلال کے مطابق وہ بصارت سے محروم ہونے کی وجہ سے امتحان میں اپنی مدد کے لیے ایک طالب علم کو ساتھ لے کر گیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ آٹھویں جماعت کا طالب علم بیٹھا تھا، بغیر کسی ثبوت کے مجھ پر یو ایف ایم کیس بنایا گیاہے۔نقل کرتے وقت رول نمبر سے تصویر لی جاتی ہے لیکن نہ ایسا کچھ مجھے محسوس ہوا نہ کسی اور نے بتایا بلال کا کہنا ہے کہ اگر میں دیکھ نہیں سکتا تو باقی لوگ تو دیکھ سکتے تھے ان میں بھی کسی نے مجھے نہیں بتایا کہ تم پر یو ایف ایم کیس بنایا گیا‎بلال کا مؤقف ہے کہ اسے 21 اگست کو UFM کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں اس نے اپنی بصارت سے محرومی اور امتحان کے دوران پیش آنے والی مشکلات سے آگاہ کیا۔ اس کے مطابق کمیٹی کے چیئرمین نے اسے یقین دہانی کرائی کہ اس کا معاملہ کنٹرولر امتحانات کے سامنے رکھا جائے گا، لیکن اس کے باوجود اس کا پیپر منسوخ کر دیا گیا۔‎بلال سوال اٹھاتا ہے کہ اگر امتحانی ہال میں CCTV کیمرے موجود ہیں تو معاملے کی مکمل تحقیقات کیوں نہیں کی جاتیں؟ اس کا کہنا ہے کہ اگر اس نے یا اس کے ساتھ بیٹھے طالب علم نے نقل کی ہے تو CCTV فوٹیج اور دیگر شواہد سامنے لائے جائیں تاکہ حقیقت واضح ہو سکے۔‎بلال کے مطابق اس نے نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ کو اپنے ساتھ بٹھانے کی کوشش کی، لیکن وقت کم ہونے اور مناسب طالب علم نہ ملنے کے باعث اسے آٹھویں جماعت کے طالب علم کو ساتھ لانا پڑا۔ وہ سمجھتا ہے کہ خصوصی افراد کے لیے بورڈ کو امتحانات سے کچھ وقت قبل واضح اور مناسب انتظام کرنا چاہیے تاکہ بعد میں ایسے مسائل پیدا نہ ہوں۔‎اس کا کہنا ہے کہ حیات آباد میں اسپیشل ایجوکیشن کا امتحانی ہال موجود ہے جہاں خصوصی افراد امتحانات دیتے ہیں، لیکن مالی مشکلات کے باعث وہ وہاں کی سہولت حاصل نہیں کر سکا اور عام امتحانی مرکز میں امتحان دینے پر مجبور ہوا۔‎بلال کا کہنا ہے کہ UFM کیس کی وجہ سے اس کا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ یونیورسٹی میں داخلے کے لیے اس کے تقریباً 20 ہزار روپے فیس کسی اور شخص نے جمع کروائی تھی وہ بورڈ چیئرمین اور متعلقہ حکام سے اپنے کیس پر دوبارہ غور اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔
اس کا مزید کہنا ہے کہ اس معاملےپر ایکشن لینا ضروری ہے۔ اگر یہ بورڈ کی طرف سے کسی ادائیگی یا رقم کے معاملے کی وجہ سے ہو رہا ہے، تو اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔ مجھے بہت سے لوگوں نے بتایا ہے کہ UFM کیس ختم کرنے کے لیے تقریباً دو ہزار روپے لیے جاتے ہیں۔ مالی مشکلات کے باعث میں یہ رقم ادا نہیں کر سکتا۔‎بلال نے خصوصی افراد کے بارے میں معاشرے کے رویے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ بصارت سے محروم افراد کو اس نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ کیونکہ وہ خود “با ہمت الیکٹرک” کے نام سے کاروبار بھی چلا رہا ہے اور دیگر خصوصی افراد کے لیے بھی مواقع پیدا کرنے کا خواہش مند ہے۔‎یہ معاملہ صرف ایک طالب علم کے UFM کیس تک محدود نہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ جب حکومت ایک طرف لاکھوں بچوں کو اسکول واپس لانے کی کوشش کر رہی ہے، تو جو خصوصی افراد تعلیم کے نظام میں موجود ہیں، ان کے لیے امتحانات، رائٹرز، امتحانی مراکز اور UFM کارروائی کا نظام کتنا شفاف، قابلِ رسائی اور منصفانہ ہے؟

Author

Editor Hum Daise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos

Author