مدیراعلی: ندیم اجمل عدیم


عوام آرگنایزیشن کا افراد باہم معذوری کے توثیق شدہ معاہدہ پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ

عوام آرگنایزیشن کا افراد باہم معذوری کے توثیق شدہ معاہدہ پر فوری عملدرآمد کا مطالبہ

   

 

”ہم دیس رپورٹ”

افراد باہم معذوری کے لئے مختص 3%کوٹہ پر عملدرآمدی نظام کو مضبوط کرتے ہوئے شکایات سیل، فرنٹ ڈیسک آفیسر، اور معلومات ڈیسک سے متعلقہ آسامیوں پر خواتین باہم معذوری کو ترجیحی بنیادوں پر بھرتی کیا جائے۔لوکل گورنمنٹ میں افراد باہم معذوری کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ افراد باہم معذوری کی رجسٹریشن کے نظام کو ون ونڈو آپریشن کے ذریعہ سہل بنایا جائے۔افراد باہم معذوری سے متعلقہ سرکار ی عہدیدران و دفاتر کے درمیان رابطہ کاری کا نظام مضبوط کیا جائے۔ پبلک بلڈنگز، پبلک پارکس و شاپنگ پلازوں کو افراد باہم معذوری کے لئے قابل رسائی بنایا جائے۔ یہ مطالبات افراد باہم معذوری کے حقوق کے لئے کام کرنے والے اداروں بشمول عوام پاکستان، ڈریگ، CBIDنیٹ ورک اور چانن نیٹ ورک نے افراد باہم معذوری کے حقوق کے حوالہ سے اقوام متحدہ کے معاہدے کی توثیق کے 13سال مکمل ہونے پرایک میڈیا کانفرنس کے دوران شازیہ جارج، سونیا پطرس، الحاج چوہدری لطیف گل(کنوینیئر ڈریگ)، میاں افتخار احمد (جنرل سیکرٹری ڈریگ)، اور محمد یونس (فرد باہم معذوری) نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیے۔ شازیہ جارج نے کہا کہ گو کہ حکومت نے افراد باہم معذوری کے لئے کوٹہ مختص کر رکھا ہے، اور بہت ساری دوسری سہولیات کا اعلان بھی کیا ہوا ہے لیکن کوٹہ اور سہولیات تک رسائی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ خاص طور پر خواتین باہم معذوری کے لئے۔ مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین باہم معذوری کو مختلف حکومتی اسکیموں و کمیٹیوں میں نظر انداز کیا جاتا ہے نتیجتاً خواتین باہم معذوری کے ہاں ترقی کا گراف بہت کم ہے۔ سونیا پطرس نے کہا کہ افراد باہم معذوری کے حوالہ سے حکومت کی طرف سے کوئی بھی واضع پالیسی ابھی تک نہیں دی گئی۔حکومت کی طرف سے مختلف کمیٹیوں کا اجراء تو کیا گیا ہے کہ لیکن کمیٹیوں کے کام کرنے کے لئے کسی بھی قسم کے فنڈز مختص نہیں کیے گئے۔ الحاج چوہدری لطیف گل نے کہا کہ سابقہ پانچ برسوں میں ہم نے 8219افراد باہم معذوری کو معذوری کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں معاونت کی ہے لیکن ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ افراد باہم معذوری اس سرٹیفیکیٹ اور معذوری والے مونوگرام والے شناختی کارڈ کو لے کر کہاں جائیں۔ مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا دفتری نظام اور معاشرتی رویے افراد باہم معذوری کو بھیک مانگنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کیلئے مختص ملازمتوں کے کوٹہ پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے اور ایسی تمام آسامیاں جن کا تعلق بیٹھ کر کام کرنے سے ہیں افراد باہم معذوری کے لئے مختص کر دی جائیں۔ میاں افتخار احمد نے کہا کہ افراد باہم معذوری سے متعلقہ کئی قسم کے ابہام ہیں۔ سرکاری ادارے اپنے اعداد و شمار کو ڈیجیٹل نہیں کر پائے جس کی وجہ سے افراد باہم معذوری کی اصل تعداد سامنے نہیں آ پائی۔ محمد یونس نمائندہ افراد باہم معذوری نے کہا کہ افراد باہم معذوری کو خیراتی کاموں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ترقیاتی کاموں میں شامل کیا جائے۔ مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ افراد باہم معذوری کے لئے آسان قرضہ اسکیموں کا اجراء جیسے اقدام افراد باہم معذوری کو با اختیار بنا کر ایک پروقار زندگی کی یقین دہانی کروا سکتے ہیں۔

 

HumDaise
ADMINISTRATOR
PROFILE

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos